×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شہرۂ آفاق کہانیاں ’’پنچ تنتر‘‘ کا’’کلیلہ دمنہ ‘‘ تک سفر

ارديبهشت 14, 1393 496

’’پنچ تنتر‘‘ دنیا کی قدیم ترین سبق آموز کہانیوں کا مجموعہ ہے جو ہلکی پھلکی طنزیہ ومزاحیہ کہانیوں اور کہاوتوں کے ذریعہ نئی نسل کو زندگی

جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے اور بڑوں کو بھی غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ تقریباً دو ہزار دو سو پچاس سال قبل تحریر کی گئی اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ وقت وحالات کی کسوٹی پر آج بھی کھری اترتی ہے اور بچوں وبوڑھوں دونوں کے لئے یکساں طور پرمرکز توجہ بن جاتی ہے بلکہ بدلتے موسم مزاج اور رسم ورواج پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
    اس کتاب کو ’’پنچ تنتر‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ حصوں پر مشتمل ہے، ڈاکٹر ہرٹل کا دعویٰ ہے کہ’’ پنچ تنتر‘‘ آج اپنے حقیقی روپ میں موجود نہیں ہے، یہ بنیادی طور پر ’’تانتر ائیکا‘‘ نام کی ایک قدیم کتاب کی بعض کہانیوں، داستانوں اور روایتوں کا مجموعہ ہے ، اس کی اصل کتاب ۲۰۰ ق  م  کشمیر میںتالیف کی گئی تھی۔ جس کا ایک قلمی نسخہ دکن لائبریری پونا میں محفوظ ہے ۔ بیشتر ریسرچ اسکالر اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ اصل کتاب ایک طرح کی سیاسی اور سماجی تعلیم کے نصاب کی شکل میں نو عمر شہزادوں کیلئے لکھی گئی تھی لیکن اس کے ضائع ہوجانے کے بعد یاد داشتوں کی بنیاد پر ازسرنو ’’پنچ تنتر‘‘ مرتب کی گئی، اس میں بعض کہانیاں پرانی کتاب کی اور کچھ نئی شامل کی گئی ہیں جو ظاہر ہے کہ اپنی اصل سے مختلف ہیں۔
    موجودہ ’’پنچ تنتر‘‘ کس دور میں متعارف ہوئی اس بارے میں واضح طور پر کچھ کہنا دشوار ہے پھر بھی یہ دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں اس کتاب کی شہرت ہندوستان سے باہر پہونچ گئی تھی کیونکہ ایران کے شہنشاہ خسرو نوشیرواں کے حکم سے جس کا دور ۵۳۱ تا ۵۷۹ ء رہا، کتاب کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا گیا ۔ اس دعوے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پانچویں صدی عیسوی میں کتاب کی شہرت ہندوستان سے باہر پہونچ گئی تھی، یہاں تک کہ یہ کتاب حکمرانوں کی توجہ کا مرکز  بن گئی، تبھی شاہ خسرو نوشیرواں نے اس کتاب کا فارسی میں ترجمہ کرایا۔
    ایک روایت کے مطابق ’’پنچ تنتر‘‘ کو مرتب کرنے والے ودیاپتی کا زمانہ تین سو سال قبل مسیح ہے، دوسری روایت میں وشنو کرمان کے سر اس کتاب کو لکھنے کا سہرا بندھتا ہے، بعض محقق یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’پنچ تنتر‘‘ کی چند حکایتوں کو سب سے پہلے دو سو سال قبل مسیح کشمیر میں لکھا گیا۔ پہلوی زبان میں اسی سے ترجمہ ہوا ہے ، یہ کہانیاں لکھنے کی بھی دلچسپ تفصیلات ہیں، بتاتے ہیں کہ ہندوستان کی کسی ریاست کے ایک راجہ نے اپنے بیٹوں کی نااہلی اور غیر ذمہ داری سے عاجز آکر انہیں تعلیم وتربیت کے لئے ایک استاد کے سپرد کردیا، اس استاد نے چھ ماہ تک راجہ کے بیٹوں کو چھوٹے موٹے اور دلچسپ قصے سنائے اور ان میں باعمل و مقصدی زندگی گزارنے کا سلیقہ پیدا کیا ، پروفیسر لوئی رینو ’’پنچ تنتر‘‘ کی ہندوستان  سے باہر مقبولیت کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بیرون ملک اس کتاب کو بے مثال محبوبیت حاصل ہوئی ہے ۔ لاطینی، یونانی، فرانسیسی، اطالوی، عبرانی، ترکی اور انگریزی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوچکے ہیں، جن کی تعداد پچاس کے قریب اور ایڈیشنوں کا شمار دو سو سے زیادہ کیا گیا ہے۔ ان کے خیال میں مقدس آسمانی کتب کے بعد ’’پنچ تنتر‘‘ کو ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے اتنی زیادہ زبانوں میں پڑھا گیا اور پسندیدگی سے نوازا گیا۔
    ’’پنچ تنتر‘‘ کا پہلا ترجمہ فارسی زبان میں ’’انوارِ سہیلی‘‘ کے نام سے ہوا، اس کے بعد ۵۷۰ء میں شامی زبان میں یہ منتقل ہوئی، عربی زبان کے معروف ادیب ابن مقفع نے ’’کلیلہ دمنہ‘‘ کے نام سے اسے عربی کا قالب پہنایا جو ’’پنچ تنتر‘‘ میں گیدڑوں کے دو کردار’’ کرتک‘‘ اور ’’دمنگ‘‘ کا عربی ترجمہ ہے۔ شہنشاہ اکبر کے عہد میں خالد داد عباسی نے ’’پنچ تنتر‘‘ کا ترجمہ فارسی میں کرکے اس کا نام ’پنچ اکیانا‘‘ رکھا، اسی زمانے میں ابوالفضل نے ’’عیار دانش‘‘ کے نام سے آسان فارسی میں اسے منتقل کیا۔ سنسکرت میں ’’پنچ تنتر‘‘ کی اسلوبی سادگی کا جائزہ لیتے ہوئے بی کیتھ ’’اے ہسٹری آف سنسکرت لٹریچر‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ اس کتاب کا اسلوب اپنی برجستگی کے باعث دل کی گہرائیوں میں اترجاتا ہے ، نثر اور شاعری کی شگفتہ آمیزش کے ساتھ اس میں جن باتوں کو موضوع گفتگو بنایا گیا، ان میں کہانیوں کا حسن اور دلچسپی قائم رہتی ہے۔
    اسی لئے ’’پنچ تنتر‘‘ کو ہندوستان کے بیانیہ ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے، اس میں قصے اور کہانیوں کو بیان کرنے کے لئے اگرچہ نثر کا سہارا لیاگیا ، لیکن کہیں کہیں بات میں زور پیدا کرنے کے لئے نظم (اشعار) کا بھی استعمال ہے۔ کہانیاں اس طرح مرتب کی گئی ہیں کہ ایک کہانی کا سلسلہ دوسرے سے جاملتا ہے، پانچ حصے الگ الگ کہانیوں پر مشتمل ہیں جو ایک بنیادی داستان کا جزو ہیں یعنی یہ پانچوں کہانیاں مل کر داستان کو مکمل کرتی ہیں، اس کے بعد ہر کہانی میں کئی واقعات ہیں جو کہانی کے کردار ایک دوسرے کو سناتے ہیں، ان کہانیوں میں جانور، پرندے اور کیڑے مکوڑے سب انسانوں کی طرح کام انجام دیتے ہیں اور ان کے ہی مانند گفتگو کرتے ہیں، پہلی کہانی شیر اور بیل کی ہے، جس میں تیس چھوٹے چھوٹے قصے اور بھی موجود ہیں، جو دو گیڈر ایک دوسرے کو سناتے ہیں ، دوسری کہانی میں ایک کوے، چوہے، کچھوے اور ہرن کی دوستی کی داستان ہے، تیسری کہانی میں الوئوں اور کوئوں کے درمیان جنگ کا بیان ہے، چوتھی کہانی بندر اور مگرمجھ کی ہے، پانچویں حصے میں کوئی مرکزی کہانی نہیں ہے، اور اس کے قصوں کا لب ولہجہ بھی دوسری کہانیوں سے جداگانہ ہے، ایک کہانی کے اندر دوسری کہانی اور دوسری کہانی میں تیسری کہانی شامل کرنے کا اندازہ کہانی کار کی اپنی ایجاد ہے، جو ’’الف لیلیٰ‘‘ میں بھی ملتا ہے۔
    جہانتک پنچ تنتر کے عربی قالب ’’کلیلہ دمنہ‘‘ کا تعلق ہے تو ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ ’’ کتھا سرت ساگر‘‘ جیسا افسانوی مجموعہ بھی ’’کلیلہ دمنہ‘‘ کا ہی مرہون منت ہے، ا س کے واضح اثرات نظام الملک کے سیاحت نامہ سے لیکر ’’قابوس نامہ‘‘ ، ’’چہار مقالہ‘‘ ، ’’گلستاں‘‘، ’’بہارستاں‘‘  اور ’’خارستاں‘‘ پر بھی صاف نظر آتے ہیں۔ ’’کلیلہ دمنہ‘‘ کی تکنک اور اسلوب نگاری پر جتنی بحث ہوئی ہے، شاید ہی کسی دوسری کتاب پر ہوئی ہو اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ سنسکرت کی اصل کتاب ’’پنچ تنتر‘‘ کا پہلے پہلوی زبان میں نوشیرواں کے وزیر یزر جمہر نے ترجمہ کیا اور پہلوی زبان سے ابن مقفع نے اسے عربی زبان میں منتقل کیا، اکبر اعظم کے عہد میں ’’کلیلہ دمنہ‘‘ کے جو نسخے دستیاب تھے، انہیں سامنے رکھ کر ابوالفضل نے انہیں سادہ اور عام فہم زبان میں نئی ترتیب کے ساتھ فارسی کا جامہ پہنایا اور اس کا نام عیار دانش رکھا، اسی کا ترجمہ اردو میں ’’خرد افروز‘‘ کے نام سے حفیظ احمد نے کیا ہے، اسی طرح دکن میں بھی ’’کلیلہ دمنہ‘‘ کے کئی تراجم ہوئے ہیں۔ اس کتاب کے ’’پنچ تنتر‘‘ سے ’’کلیلہ دمنہ‘‘ تک کے سفر کو پیش نظر رکھ کر ملک الشعراء بہار نے صحیح کہا ہے کہ ’’دنیائے ادب میں کوئی ایسی کتاب نہیں جو اتنی مدت تک مقبول اور محبوب رہی ہو اور جس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ رہتی دنیا تک اس کی ہر دل عزیزی کا یہی عالم رہے گا، کسی قوم کی تخصیص نہیں، کسی زمانہ کی قید نہیں، کسی عہد کی شرط نہیں ہر جگہ، ہر وقت میں یہ تالیف دل پذیر مقبول رہی ہے، بادشاہوں نے اسے سبقاً سبقاً پڑھا ہے کیونکہ اس میں ہندوستان کی فکری اور ذہنی تاریخ محفوظ ہوگئی ہے اور یہاں کے دانشوروں کے تجربات کا اسے نچوڑ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔

عارف عزیز(بھوپال)

Last modified on چهارشنبه, 07 خرداد 1393 10:03
Login to post comments