×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کینسر یا سرطان ایک انتہائی موذی مرض ہے

مهر 16, 1392 1097

دنیا کے کونے کونے میں ماہرین، ڈاکٹر اور محققین اس موذی مرض کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں،لیکن ابھی تک اس کا فوری اور سستا طریقۂ

علاج ڈھونڈنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ گذشتہ ایک عشرے کے دوران اس مرض میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

 اگرچہ ماہرین ابھی تک اس مرض کا کوئی تسلی بخش علاج تلاش کرنے میں کام یاب نہیں ہو پائے ہیں، لیکن کچھ ایسی احتیاطی تدابیر ضرور ہیں جن پر عمل کیا جائے تو کافی حد تک اس مرض سے خلاصی مل سکتی ہے۔ زیرنظر تحریر میں ہم آپ کو ۱۸ایسی غذاؤں کے بارے میں بتاتے ہیں، جن کے اندر قدرت نے اس موذی مرض کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔

 ۱۔ بند گوبھی

 بند گوبی ایک صحت بخش غذا ہے جو نہ صرف آپ کو مضبوط بناتی ہے بلکہ اسے دوا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اندر موجود Indole-3-carbinol ، خواتین کے ایک خاص ہارمون، ایسٹروجن کا مقابلہ کرتی ہے۔ یہ ہارمون خواتین کے اندر چھاتی کے سرطان کا سبب بنتا ہے۔Indole-3-carbinol ایسٹروجن کے نقصان دہ اثرات کو مفید اجزاء میں بدل دیتا ہے۔

 ۲۔ گوبھی:

 پھول گوبھی کی طرح گوبھی کا شمار بھی صحت کے لیے مفید سبزیوں میں ہوتا ہے۔ یہ سبزی بھی کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گوبھی کو مثانے، چھاتی، آنتوں، غدود اور اووری کے سرطان کا مقابلہ کرنے والی غذا قرار دیا جاتا ہے۔

 ۳۔ مشروم یا کھمبی
مشروم کو وٹامن بی اور آئرن کا بہترین ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ذیابطیس، الرجی اور کولیسٹرول کا مقابلے کرتا ہے، رسولی سے تحفظ دیتا ہے، علاوہ ازیں یہ کینسر سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ دوران علاج سائڈ افیکٹس سے مقابلہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

 ۴۔ بروکولی (گوبھی کی ایک قسم)

 سلفورافین‘ نامی مرکب گوبھی یا اس سے ملتی جلتی سبزیوں میں پایا جاتا ہے جو کینسر سے نمٹنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ یہ مرکب رسولی کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

 ۵۔ گاجر:
گاجر کے اندر دو اجزاء بیٹا کیروٹین اور فالکارینول پائے جاتے ہیں، جو کہ کینسر کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن بعض تحقیقات کے مطابق بیٹا کیروٹین‘ کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے لیکن یہ ابھی تک حتمی نہیں ہے۔ گاجروں کا استعمال مختلف اقسام کے سرطان کا مقابلہ کرتا ہے جن میں منہ، گلے، پیٹ، آنتوں، مثانے، غدود اور چھاتی کا سرطان شامل ہے۔

 ۶۔ میٹھے آلو:
میٹھے آلوؤں کے اندر موجود بعض اجزاء پھیپھڑوں، مثانے، گردے، جگر اور چھاتی کے سرطان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 ۷۔ چکوترا
چکوترا عمومی طور پر ذیابیطس سے بچاؤ اور جسم کو توانا رکھنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کینسر کا مقابلہ کرنے والی غذا بھی ہے۔ بڑی آنت کے کینسر کو چکوترے کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ چکوترے کے اندر موجود ’’فلیونائیڈز‘‘ کینسر کے خلیوں کی افزائش کو آہستہ کر دیتی ہے۔ واضح رہے کہ دورانِ علاج دواؤں کے ساتھ چکوترے کا استعمال مضر بھی ہو سکتا ہے۔

 ۸۔ انگور
انگوروں کی کینسر کا مقابلہ کرنے والی غذا کے طور پر تحقیق اب ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ انگور کے بیج میں proanthocyanidins نامی کیمیکل آنتوں کے سرطان، غدود یا پروسٹیٹ کینسر اور چھاتی کے سرطان کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

 ۹۔ ٹماٹر

 ٹماٹر وٹامن اے، سی اور ای کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے لیکن اس کے اندر کینسر کا مقابلہ کرنے والا ایک ’’جز‘‘ بھی پایا جاتا ہے، جسے lycopene کہتے ہیں۔ یہ فری ریڈیکل اور کینسر کے خلیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ٹماٹر کے اندر موجود وٹامن سی اُن خلیوں کو تباہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جو آگے چل کر کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں دیگر اجزاء چھاتی کے سرطان، غدود یا پروسٹیٹ کینسر، منہ، لبلبہ اور مثانے کے کینسر سے تحفظ فراہم کر تے ہیں۔

 ۱۰۔ چیری اور اسٹابریز
چیری اور اسٹابریز کے اندر موجود اجزاء بھی کینسر سیلز بالخصوص پیٹ کے سرطان، بڑی آنت کے سرطان اور چھاتی کے سرطان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کے اندر موجود Ellagic acid جلد، مثانے، پھیپھڑوں اور غذائی نالی کے سرطان کے خلاف ایک مہلک ہتھیار ہے۔

 ۱۱۔ پپیتا:

 پپیتے کے اندر موجود دو مرکبات ’’بیٹا کیروٹین‘‘ اور لائیکو پین ’’فری ریڈیکلز‘‘ کا مقابلہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک اور مرکب Isothiocyanates بھی خیلوں کو کینسر سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایک طرح سے پپیتا کینسر سے بچاؤ کا ایک بہترین پھل ہے۔

 ۱۲۔ نارنجی اور لیمو

 نارنجی کے اندر limonene نامی اجزاء کینسر کا مقابلہ کرنے والے خلیے پیدا کرتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں فری ریڈیکلز کا مقابلہ کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔

 ۱۳۔ السی کے بیچ
السی کے بیج کینسر کے خلیوں کو پیدا ہونے اور بڑھنے سے روکتے ہیں۔ اسے غدود یا پروسٹیٹ کینسر اور چھاتی کے سرطان کا علاج سمجھا جاتا ہے ۔

 ۱۴۔ لہسن:

 لہسن پیٹ کے کینسر، بڑی آنت، غذائی نالی، لبلبے اور چھاتی کے سرطان کے خطرات کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

 ۱۵۔ ہلدی:

 ہلدی کے اندر Curcumin پایا جاتا ہے جو کہ عمل تکسید کو روکنے والا ایک طاقت ور عامل ہے۔ اس کا کام کینسر کی افزائش اور اس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، لیکن اس شعبے پر ابھی تحقیق جاری ہے۔ تاہم بھارت میں روایتی طریقے سے علاج کر نے والوں کا کہنا ہے کہ ہلدی کے اندر بہت سی دواؤں کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

 ۱۶۔ سبز چائے:
ممکن ہے کہ سبز چائے کو اب تک لوگ وزن گھٹانے ہی کے لیے استعمال کرتے رہے ہوں لیکن اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سبز چائے کینسر کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

 ۱۷۔ سویابین:
سویابین کے اندر موجود کچھ اجزاء کو غدود اور چھاتی کے سرطان کو روکنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔ کینسر کے علاوہ سویابین کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔

 ۱۸۔ تربوز:
Lycopene
نامی مرکب ٹماٹر کے ساتھ ساتھ تربوز میں پایا جاتا ہے۔ یہ مرکب کینسر سے نمٹنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔

Last modified on سه شنبه, 20 خرداد 1393 11:06
Login to post comments