×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

روزہ دماغی صحت اور کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے

تیر 10, 1393 518

لندن ،روزہ دماغ کی صحت اور کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔ ایک نئی ریسرچ میں انکشاف ہوا کہ ہفتے میں ایک یا دو بار کسی قسم کی

خوراک نہ دکھانے سے دماغ الزائمر اور پارکنسن جیسی بیماریوں کے شدید اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریجنگ کے پروفیسر مارک میٹسن نے کہا کہ قطر جیسے اسلامی ملک میں رہنے کے فائدے ہمیں حاصل نہیں جہاں ماہ رمضان میں اوقات کار صرف 5 گھنٹے پر محیط ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں روزے کا دورانیہ دگنا یعنی 19 گھنٹے ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ سریبرال اثرات ہیں۔ سائنس دانوں میں یہ یقین فروغ پا رہا ہے کہ روزہ زندگی کی طوالت میں 15 سے 30 فیصد اضافہ کرسکتا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریجنگ بالٹی مور میں ریسرچرز نے کہا کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ ہفتے میں ایک، دو روز کسی قسم کی خوراک نہ لینے کے دورانیے میں دماغ الزائمر اور پارکنسن کے شدید اثرات سے تحفظ دیتا ہے۔ روزہ سیلز پر اچھے اثرات ڈاتا ہے۔ جب لوگ روزہ رکھتے ہیں تو اس سے ایڈایٹیو سٹریس رسپانسز میں اضافہ ہوجاتا ہے اور دماغی صحت و کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جب خوراک دستیاب نہ ہو تو پھر جگر کیٹونیس نامی کیمیکلز جسمانی چربی کو استعمال کرتے ہوئے بنانا شروع کردیتا ہے جو ہیومن برین کے لیے انتہائی موثر ایندھن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے ڈی ٹاکسیفیکشن بڑھ جاتی ہے اور برین پرو ایکٹیو اینٹی آکسیڈنٹس کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کیٹوینس آپ کو زیادہ مستعد اور چالاک بناتے ہیں۔ رمضان میں دنیا بھر میں تمام مسلمان روزے رکھتے ہیں۔ یہ دلچسپ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ روزہ (فاسٹنگ) ہمیشہ انسانی تجربات کا حصہ رہا ہے۔ حتیٰ کہ بنجمین فریفکلن اس کے زبردست وکیل رہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ دماغ کی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے۔ عظیم فلاسفر پلیٹو کا کہنا تھا کہ میں جسمانی اور دماغی استعداد میں اضافہ کے لیے روزہ رکھتا ہوں۔

Login to post comments