×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (حصّہ سوّم )

مهر 19, 1392 441

طریقہ علاج جس طرح پی ٹی ایس ڈی کے دونوں  ذہنی اور جسمانی پہلو ہیں اسی طرح اس کے علاج کے بھی دو مختلف طریقہ کار ہیں ۔

 نفسیاتی طریقہ علاج

 Psychotherapy

 تمام ایسے نفسیاتی طریقہ علاج جو اس مرض میں کار آمد  ہیں وہ اس سانحے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جس کی وجہ سے پی ٹی ایس ڈی کی علامات نمودار ہوئیں ۔ ان میں ماضی کی زندگی پر بہت زور نہیں دیا جاتا۔ ان واقعات کو تبدیل کیا یا بھلایا تو نہیں جا سکتا جو پیش آ چکے ہیں مگر یہ طریقہ علاج اس حادثے کے بارے میں، اپنے بارے میں اور دنیا کے متعلق سوچنے کے انداز اور طریقوں کو بدلنے میں مدد دیتے ہیں۔

 ضروری ہے کہ انسان اس المناک سانحے کو خوف اور دہشت کے احساسات سے مغلوب ہوئے بغیر پوری تفصیل سے یاد کر سکے۔ نفسیاتی طریقئہ علاج  آپ کو سکھاتا ہے کہ کس طرح اس المناک اور خوفناک سانحے  کو لفظوں میں بیان کیا جائے۔ ان تکلیف دہ واقعات  کو یاد کرکے اور ان کو بار بار سمجھنے کی کوشش کر نے سے انسان کا ذہن اپنا صحیح کام کرنے لگتا ہے یعنی کہ اس واقع کی یادوں کو دماغ کے معمول کے حصوں میں محفوظ کر لیتا ہے تاکہ ذہن اور کاموں کے لیے فارغ ہو جائے۔

 اگر مریض اپنے آپ کو  دوبارہ سے محفوظ سمجھنا شروع کر دے اور اسے اپنے جذبات و احساسات  پر پھر سے قابو  حاصل ہو جائے تو تو اسے ان واقعات کی یادوں سے اتنا زیادہ گریز کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔آہستہ آہستہ اسے ان یادوں پر اتنا کنٹرول ہو جاتا ہے کہ صرف جب وہ چاہتا ہے تب ہی ان یادوں کے بارے میں سوچتا ہے اور اس سانحے کی یادیں ہر وقت اس کے ذہن پر حملہ نہیں کرتی رہتیں۔

 کاگنیٹیو بیہیویئرل تھراپی (سی بی ٹی) ایک طرح کا نفسیاتی طریقہ علاج ہے جو پی ٹی ایس ڈی کے علاج میں مفید ہے۔ یہ طریقہ علاج مریض کو اپنی یادوں کے بارے میں مختلف انداز میں سوچنے میں مدد دیتا ہے تاکہ یہ یادیں اور خیالات کم اذیت ناک اور قابل برداشت ہو جائیں۔اس میں عام طور سے اپنی گھبراہٹ کو کم کرنے کی ورزشیں بھی سکھائی جاتی ہیں تاکہ مریض اس المناک سانحے کے بارے میں بہت زیادہ گھبراہٹ کا شکار ہوئے بغیر بھی سوچ سکے۔

 آئی موومنٹ ڈی سینسٹائزیشن اور ری پراسیسنگ  (Eye Movement Desensitisation & Reprocessing)بھی ایک نفسیاتی طریقہ علاج ہے. اس میں آنکھوں کی حرکت کی مدد سے دماغ میں ان یادوں اور احساسات سے نمٹنے میں مدد لی جاتی ہے تاکہ دماغ  میں بار بار آنے والی اذیت ناک یادیں کم ہوں ۔ یہ طریقہ علاج تھوڑا عجیب سا تو محسوس ہوتا ہے مگر اسے موثر پایا گیا ہے ۔

 گروپ تھراپی میں انفرادی طور کے بجائے اس طرح کے اور مریضوں کے ساتھ نفسیاتی علاج کیا جاتا ہے جو اسی طرح کے المناک سانحے سے گزرے ہو ئے ہوں۔ یہ احساس کہ گروپ میں موجود دوسرے لوگ شاید اس کے احساسات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہوں کیونکہ وہ بھی ملتے جلتے سانحات سے گزرے ہوتے ہیں مریض کو اس سانحے کے بارے میں تفصیل سے بات کرنے میں مدد کرتا ہے۔

 ادویات

  ایس ایس آر آئی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات اس مرض کی علامات کی شدت اور اس سے ملحقہ ڈپریشن کے احساس کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔   اگر ان سے افاقہ محسوس ہو تو کم از کم  بارہ ماہ تک ان کا استعمال جاری رکھنا چاہئے۔ اگر اس گروپ یعنی ایس ایس آر آئی سے فائدہ نہ ہو تو دوسری اینٹی ڈپریسنٹ ادویات  بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

 بعض اوقات بیماری اور علاج کے ابتدائی ایام میں مریض اتنا بے چین اور پریشان محسوس کرتے ہیں کہ وہ نہ سو سکتے ہیں اور نہ کچھ سوچ سکتے ہیں۔ اس صورت میں دس بارہ دنوں کے مختصر عرصے کے لئے پر سکون کرنے والی ادویات بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

 کونسے طریقہ علاج موثر ہیں؟

 سی بی ٹی ، ای ایم ڈی آر اور اینٹی ڈپریسنٹ کے موثر ہونے کے بارے میں تحقیقی ثبوت موجود ہیں۔ اس بارے میں ابھی مناسب ثبوت نہیں کہ ان میں سے کونسا طریقہ علاج زیادہ بہتر ہے۔ باقی طریقہ علاج اور کونسلنگ کے اس مرض میں موثر ہونے کے بارے میں ابھی کوئی تحقیق ثبوت موجود نہیں ہے۔

 دوستوں ، عزیزوں اور جاننے والوں  کے لئے کیا کرنا چاہیے؛

 متاثرہ فرد کے رویے میں ان تبدیلیوں  پر توجہ دیں، یہ ان کے حادثے سےشدید متاثر ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں؛  کارکردگی میں فرق آنا ، رویہ میں تبدیلی آنا ، کام پر دیر سے آنا ، بار بار کام سے چھٹی لینا ،   چھوٹے چھوٹے حادثوں میں بار بار ملوث ہوتے رہنا ۔

 ان باتوں پہ توجہ دیں؛ بڑھتا ہوا غصہ ، چڑچڑاپن ، ڈپریشن ، توجہ مرکوز نہ کر پانا

 متاثرہ فرد کو سانحے کے بارے میں بات کرنے کا موقع دیں ۔

 ان سے بات کرنے سے گریز نہ کریں اور روزمرہ کی بات چیت جاری رکھیں

 ان کی بات مکمل ہونے دیں، بیچ میں نہ ٹوکیں۔ ان کی بات کو روک کر اپنے مشاہدے سے موازنہ نہ کریں 

 کیا نہیں  کرنا چاہیے؟

 حادثے سے متاثرہ فرد کو یہ جتلانا کہ آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وہ کیا محسوس کر رہے ہیں۔ کیونکہ ہر انسان کے احساسات منفرد ہوتے ہیں

 یہ احساس دلانا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی جان بچ گئی ۔ یہ بات ان کی جھنجھلاہٹ کو بڑھا سکتی ہے

 ان کے احساسات اور تکالیف کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرنا مثلاً یہ کہنا کہ "اب اتنا برا بھی نہیں ہوا۔  بس  اب اپنے اوپر قابو پاؤ، وغیرہ"

کتابچہ      رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے
ترجمہ:     ڈاکٹر روحی افشاں، ڈاکٹر مسعود خان
مدیر:     ڈاکٹر سید احمر

Last modified on دوشنبه, 19 خرداد 1393 12:11
Login to post comments