×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

تمباکونوشی دمہ کے مرض میں شدت پیدا کرسکتی ہے

آبان 21, 1393 420

حساسیت کی دو اقسام ہیں۔Chronic Candition – Acute ConditionAcute وہ ہیں جن کا علاج فوری ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی مخصوص

شے کھاتے ہی قے ہو جانا۔ جلد پر تیز ریایکشن ہو جانا۔ آدھے سرکا دردیاجس کا انرفوری ظاہر ہوتا ہے۔ Chronic الرجی یا اس کے اثرات طویل عرصہ تک رہتے ہیں۔ مثلاً نزلہ، گلے میں خراش جوڑوں میں درد جلد پر دھبے پڑنا۔
الرجی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا سسٹم Body immumity sysytem ہے۔ اس کے بعد نروس سسٹم، نظام نفس اور کارڈیو و اسکولر سسٹم کو متاثر کرتا ہے۔ ہر سسٹم کے متاثر ہونے سے مختلف علامات و شکایات پیدا ہوتی ہیں۔ جو زیادہ تر جلدی امراض کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔
الرجی پیدا کرنے والے عوامل:
ہوا سے الرجی کو environmental الرجی کہتے ہیں۔ Smell dust، کارپیٹ دھواں کاٹن ڈسٹ، پھپھوندی، جانوروں اور پرندوں کے بال پر روم اسپرے باریک کیڑے nites food الرجی کسی مخصوص شے کے کھانے سے ہوتی ہے۔
میڈیسن سے الرجی مثلاً سلفاڈرگ سے الرجی۔
A/C میں اگر الرجی کنٹرول فلٹر نہ لگا ہو تو الرجی پیدا کر نے والے ذرات A/C کی ہوا کے ساتھ نکل کر کارپیٹ میں مستقل طور پر جمع ہو جاتے ہیں خصوصاً فوم کے تکیہ میں ۔الرجی کی کچھ اقسام والدین سے بچوں کو منتقل ہو جاتی ہیں۔ اگر علاج نہ کرایا جائے تو جسم میں پھیل جاتی ہے۔ اگر جسم کا دفاع نہ کرپائے تو علامات و شکایات پیدا ہوتی ہیں۔
اسموکنگ،الرجی سے پیدا ہونے والے امراض :
دمہ۔ Asthma:
اس مرض میں پھیپھڑے صحیح کام نہیں کرتے۔ Lungs میں ہوا کی بڑی نالیاں اور چھوٹی نالیاں بھی تنگ ہو جاتی ہیں اس طرح ہوا کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے اور مریض تنگی نفس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جب کوئی جرثومہ (GERM) یا الرجینز مثلاً Lungs Pellen میں داخل ہوتے ہیں تو مدافعتی سسٹم Anti bodies پیدا کرتا ہے اسے Immunoglobin یا Ige کہتے ہیں Ige مالیکیولز Mast cells کے ساتھ Combination بناتے ہیں Mast cells + Ige مل کر اس جرثومہ کو تباہ کر دیتے ہیں۔جب جرثومہ کے خلاف مدافت کرتے ہیں تو ماسٹ سیلز ایک کیمیائی مادہ Histamine ہسٹامین خارج کرتے ہیں یہ مادہ لنگس Lungs میں جلن اور سوزش پیدا کرتے ہیں جس سے ہوا کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور گاڑھی رطوبت (بلغم) پیدا کرتے ہیں نالیاں اس سے تنگ ہوتی ہیں تاکہ کھانسی آئے اور گاڑھی رطوبت اس لیے بنتی ہے تاکہ جراثیم۔ یا آلودگی وغیرہ اس رطوبت کے ساتھ مل کر کھانسی کے ذریعے خارج ہوجائے۔
کھانسی کے وقت پھیپھڑوں سے خارج ہونے والی ہوا کی رفتار ۱۶۰Km/h ہوتی ہے۔ اگر Lungs میں اتنی طاقت نہ ہو تو سینے سے بلغم کا اخراج ممکن نہیں جب کھانسی آتی ہے تو Lungs کو بہت زیادہ دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے پر کھانسی پر Lungs سکڑتے ہیں اور واپس اصلی حالت پر آجاتے ہیں۔ لیکن اگر کھانسی طول پکڑ جائے تو Lungs کے پھیلنے سکڑنے کا سلسلہ چلے گا ایسا طویل عرصہ ہونے سے Lungs کی نالیوں پر ورم آجاتا ہے اور سوا کی تھیلیاں Hronchial tubes سکڑ جاتی ہیں اس طرح ہوا کی آمدو رفت کا راستہ رک جاتا ہے۔ ہسٹامین کے فنکشن کے باعث) بننے والی رطوبت بھی ہوا کی نالیوں کو تنگ کرتی ہے اس سے بھی ہوا کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں پھیپھڑوں کو ملنے والی ہوا میں O2 کی کمی ہو جاتی ہے جس سے خون صاف نہیں ہو پاتا اور اس میں زہریلے مادے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ جمع شدہ رطوبت یا بلغم بھی جراثیم کے پھلنے پھولنے کا باعث بنتا ہے۔
سانس کی نالیوں پر ورم آنے کے بعد دماغ اس ورم کو بلغم یا بیرونی شے سمجھ کر کھانسی کے ذریعے باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ زیادہ کھانسی سے ورم میں اضافہ اور نالیوں کی تنگی بڑھ جاتی ہے یہ ایک جگہ شروع ہو جاتا ہے، یہ Cycls ہی دمہ ہے۔Lungs ہوا کو نالیوں کی تنگی کے باعث باہر نکلنے میں دشواری ہوتی ہے جس سے آواز Wheezing پیدا ہوتی ہے۔
دمہ کے مریض کے لنگس سخت اور غیر لچکدار ہوجاتے ہیں جس سے ان کی کار گردگی خراب ہو جاتی ہے۔
وجوہات:
Mast سیلز ہر شخص میں ہوتے ہیں مگر دمہ کے مریض میں یہ زیادہ حساس ہوتے ہیں Mast سیلز خون کے علاوہ پورے جسم کے ان حصوں پر ہوتے ہیں جن کا تعلق بیرونی دنیا سے ہوتا ہے۔ جلد آنکھیں، منہ وغیرہ۔
mدوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس شخص میں Mast سیلز زیادہ حساس ہوتے ہیں وہ دمہ کا مریض بن جاتا ہے یا اس کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔
m دمہ اصل وجہ Sympethetic نروس سسٹم کی خرابی ہے۔ یہ موروثی بھی ہو سکتی ہے۔ اس نظام کی خرابی سے Lungs بہت زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔ اگر آٹو نومک نروس سسٹم اور پھیپھڑے صحیح کام کر رہے ہیںتو الرجنیز اور دیگر عوامل اسٹر یس وغیرہ دمہ کا باعث نہیں بن سکتے۔ (Mast سیلز کی حساسیت بھی Sns کی خرابی کے باعث ہے)
m اسٹریس۔ ٹنشن وغیرہ نروس سسٹم Ans کو براہ راست متاثر کرکے دمہ کا سبب بنتے ہیں۔
احتیاط:
mتمباکو نوشی مدافقی نظام اور پھیپھڑوں کو کمزور کرتی ہے۔ اگر دمہ کا مریض تمباکو نوشی بھی کرتا ہے تو انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جو مرض میں شدت پیدا کر سکتا ہے۔
m مثلاً ، اسموکنگ نہ کریں ، اگر ایسے ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں dust دھواں کاٹن ڈسٹ آلودگی وغیرہ ہو Mask استعمال کر سکتے ہیں۔ اسے ماحول میں کم سے کم رہیں۔ فوڈ اور میڈیسن جو الرجی پیدا کرتی ہوں انہیں استعمال نہ کریں یا کم سے کم کریں اگر مجبوری ہو۔
mپھپھوندی ( Fungus) دمہ کے مریض کے لیے خطرناک ہے۔ Fungus سے باریک دانے Fungisposes نکلتےہیں جو ہوا کے ساتھ سانس کے ذریعے Lungs میں جاتے ہیں عام افراد اسے محسوس نہیں کرسکتے لیکن دمہ کے مریضوں کے لیے سخت نقصان دہ ہیں۔
mاگر عفونتی امراض (infection disease) کو Antibiotics کے ذریعے دبا دیا جائے تو یہ بھی دمہ کا سبب بن جاتا ہے۔
علامات:
m دوڑ لگانے سے کھانسی شروع اور Wheeze آوازنکلتی ہے۔
m کئی ماہ سے نزلہ، زکام، کھانسی ہے اور علاج کے باوجودٹھیک نہیں ہو رہا۔
m بند کمرے میں ٹھیک طرح سے سانس نہ لے سکنا۔ گھٹن محسوس کرنا یہاں تک کہ دروازے کھڑکیاں کھول کر سکون ملے۔
m معمولی مشقت سے جلد تھک جانا۔ کمزوری محسوس کرنا۔
m گہرے سانس لیں تو Lungs سے آوازوں کا نکلنا۔
m گھر یا آفس کی صفائی شروع ہوئی جوہنی Dust اڑی سانس کی تنگی محسوس ہونے لگی۔
m اسے شخص کے قریب گئے جس نے پرفیوم لگایا تھا۔ سانس کی تنگی محسوس ہونا۔
m بلی کے قریب جاتے ہی دورہ شروع ہونا۔
m BP نارمل سے کم رہنا۔
اگر دمہ کی علامات ظاہر ہوں تو ضروری نہیں کہ وہ دمہ ہو۔ ہو سکتا ہے دل کی تکلیف کی وجہ سے تنگی تنفس ہو اسے Cardiac Asthma کہتے ہیں ہوا کی کمی ہو یا پھیپھڑوں کی کمزوری ہو سکتی ہے۔
دمہ کے کئی ٹیسٹ ہیں مثلاً Spirometre سے معلوم کرتے ہین کہ مریض ایک سیکنڈ میں پھیھڑوں سے کتنی ہوا خارج کر سکتا ہے۔

Login to post comments