×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فالج زدہ مریضوں کے لیۓ برقی جھٹکوں کی اہمیت

مهر 27, 1392 737

فالج زدہ مریضوں کی صحت یابی کے لیۓ فیزیوتھراپسٹ  ڈاکٹر حضرات ورزش  اور دوائی کے علاوہ جسم کے مخصوص فالج زدہ حصوں کو

برقی جھٹکے بھی دیتے ہیں جن کی وجہ سے اعصاب میں حرکت اور دوران خون میں بہتری آتی ہے ۔ فالج کے مریضوں کی بحالی کے لیۓ یہ طریقہ علاج بہت مفید ثابت ہو رہا ہے ۔

ایک امریکی شخص جنہیں کار کے حادثے کے بعد چھاتی کے نیچے والے دھڑ میں فالج ہو گیا تھا ریڑھ کی ہڈی میں برقی جھٹکوں کے علاج کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

 آریگون کے راب سمرز نے کہا کہ کسی سہارے کے بغیر کھڑا ہونا ’بہت زبردست احساس ہے۔‘

 جریدے لانسٹ میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ اب خود ہی اپنے پاؤں کے انگوٹھے، کولہے، گھٹنے، اور ٹخنے ہلا سکتے ہیں اور کسی سہارے کے ساتھ ٹریڈمل پر چلا بھی سکتے ہیں۔

 راب سمرز کا دھڑ کار کے حادثے میں چھاتی کے نیچے سے بیکار ہو گیا تھا۔ راب سمرز اس وقت مکمل طور پر کھڑے ہو سکتے ہیں جب ان کی ریڑھ کی ہڈی کو جھٹکے دیے جا رہے ہوں۔

 راب باسکٹ بال کے ایک کھلاڑی تھے لیکن کار کے ایک حادثے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی۔ دماغ سے ریڑھ کی ہڈی میں آنے والے پیغامات رک گئے اور ان کا دھڑ بیکار ہو گیا۔

 ڈاکٹروں نے ان کے دھڑ میں سولہ الیکٹروڈز لگائے۔ روزانہ ان کی ریڑھ کی ہڈی میں برقی لہریں چھوڑی گئیں اور ان کی مدد سے انہیں ٹانگیں ہلانے کی تربیت دی گئی۔

 کچھ ہی دنوں میں راب اپنے پاؤں پر کسی سہارے کے بغیر کھڑے ہو گئے اور آخر کار کسی سہارے کے بغیر تھوڑے وقفے کے لیے اپنی ٹانگوں اور قدموں کو کنٹرول کرنے لگے۔

Last modified on دوشنبه, 05 خرداد 1393 12:09
Login to post comments