×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

موٹاپا

آذر 27, 1393 359

موٹاپا کوئی بیماری نہیں ہے۔ پھر بھی اس کی وجہ سے انسانی جسم میں کئی پےچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ یہ رفتہ رفتہ بڑھتاہے پھر بھی

لوگ اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ اس کا کوئی جادوئی علاج نہیں ہے۔پھر بھی اس کے علاج کے لیے مراکز کھل گئے ہیں۔ عالمی صحت تنظیم نے موٹاپے کو لوگوں کی صحت کے لیے دس بڑے خطرات میں سے ایک خطرے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اعداد و شمار کافی پریشان کن ہیں۔ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد بالغ افراد کا وزن ضرورت سے زیادہ ہے اور کم از کم 30 کرور لوگ ایسے ہیں ، جنہیں طبی لحاظ سے موٹا قرار دیا گیا ہے۔ یہ تخمینے عالمی صحت تنظیم نے تیار کئے ہیں۔ موٹاپے کی شرح 1980 کے بعد سے کچھ علاقوں میں تین گنا یا اس سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان علاقوں کا تعلق شمالی امریکہ، برطانیہ، مشرقی یورپ، مشرق وسطی، آسٹریلیا اور چین سے ہے۔ ترقی پسند ملکوں میں خاص طور سے نوجوانوں میں باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے۔
یہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، جتنا کہ عام طور پر سمجھا جاتاہے۔ موٹاپا بہت سی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چینی کے استعمال میں اضافہ اور بھرپور چربی نیز جسمانی سرگرمی میں کمی کی وجہ سے موٹاپا ہوتاہے۔ اس کے نتیجے میں، ضرورت سے زیادہ وزن اور موٹاپے کی وجہ سے خون کے دباؤ، کولیسٹرول اور انسولین  کی وقت مزاحمت پر خراب اثرات پڑتے ہیں۔ دل کی بیماری اور ذیابیطس کے خطرات بڑھتے ہوئے بی ایم آئی کی وجہ سے تیزی سے اضافہ ہوتاہے۔ ذیابیطس سے اب موٹے بچے بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔ وزن میں معمولی سی کمی سے خون کے دباؤ اور غیر معمولی بلڈ کولیسٹرول میں کمی آتی ہے نیز ذیابیطس کا خطرہ کافی کم ہوجاتاہے۔ بڑھے ہوئے بی ایم آئی سے چھاتی، بڑی آنت، فوطے، گردے  اور پتے کے کینسر کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اگرچہ ان اسباب کو جن سے اس خطرات میں اضافہ ہوتاہے، پوری  طرح نہیں سمجھا گیاہے، تاہم ان کا تعلق موٹاپا پیدا کرنے والے ہارمون کی تبدیلیوں سے ہو سکتاہے۔ عرصے سے ضرورت سے زیادہ وزن اور موٹاپا بالغوں میں معذوری کا ایک اہم سبب ہے۔
ضرورت سے زیادہ وزن اور موٹاپے کا اندازہ عام طور سے باڈی ماس انڈیکس کے استعمال سے لگایا جاتاہے۔ یہ جسم میں چربی کے جزو سے ایک مضبوط آپسی تعلق کے ساتھ لمبائی اور وزن کا ایک فارمولہ ہے۔ عالمی صحت تنظیم کے اصول میں ضرورت سے زیادہ وزن کی توضیح سے کم سے کم 25 کلو گرام/ ایم 2 کے ایم بی ایم آئی اور موٹاپے کی توضیح کم سے کم 30 کلو گرام / ایم 2 کے ایم بی ایم آئی کے طور پر کی گئی ہے۔
ان پیمانوں سے اندازہ کرنے کےلیے عام نشان فراہم ہوتے ہیں لیکن تمام لوگوں میں بیماری کےلیے خطرات میں 20/ 22 کلوگرام/ ایم 2 کی بی ایم آئی سطحوں سے رفتہ رفتہ اضافہ ہوتاہے، جنہیں صحتی پیچیدگیوں کا زیادہ خطرہ ہے۔
دنیا بھر میں ذیابطس کے تقریباً 58 فی صد، دل کی بیماری 21 فی صداور کچھ قسم کے کینسر کے 8 تا 42 فی صد واقعات 21 کلوگرام/ ایم 2 سے زیادہ بی ایم آئی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اگرچہ بی ایم آئی سے موٹے پن کا ایک مناسب پیمانہ فراہم ہوتاہے تاہم ضرورت سے زیادہ وزن اور موٹاپے کے لیے اصول ترقی پذیر ملکوں میں الگ الگ ہے۔ ایشیایی ملکوں کے لیے ایک کم بی ایم آئی حد کی سفارش کی گئی ہے۔ اس سے محض خطے میں موٹاپے کے مسئلے میں اضافہ ہوگا۔
موٹاپے کا تعلق کچھ حد تک جسم میں توانائی کے توازن سے بھی ہے۔ ہمارے جسم کو عام طور سے روزانہ تقریبا 1600 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو خوراک جو ہم کھاتے ہیں، وہ کیلوریز میں بدل جاتی ہے اور اس کا استعمال جسم کے مختلف عمل کے لیے ہوتاہے۔ جب کھائی گئی خوراک کیلوریز کے لحاظ سے زیادہ ہوجاتی ہے تو جسم ان کیلوریز کو چربی بدلنا شروع کر دیتاہے۔ تقریباً 9 کیلوریز سے ایک گرام چربی بنتی ہے۔ طبی لحاظ سے، چربی کے خلیے ایڈیپوز کہلاتے ہیں، جو عام طور سے جلد کے نیچے جمع ہوجاتے ہیں۔ خوراک کے کنٹرول کا پورا عمل دماغ کے ذریعے چلتاہے۔ ہارموں کی وجہ سے بھی موٹاپا ہوتاہے۔ پورٹی، مینو پوز اور حاملہ ہونے جیسے حالات میں لوگوں کو زیادہ وزن ہوجانا عام بات ہے۔
اگرچہ موٹاپے کی زیادہ تر وجہ ہمارا بدلتا ہوا طرز زندگی ہے تاہم سائنسداں موٹاپے کے لیے جینیاتی بنیاد تلاش کر رہے ہیں۔ وہ جین یا جین پولی مورفزم کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں، جسے کچھ لوگ موٹاپے کی وجہ بتاتے ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں میں کچھ اہم معلومات کی گئی ہیں۔ اس طرح کی ایک اہم معلومات سفید ایڈیپوز ٹشو( ڈبلیو اے ٹی) کے عمل کو از سر ن، سمجھنا ہے۔ یہ روایتی نظریہ کہ ڈبلیو اے ٹی محض چربی جمع کرنے کا ایک ڈپو ہے، اس اعتراف سے بدل گیا ہے کہ یہ ایک اینڈوسرین عضو ہے۔ یہ ایک ہارمون، لیپٹن کے اجراء کے ذریعے دماغ اور محیطی نشوز سے رابطہ قائم کرتاہے۔
تاہم ایک مکتب فکر کا خیال ہے کہ یہ جینیات، کھانے پینے کا غیر معمولی روی، محنت مشقت کی کمی اور ثقافتی اثرات نیز دماغی نظام جیسے عناصر کا ایک امتزاج ہے جنہیں ابھی تک پوری طرح سمجھا نہیں گیا ہے اور ان کی وجہ سے موٹاپا ہوتاہے۔ کم خوراک کھانے، دواۆں، سرجری اور وزن کم کرنے کے مہنگے پروگراموں کو موٹاپے کے ممکنہ حل کے طور پر پیش کیا جا رہاہے۔ لیکن ماہریں تغذیہ اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک متوازن خوراک شاید چاق و چوبند اور تندرست رہنے نیز موٹاپا دور رکھنے کا واحد پائیدار طریقہ ہے۔

Login to post comments