×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

پوری نیند کتنی ہی بیماریوں کا علاج

آذر 27, 1393 375

آج کی دنیا میں سونے کا وقت جتنا کم رہ گیا ہے، اتنا ہی نیند میں خلل کے اسباب بھی بڑھ گئے ہیں۔ زبردست مقابلہ آرائی اور کم وقت میں زیادہ

سے زیادہ حاصل کرنے کی بڑھتی ہوئی خواہشات نے انسانوں کو ہر وقت کام کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ نیند کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کا خیال ہے کہ 1960 کی دہائی میں لوگ رات میں تقریبا 9 گھنٹے سوتے تھے جبکہ اب 7 گھنٹے ہوگیا ہے۔
نیند ایک فطری دوا ہے۔ یہ کتنی بیماریوں کا علاج ہے۔ اکھڑی اکھڑی نیند خطرناک ہوسکتی ہے۔ اس کے اسباب کے بارے میں جانکاری سے اچھی زندگی گزارنے میں مدد مل سکتی ہے اور ذیابیطس، دل کی بیماریوں، دل کے دوروں اور اچانک ہونے والی موت کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔ خراٹے لینا بھی نیند کی خرابی کی ایک شکل ہے۔ جس سے آدمی دن میں اونگھتا رہتا ہے اور اسے بھول جانے، تھکن اور جنسی نے عملی جیسے مسا‏ئل درپیش ہو سکتے ہیں۔
ہماری جسمانی گھڑی جب قدرتی نظام سے ہم آہنگ رہتی ہے تو سب ٹھیک رہتا ہے۔ اکھڑی اکھڑی نیند کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ آہنگ بگڑ گیا ہے۔ کوئی کتنا سوتا ہے یہ ہر فرد کے اپنےحالات پر منحصر ہے۔ اگر آپ سو کر اٹھنے پر تازگی احساس نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ٹھیک سے سوئے نہیں ہیں اس لیے اچھی طرح سوئیے اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہ کیجیے۔
ہر شخص کو کم از کم 6سے 8 گھنٹے سونا چاہیے
پیشہ ور لوگوں کے لیے زیادہ سونا ضروری ہے کیونکہ انہیں ہو لمحہ ذہن کو مرکوز رکھنا پڑتا ہے۔
سافٹ ویئر پیشہ وروں کو بھی بھرپور نیند (آٹھ گھنٹے) لینی چاہیے، کیونکہ انہیں اپنی آنکھیں مسلسل کمپیوٹر اسکریں پر رکھنی پڑتی ہیں جس سے سردرد و غیرہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں
میڈیا کے پیشہ وروں کو کم از کم 6 گھنٹے سونا چاہیے
ضعیف لوگوں کو کم از کم پانچ گھنٹے کی گہری نیند درکار ہے۔

Login to post comments