×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

تناؤ اور موٹاپا

آذر 27, 1393 429

شاید آپ نے بھی سنا ہو گا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ زیادہ کھانا نہیں کھاتے ہیں پھر بھی دن بہ دن موٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر ان

لوگوں کی نفسیاتی حالات پر توجہ کی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ دوسروں سے زیادہ پریشان اور بےچین رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ عوامل جیسے وراثتی، ہارمون اور بعض دوائیاں کا استعمال موٹاپے کا باعث بن جاتے ہیں مگر یہ بھی جاننا چاہیے کہ ان کے علاوہ تناؤ اور پریشان رہنا بھی موٹا بننے کا ایک اہم سبب ہے۔
ہارمون پر تناؤکا اثر
کیوں پریشانی اور تناؤ موٹاپے کا باعث بن سکتے ہیں؟ کیونکہ ہمارا جسم دشوار حالتوں میں صحیح فیزیولوژیکی ردعمل دکھاتا ہے۔ انسان کی پیدایش ایسی ہے کہ خطرہ کے وقت ،جیسے جب کوئی وحشی جانور کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مقابلہ کرنے کےبجائے بھاگنے لگتا ہے۔ بےشک اس بھاگنے کےلیے انرژی کی ضرورت ہے۔ دراصل، تناؤ، جسم کو ایسی حالت میں ڈالتا ہے جس میں انرژی اور چربی کے ذخائر کم ہو جائے اور اس کمی کا معاوضہ کھانا کھانے سے ہو جائے۔ تناؤ کی حالات کے وقت جو بدن میں ہوجاتا ہے ایسے ہیں: ہیپوتالاموس سے ہارمون خارج ہوتے ہیں اور کورتیزول بڑھنے کا باعث بن جاتا ہے۔ یہی کورتیزول بھوک کے احساس کو شدید کرتا ہے۔
تناؤ سایز بڑھانے کا باعث بن جاتاہے
جب استرس آغاز ہو جاتا ہے تو اسی وقت سے بدن میں کورتیزول خارج ہونے کے ساتھ ہی چربی محفوظ رکھنے کے عمل کا آغاز ہو جاتا ہے۔یہ بھی جاننا چاہیے کہ تناو، خاص حصّے کے موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔ یعنی یہ چربی جسم کے کچھ حصے جیسے پیٹ پر جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اس پر خاص توجہ کرنی چاہیے کہ صحت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور ذیابیطس 2 (Diabetes mellitus type 2)، دل کی بیماریاں جیسی بیماریوں کا باعث بن جاتا ہے۔
تناؤ کے خلاف رژیم
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب چینتا اور تناؤ کی حالت میں ہیں تو مٹھائی کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ شوگر والے کھانے (جو بہت دیر تک بدن کے اندر جذب ہوتے ہیں) جیسے چاول، چوکر والی روٹی، پستہ وغیرہ کا استعمال کریں۔ویتامن B(جیسے گوشت، مچھلی اور انڈے)، ویتامن c (جیسے آلو، پالک اور گھنٹی مرچ) کلسیم(جیسے دودھ، لسی) منیزیم (سمندر والے کھانے) چربی اسید(جیسے  سرسوں کا ٹیل) کا استعمال تناؤ سے مقابلہ کرنے کے لیے اچھے ہیں۔
اپنے آپ کو چین دیں :
ہم سب کو زندگی میں کسی نہ کسی طرح  چینتا اور تناؤ کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیسے اس بےچینی اور تناؤ کو قابو کرکے سنبھال لیں۔ جب آپ کے اندر چین ہو تو وزن بڑھنے کو بہترقابو کیا جا سکتا ہے۔ یوگا کریں، گہری سانسیں لیں، دعا مانگیں اور اگر ان سے آپ کا مسئلہ ختم نہیں ہوا تو نفسیات کے ڈاکٹر سے ملیں۔اگر اپنے چینتا اور تناؤ کو سنبھال کرکے رکھیں تو کورتیزول کا ہارمن معمول سے کم خارج ہوجاتاہے اور بھوک کا احساس کم لگتاہے۔ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ کافی گھنٹے سونا بھی جسم کی تناسب کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ آپ کو آرامش دیتاہے اور جسم کی کالری کو مٹاتا ہے۔

Login to post comments