×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

صحت اور بیماری

آذر 27, 1393 442

خالق کائنات نے حضرت انسان کی تخلیق کرکے اپنی اس مخلوق کو جن نعمتوں سے نوازا ہے ان کی گنتی اگرچہ ناممکن ہے تاہم انسان پر

لازم ہے کہ وہ اپنے خالق کی عطا کی ہوئی تمام نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے۔ رب کائنات کی طرف سے عطاکی ہوئی نعمتوں میں سے 'صحت ایک انسان کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے اورانسان تندرستی کی حالت میں ہی اپنی زندگی خوشحالی کے ساتھ گذار سکتا ہے۔ خالق و مخلوق کے رشتے کا تقاضا ہے کہ انسان ہمہ وقت اچھی صحت کا طلبگار رہے اور اوراس عظیم نعمت کیلئے ہر وقت اپنے خالق کا شکر بجا لاتا رہے۔ اگرچہ رب کائنات کے سامنے سر بسجود ہوکر شکر بجا لانا احسان مندی کے مظاہرے کی اولین شرط ہے تاہم ہم صحت جیسی عظیم نعمت کا خیال رکھ کر بھی حق ادائیگی کرسکتے ہیں۔
جس طرح دھوپ چھاؤں کا آپس میں قریبی رشتہ ہے اور دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں اسی طرح جہاں تندرستی ہو وہیں مرض بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ یعنی ایک تندرست انسان ہی کسی بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ جب بھی کوئی انسان بیمار ہوجاتا ہے تو وہ فوراً تندرستی کی قدر و قیمت جان لیتا ہے اور صحت یاب ہونے کیلئے اپنے خالق کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انسان اپنی کھوئی ہوئی صحت پانے کیلئے ایک طبیب کی طرف بھی رجوع کرتا ہے۔ بیماری کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ روئے زمین پر انسان کی تاریخ ہے۔ ہر دور اور ہر زمانے میں انسان کسی نہ کسی طرح کی بیماری میں مبتلا ہو تا رہا ہے۔ بیماری جہاں انسان کیلئے رب ذوالجلال کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے وہیں رب الکریم نے انسان کی صحتیابی کیلئے دنیا کے اندر ہی وسائل پیدا کئے ہیں۔ ان وسائل کاا ستعمال کچھ تعلیم وتربیت یافتہ لوگ کرتے ہیں اور خداوند کریم کے اذن سے بیمار کی شفایابی کا سبب بنتے ہیں۔ ان ہی تعلیم و تربیت یافتہ لوگوں کو ہم طبیب یا عصر حاضر کی اصطلاح میں ڈاکٹر کے ناموں سے جانتے ہیں۔ایک مخصوص قسم کی تربیت حاصل کرکے ڈاکٹر میں مریض کا علاج کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور ایک ڈاکٹر ہی کسی مرض کو بہتر طور سمجھ کر موزون علاج و معالجہ کرسکتا ہے۔ عقل کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی انسان مرض کی حالت میں تربیت یافتہ طبیب کے ساتھ ہی مشورہ کرے اور رب کائنات سے شفا طلب کرتے ہوئے اپنی صحت کے ساتھ غیر معمولی کھلواڑ کئے بغیر صحتیاب ہو نے کی سعی کرے۔
لیکن ہماری وادی کشمیر میں اس معاملے میں بھی لوگ کافی لاپروائی کا مظاہرہ کرکے خوامخواہ اپنے آپ کو مصائب میں مبتلا کردیتے ہیں۔ یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے اورجب بھی کوئی شخص بیمار ہو جاتا ہے تو وہ پہلے از خود اپنے مرض کی نوعیت کے بارے میں فیصلہ لے کر اپنا علاج شروع کرتا ہے۔ اگر کبھی کسی کو اپنا خود کا علاج موافق لگا تو وہ دیگر مریضوں کیلئے بھی ادویات تجویز کرنے کی شروعات کرتا ہے۔
وادی کشمیر کره ارض پر ایک ایسی جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ لوگ ازخود (یعنی ماہر ڈاکٹر کا مشورہ لئے بغیر) ادویات استعمال کرتے ہیں۔ یہاں کی Drug Policy اور ڈرگ قوانین کے اطلاق کا حال یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی ڈاکٹری نسخے کے بغیر کوئی بھی دوائی حاصل کر سکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ لوگ بیماری کی حالت میںنیم تربیت یافتہ نیم حکیم ادویات فروشوں کے مشورے پر عمل کرکے ادویات لیتے ہیں۔اس طرح یہ لوگ نہ صرف اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں بلکہ اپنی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرکے اس نعمت کی ناشکری کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ 'نیم حکیم خطره جان اور نیم ملا خطره ایمان ایک پرانی کہاوت ہے۔ اس کہاوت سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ جس طرح ایک انسان کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنا لازمی ہے اسی طرح اپنے صحت کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے اور دونوں میں سے کوئی بھی چیزنیم تربیت یافتہ شخص کے ہاتھوںمیں پڑ گئی تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ اس لئے جب بھی کوئی شخص اپنے مرض کا علاج کسی نیم حکیم سے کراتا ہے تو شفایابی کے بجائے مرض کے بڑھ جانے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔امراض اور ادویات کے سلسلے میں ہماری وادی کی صورتحال یہ ہے کہ ہر کوئی شخص کسی نہ کسی بیماری کی نیم جانکاری رکھتا ہے اور اسی ادھوری جانکاری کی بنیاد پر مریض کو مفت مشورے فراہم کرتا ہے۔ کئی لوگ تو اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کسی دوسرے شخص کو طبی مشورہ دے کر ادویات لینے کی صلاح دیتے ہیں۔ حالانکہ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوبیماریوں کے اسباب مختلف ہوتے ہیں اور علامات ایک جیسی۔اس طرح ایک تربیت یافتہ طبیب ہی مرض کی مکمل تشخیص کرکے بہتر علاج کرسکتا ہے۔ ایک بیمار بیماری کی حا لت سے نجات پانے کی خاطر ہر کسی کے مشورے پر عمل کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح بیمار کبھی کبھی ایک ایسی صورتحال کا شکار ہو جاتا ہے جہاں اس کے مرض کے علاج کے ممکنات کم ہو جاتے ہیں۔اگر کبھی کبھار کوئی مریض راحت محسوس کرتا ہے لیکن یہ راحت عارضی اور علامتی ہوتی ہے جبکہ از خود ادویات استعمال کرنے سے ایک انسا ن کے جسم و صحت پر ایسے برے اور مضر اثرات پڑتے ہیں جن کی وجہ سے بعد میں لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔جب کوئی شخص کسی بھی بیماری کیلئے از خود دوائیاں لیتا ہے تو اکثر اوقات وہ اس قسم کی دوائیاں لیتا ہے جن سے بہت جلد 'راحت ملے۔ اس قسم کی ادویات لینے میں بہت سے نیم حکیموں کے مشوروں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ ان ادویات کو ہم عام زبان میںstrong medicinesیاfast acting medicinesکہتے ہیں۔ چنانچہ ایک عام آدمی کسی بھی دوائی کے مضر اثرات (side effect)سے اچھی طرح سے واقف نہیں ہوتا ہے اس لئے احتمال اس بات کا رہتا ہے کہ جو دوائی خود لی جاتی ہے وہ راحت دینے کے بجائے تکلیف کو اور بڑھادے۔ اس طرح دوائیاں لینے سے ایک مریض میں کسی مخصوص دوائی کے تئیں rsistanceبڑھ جاتی ہے اور پھر جب بعد میں مریض کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی بیماری میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ہے تو وہ ایک پیشہ ور ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے۔ لیکن اس وقت ایک ڈاکٹر کو ایسی ادویات تجویز کرنا پڑتی ہیں جو کافی سٹرانگ (more stronger)ہوتی ہیں کیونکہ اس قسم کے مریض معمول کی ادویات کے تئیں resistantہوگئے ہوتے ہیں۔کشمیر میں ایک بات عام ہو گئی ہے کہ یہاں بیچی جانے والی ادویات غیر معیاری ہوتی ہیں اور کسی بھی مریض کے مرض پر کوئی اثر نہیں کرتیں۔ لیکن کسی نے اس بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے کہ لوگ از خود ادویات کا بے جا استعمال کرکے ادویات کے تئیں اپنی resistanceبڑھادیتے ہیں۔ میں یہ دعویٰ ہرگز نہیں کرتا کہ جو بھی ادویات یہاں دستیاب ہیں وہ سب کی سب اعلیٰ معیار کی ہیں کیونکہ کچھ ادویات کا غیر معیاری ہونا خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ادویات کے بے اثر ہونے کیلئے ہماری self medicationکا بھی ہاتھ ہے۔
 اس طرح کی self medicationشائد فقط کشمیر میں ہی ہوتی ہے جہاں کوئی بھی دوا فروش (چاہے وہ سند یافتہ ہو یا نہ ہو اور چاہے وہ licensedہو یا نہ ہو )کسی بھی مریض کو کبھی بھی کوئی بھی دوائی دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ہماری ریاست خصوصاً وادی کشمیر میں ناقص drug policyاس کی بنیادی وجہ ہے۔ حال ہی میں صوبائی کمشنر کشمیر نے وادی میں drug policyاپنانے کی خاطر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکمے کی میٹنگ طلب کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر میں سالانہ کل ملا کر چھ سو کروڑ روپے کی ادویات بکتی ہیں جس میں سے فقط کشمیر میں ہی چار سو کروڑروپے کی ادویات فروخت ہوتی ہیں۔صرف وادی کشمیر میںادویات کے لائسنس یافتہ3000ہول سیلرس اور5000رٹیل ڈیلرس ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں غیر سند یافتہ لوگ بھی دوائیوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ یہ سب وہ اعداد و شمار ہیں جن کا ریکارڑ سرکار کے پاس موجود ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے بھی اعداد و شمار ہوں گے جن کا کوئی ریکارڑ ہی نہیں ہوگا۔ان اعداد و شمار سے اس بات کااندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ وادی میں دوائیوں کا کس پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اس معاملے میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ ہے دوائیوں کا از خود استعمال۔ سائنس کے ساتھ ساتھ علم طب نے بھی کافی ترقی کی ہے اوراب عام لوگ بھی بیماریوں کے علاوہ ادویات کے بارے میں بھی (آدھی ادھوری )جانکاری رکھتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے یہ کہ لوگ اس جانکاری اور علم کا منفی استعمال کرتے ہیں۔ طب اور سائنس کی ترقی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ لوگ از خود امراض کے بارے میں فیصلہ کریں اور خود دوائیوں کا استعمال کریں بلکہ اس سے یہ سہولیت ہوئی ہے کہ امراض کا بہتر طریقے پر پتہ لگا یا جاسکتا ہے اور موثر علاج کیا جاسکتا ہے۔ وادی کشمیر میں ادویات کی کھپت کو دیکھتے ہوئے ادویات بنانے والی کمپنیوں نے بھی اپناکاروباربڑھانے کی خاطر نت نئے طریقے ایجاد کئے ہیں۔ ہماری وادی ادویات بنانے والی کمپنیوں کیلئے سونے کی کان ثابت ہورہی ہے۔ ادویات کا بے جا استعمال ایک وبائ  کی صورت اختیار کرچکا ہے اور اس وبائ  کو روکنے کی خاطر ڈاکٹر صاحبان اور اس شعبے سے جڑے افرادکے علاوہ دوا فروش بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان نہ بنیں اور طب وسائنس کی ترقی کا غلط استعمال نہ کریں۔ صحت قدرت کی عطا کی ہوئی ایک عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کا خیال رکھنا ہمارا فرض بنتا ہے۔ ہم اس نعمت کا خاص خیال رکھیں تو شکرانے کا حق بھی ادا ہوگا۔ تندرستی ہزار نعمت ہے اور تندرست جسم کا مطلب ہے تندرست ذہن جو ایک سماج کو تندرست بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ادویات کا تعلق براہِ راست ایک انسان کی صحت کے ساتھ ہے اور اس میں غفلت برتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں drug policyکو موثر طور لاگو کرانے کی سعی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ادویات کا منفی و غلط استعمال نہ ہو۔لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ ادویات کا ازخود استعمال کرنے سے اجتناب کریں اور خدانخواستہ بیماری کی حالت میںکسی سند یافتہ و تجربہ کار طبیب سے ہی رجوع کریں۔

Login to post comments