×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

روماٹائیڈ آرتھرائٹس

آذر 27, 1393 436

آرتھرائٹس موجودہ دور میں ایک بہت ہی اہم طبی مسئلہ ہے ۔ اگر ہم اپنے معاشرے میں اردگرد لوگوں پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معاشرے میں بہت

سارے ایسے افراد ملتے ہیں جو جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ جوڑوں کا درد یا اس جیسی دوسری بیماریاں بے شک فوری طور پر جان لیوا نہیں ہوتی ہیں مگر اس کے انسان کی روز مرّہ زندگی  پر پڑنے والے اثرات بہت ہی بھیانک ہوتے ہیں ۔ کہاں ایک تندرست اور توانا شخص جو صحت و تندرستی کی دولت سے مالا مال ہو کر اپنے روز مرّہ کے کام کاج کو بڑی جانفشانی اور انہماق سے انجام دیتا ہے اور کہاں درد اور تکلیف میں مبتلا شخص جو زندگی کے ہر معاملے میں مایوس دکھائی دے رہا ہوتا ہے ۔
لفظ Arthritis  اصل میں مجموعی طور پر بیماریوں کے ایک بہت بڑے خاندان کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اس پرچم کے سائے تلے یا اس چھتری کے نیچے 100 یا اس سے بھی زائد بیماریاں ہوتی ہیں ۔ لفظ آرتھرائٹس (Arthritis ) اصل میں یونانی زبان کے لفظ Arthron  سے لیا گیا ہے جس کے معنی " جوڑ " کے ہوتے ہیں ۔ " itis "  سوزش کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ جب جسم کے کسی بھی حصے میں سوزش ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں متاثرہ حصّہ سرخ ہونا شروع ہو جاتا ہے ، اس حصّے میں درد کا احساس ہوتا ہے ، گرمی محسوس ہوتی ہے اور اس حصّے میں ایک طرح کی سختی آ جاتی ہے ۔
RA  ایک ایسی حالت کو کہا جاتا ہے کہ جب جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے اور سختی آ جاتی ہے ۔ یہ ایک systemic disease  ہے یعنی یہ جسم میں پائے جانے والے نظاموں کو متاثر کرتی ہے ۔ جب کوئی فرد آرتھرائٹس کا شکار ہوتا ہے تب ایک مدّت کے بعد متعلقہ فرد کا کوئی نہ کوئی نظام جیسے گردے ، دل وغیرہ متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اس بیماری میں جسم کے چھوٹے اور بڑے جوڑ دونوں ہی متاثر ہوتے ہیں ۔ اس بیماری کا شکار جب صبح سویرے اٹھتے ہیں تب ان کے جسم میں بہت سختی سی پائی جاتی ہے ۔
 صبح اٹھنے کے بعد ایسے مریضوں کا جسم ایک طرح سے جکڑا سا ہوتا ہے لیکن جیسے ہی وہ اپنے روز مرّہ کے کام کاج میں مصروف ہوتے ہیں ، حرکت کرتے ہیں تو ان کے جسم میں بہتری کے آثار نمایاں ہوتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بیماری حرکت کرنے سے بہتر ہوتی ہے جبکہ لمبے دورانیے کے لئے بغیر حرکت کے نتیجے میں یہ بیماری بدتر ہو جاتی ہے ۔
متاثرہ جوڑ پر اگر ہاتھ رکھا جائے تو وہ جسم کے دوسرے حصّوں کی نسبت گرم ہو گا ۔ زیادہ تر مریضوں میں یہ مرض بڑھنے کی صورت میں جوڑ سے ملحقہ ہڈیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ متاثرہ جگہ کے ساتھ موجود ہڈی کے علاوہ Tendon sheath  cartilage کے خراب ہونے کا بھی ڈر ہوتا ہے اور اس میں خرابی بتدریج ہوتی ہے ۔ اس سارے تخریبی عمل کے نتیجے میں متعلقہ جوڑ اپنی اصل فعالیت کی انجام دہی سے محروم ہو جاتا ہے ۔
متاثرہ مریض نڈھال سا رہتا ہے یعنی کوئی بھی کام کرتے ہوئے بہت جلد تھک جاتا ہے ۔ بعض افراد کو ہلکا ہلکا بخار بھی رہتا ہے اور بعض افراد کو بھوک بھی کم لگتی ہے ۔
یہ ایک Autoimmune  بیماری ہے یعنی جسم کے دفاعی نظام کے بعض خلیے درست انداز میں اپنا کام نہیں کرتے ہیں اور صحت مند خلیوں کو تباہ کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔
جسم میں بیماریوں کے خلاف مدافعت کا اپنا ایک خودکار نظام ہوتا ہے ۔ جب کبھی باہر سے جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں تب جسم کا یہ دفاعی نظام ایک خودکار طریقے سے بیماریوں کے خلاف اپنا کام شروع کر دیتا ہے ۔ آرتھرائٹس میں یہ نظام غلطی سے جسم کے صحت مند خلیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے ۔
آرتھرائٹس میں سوزش کا مرکز جوڑ کے گرد پائی جانے والی Membrane ‏ Synovial ہوتا ہے ۔ یہ ایک طرح کی بافت ہوتی ہے جس نے جوڑکو اطراف سے گھیر رکھا ہوتا ہے ۔ دفاعی نطام کے خلیے ایسے کیمیائی مادوں کو خارج کرتے ہیں جو سوزش کو بڑھاتے ہیں جس کے نتیجے میں متاثرہ حصّہ پھول جاتا ہے اور جوڑ کی اوپر والی سطح پر موجود نرم اور ملائم ہڈی یعنی cartilage  کی تباہی شروع ہو جاتی ہے ۔
* اس بیماری میں کون سے افراد مبتلا ہو سکتے ہیں ؟
1۔ کسی بھی عمر اور کسی بھی نسل کے افراد اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں ۔افریقائی ممالک اور یورپی ممالک کے باشندوں میں ایشیائی نسل کے باشندوں کی نسبت قدرے یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے ۔
2۔ مردوں کی نسبت خواتین کے اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خدشہ تقریبا تین گنا زیادہ ہوتا ہے ۔
3۔ عمر میں زیادتی کے ساتھ ساتھ بھی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خدشہ زیادہ ہو جاتا ہے ۔
تشخیص :
اس بیماری کی تشخیص ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے کیونکہ مختلف مریضوں میں بیماری کی علامات مختلف ہوتی ہیں اور بیماری کی شدّت بھی مختلف ہوتی ہے ۔اس لئے بہتر یہی ہوتا ہے کہ متعلقہ مریضوں کو متعلقہ ماہر ڈاکٹر کے پاس بھیجا جائے تاکہ بہتر انداز میں مریض کی تشخیص کرائی جا سکے ۔ ایسی بیماریوں کی تشخیص کے لئے ماہر ڈاکٹر Rheumatologist   ہوتے ہیں جبکہ ایسی بیماریوں کی نگہدائی اور مزید پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لئے فیزیوتھراپسٹ ڈاکٹر کی خدمات لینا ضروری ہوتا ہے ۔
تشخیص کے دوران ڈاکٹر متعلقہ مریض کی سابقہ بیماری یا خاندان میں پائی جانے والی بیماریوں کے متعلق جانکاری حاصل کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ مریض کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ مختلف طرح کے لیبارٹری ٹیسٹوں کا سہارا لیتے ہوئے علامات کو مدّنظر رکھ کر کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جاتا ہے ۔
علاج
یہ بیماری اور اس خاندان کی دوسری بیماریوں کا کوئی بھی حتمی اور پائیدار علاج ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے ۔ درد سے نجات سے بچاؤ کے لئے دوائیوں کا استعمال کروایا جاتا ہے ۔ دوائیوں کا استعمال کم عرصے کے لئے تو نقصان دہ نہیں ہوتا ہے مگر لمبے عرصے تک دوائی استعمال کرنے سے اس کے مضر اثرات سامنے آتے ہیں ۔
آرتھرائٹس کے نتیجے میں درد سے نجات اور جوڑ کو خرابی سے بچانے کے لئے فیزیوتھراپی طریقہ علاج بہت مؤثر ثابت ہوا ہے ۔ اس طریقہ علاج سے کرنٹ اور شعاؤں کے ذریعے ایک تو درد سے نجات ملتی ہے ، اس کے علاوہ جوڑ کی حفاظت کو بھی کافی حد تک یقینی بنایا جاتا ہے ۔
ایسی دوائیوں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے جو جوڑ کی خرابی کے عمل کو آہستہ کر دیتی ہیں ۔

Last modified on پنج شنبه, 27 آذر 1393 12:24
Login to post comments