×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

جگر کے خليوں کي پيوندکاري کا پہلا تجربہ

مهر 27, 1392 628

برطانيہ ميں ڈاکٹروں نے جگر کي مکمل خرابي کے ايک مريض بچے کے جگر ميں نئے خليوں کي پيوند کاري کر کے اس کي زندگي بچا لي ہے-

جنوبي لندن کے کنگز کالج ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جگر کي پيوند کاري کے بغير ناکارہ جگر کو دوبارہ کارآمد بنانے کا يہ پہلا کامياب تجربہ ہے-

 يہ تجربہ عياد سيد نامي ايک بچے پر کيا گيا جس کا جگر دو ماہ کي عمر ميں ايک وائرس کا شکار ہو کر کام کرنا چھوڑ گيا تھا-

 اس آپريشن کے دوران ڈاکٹرز نے بچے کے جگر ميں ميں صحت مند جگر سے حاصل کيے گئے خليوں کو بچے کے پيٹ ميں انجکشن کے ذريعے داخل کيا جنہوں نے فوري طور پر پروٹين اور ديگر ضروري مادے پيدا کرنے شروع کر ديے اس طرح يہ خليے فوري طور پر ايک عارضي جگر کا کام کرنے لگے-

 ڈاکٹروں کے مطابق دو ہفتے کے دوران بچے کے جگر نے بھي کام کرنا شروع کر ديا جو اس سے پہلے ناکارہ ہو چکا تھا- اب ڈاکٹرز اس تکنيک کو روزمرہ پيش آنے والے جگر کي بيماريوں ميں استعمال کرنے پر غور کر رہے ہيں-

 کنگز کالج ہسپتال ميں امراضِ جگر کے ماہر پروفيسر انيل دھون کا کہنا ہے کہ ان کي پوري ٹيم بہت خوش ہے-

 عارضي جگر

آپريشن کے دوران ڈاکٹرز نے بچے کے جگر ميں ميں صحت مند جگر سے حاصل کيے گئے خليوں کو بچے کے پيٹ ميں انجکشن کے ذريعے داخل کيا جنہوں نے فوري طور پر پروٹين اور ديگر ضروري مادے پيدا کرنے شروع کر ديے اس طرح يہ خليے فوري طور پر ايک عارضي جگر کا کام کرنے لگے-

 ان کے مطابق يہ پہلا موقع ہے کہ اس طريقۂ علاج کو کسي ايسے بچے پر آزمايا گيا جس کا جگر ناکارہ ہو چکا تھا-’ ميں نے اس بچے کو چند ماہ قبل ہي ديکھا تھا اور اس وقت يہ اتنا بيمار تھا کہ اسے مسلسل ڈائليسز اور سانس دلانے والي مشين کي ضرورت تھي‘-

 .پروفيسر دھون کے مطابق ’ہمارے خيال ميں ہم نے اسے ايک نئي زندگي دي ہے اور اب چھ ماہ بعد اس کے جگر کو تقريباً صحيح طريقے سے کام کرتے ديکھنا شاندار ہے‘-

 عياد کے والد جہانگير اپنے بيٹے کو ’معجزاتي بچہ‘ قرار ديتے ہيں- ان کا کہنا ہے کہ ’جب اس کا علاج ہوا تو اڑتاليس گھنٹے بعد ہي اس کي حالت ميں بہتري آنے لگي تھي اور ہماري اميد بحال ہوگئي تپي- يہ شاندار ہے اور ہميں اس پر فخر ہے‘-

Last modified on شنبه, 03 خرداد 1393 11:56
Login to post comments