×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ورزش ہم سب کی ضرورت

دی 25, 1393 573

اگر ہم ہفتے میں پا نچ دن آدھا آدھا گھنٹے ورزش کر لیں تو اس کاہماری صحت پر اچھا اثر پڑے گا ۔ ورزش سے مرا د وہ جسمانی سر گرمی

ہے جس سے آپ کا سانس تھوڑا سا پھولنے لگے ۔ اگر آپ نے ابھی تک ورزش کو اپنا معمول نہیں بنایا ہے تو شروع شروع میں ہفتے میں چند روز پندرہ پندرہ منٹ ورزش کیجئے اور پھر اسے بڑھا کر ہفتے میں پانچ دن آدھا آدھا گھنٹہ کر دیجئے ۔ ویسے تو سودا سلف لا نے کے لیے پیدل با زار جا نا ، سیڑھیاں چڑھنا ،گھر کا کام کاج یا تھوڑی بہت با غ بانی کر لینا بھی ورزش ہی ہے ۔ لیکن شاید ان میں زیادہ محنت درکار نہیں ہو تی ۔ تندرستی کے لیے زیادہ پابندی سے اور زیا دہ محنت والی ورزش کی ضرورت ہو تی ہے ۔ سائیکل سواری، رسی کو دنا جیسی ورزشیں آسان ، اچھی اور سستی ورزشیں ہیں اور ان میں مزہ بھی آتا ہے ۔ البتہ اگر سہو لت میسر ہو تو تیرا کی بہت اچھی ورزش ہے ۔ ورزش سے جسم میں چستی پیدا ہو تی ہے اور دوران خون بہتر ہو جا تاہے ۔ ہما را مدافعتی نظام تعدیہ ( انفکیشن ) سے مقابلے کے لیے زیادہ سفید خلیے پیدا کر تا ہے ۔ نقرس، بلند فشا ر خون ، ذیا بیطس ، فالج ، بو سیدگی استخواں (آسٹیوپو ر و سس ) اور دل کی بیماری کے خطرات کم ہو جاتے ہیں ۔ اگرڈپریشن کا خفیف احساس ہو تو اکثر ورزش سے جا تا رہتا ہے یا کم ہو جا تا ہے ۔ ورزن پر بھی قابو رہتا ہے ،سکت پیدا ہو تی ہے اور بڑھاپے کے آثار تا خیر سے ظا ہر ہو تے ہیں ۔ ورزش انسان کو چاق و چو بند رکھتی ہے اور اسے چلنے پھرنے میں سہولت ہوتی ہے ۔ اس سے نیند بھی بہتر ہو جا تی ہے اور بعض افرا د جنسی عمل میں بھی بہتر ی محسو س کر تے ہیں ۔ اگر ورزش سے دل چرانے اور کترانے کی بجائے اسے زندگی کے معمول کا ایک حصہ بنا لیا جائے تو کچھ دن میںہم اس کے عادی ہو جائیں گے اور پھر اسے چھوڑنے کو دل نہیں چاہے گا۔ با قاعدہ ورزش کر نے کے علا وہ بعض اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھیں تو صحت پر اچھا اثر پڑے گا مثلا ً اخبا ر گھر منگوانے کے بجائے دوکان دار سے جا کر لے آ ئیے ۔ اسی طر ح چھوٹا مو ٹا سو دا خو د جا کر خرید لائیے ۔ تھوڑے فاصلے کے لیے سواری استعمال نہ کیجئے ۔ اگر وقت ہے تو ذرا پیدل بھی چل لیجئے۔ عما رتو ں میں لفٹ کی سہولت ہونے کے با وجود ہمیشہ اس کے محتا ج نہ بنے رہیے بلکہ کبھی سیڑھیا ں بھی چڑھ لیجئے ۔ شام سہا نی ہو اور ما حو ل بھی دل کش ہو تو ذرا چہل قدمی کر لیجئے ، وغیرہ وغیرہ ۔ اور ہا ں ، اس بات کا بھی خیا ل رکھیے کہ اگر بچو ں کا اسکول زیا دہ دور نہیں ہے تو انھیں سواری فراہم کر نے کے بجائے خو د انہیں اسکول لے جائیے ۔ یہ آپ کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا اور بچو ں کے لیے بھی ۔ اگر آپ ورزش کے لیے کچھ اور لو گو ں یا کسی گروپ کے ساتھ شامل ہو جا ئیں تو اور بھی اچھا ہے ۔ آپ کا دل بھی زیا دہ لگے گا اور لو گو ں سے جان پہچان بھی بڑھے گی ۔ جن لو گو ں نے کبھی ورزش نہیں کی اور اس کے عا دی نہیں ہیں انھیں چاہیے کہ ابتدا میں تھوڑی تھوڑی ورزش کریں اور پھر اسے رفتہ رفتہ بڑھائیں ۔ یہ بھی خیال رکھیے کہ ورزش کے لیے لبا س اور جو تے منا سب ہو ں ۔اگر زیا دہ تھک جائیں اور جسم کے کسی حصے میں درد محسوس کریں تو رک جا ئیے ۔ اگر آپ حال ہی میں بیما ررہے ہوں یا آپ کے جو ڑوں میں تکلیف رہتی ہو ، وزن بہت زیادہ ہو یا عمر تو بہتر ہو گا کہ محنت طلب ورزش شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کر لیں ۔

Login to post comments