×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

تيز رفتار چہل قدمي سے صحت پر مثبت اثرات

مهر 29, 1392 589

ايک تحقيق کے مطابق تيز رفتار چہل قدمي کے فوائد، جوگنگ سے صحت پر پڑنے والے مثبت اثرات کے مساوي ہيں-

يہ تحقيقي رپورٹ جرمن اسپورٹس يونيورسٹي کے ہيلتھ سينٹر سے تعلق رکھنے والے پروفيسر Ingo Froboese نے پيش کي ہے-

جرمني کے شہر کولون ميں قائم يونيورسٹي کي جانب سے کي گئي اس تحقيق ميں کہا گيا ہےکہ تيز رفتار چہل قدمي يا برسک واکنگ کا اصل نتيجہ حاصل کرنے کے لئے ضروري ہے کہ ايک گھنٹے ميں تقريبا 5۔4  کلوميٹر سے چھ کلو ميٹر تک کا فاصلہ تيز رفتار چہل قدمي سے طے کيا جائے-

 پروفيسر Ingo Froboese کے مشاہدے کے مطابق’ اس طرح کي ايکسرسائز خاص طور سے ان افراد کے لئے زيادہ موزوں ہے، جو جسماني ورزش کي ابتدا کر رہے ہوں کيونکہ تيز رفتار چہل قدمي نہ توحد سے زيادہ محنت طلب ہوتي ہے اور نہ ہي يہ جوڑوں اور ہڈيوں کي ساخت پر غير معمولي دباؤ ڈالتي ہے ‘- پروفيسر Ingo Froboese کے مطابق چہل قدمي سے انساني صحت پر نہايت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہيں، جس کي وجہ سے کارڈيو ويسکيولر سسٹم نہ صرف مضبوط ہوتا ہے بلکہ يہ پھيپھڑوں کي صلاحيت بڑھانے اور خون ميں چکنائي کي سطح کم کرنے ميں بھي نہايت اہم کردار ادا کرتا ہے-

 تيز رفتار چہل قدمي جاگنگ کے مساوي فوائد ديتي ہے تيز رفتار چہل قدمي جاگنگ کے مساوي فوائد ديتي ہے

 پروفيسر Froboese کے مطابق شام کے اوقات ميں صرف آدھے گھنٹے کي تيز رفتارچہل قدمي طويل عرصے تک صحت مند زندگي کي ضمانت ہے- اس کے علاوہ  وہ افراد جو دن بھر چلتے رہتے ہيں خاص طور سے دن کے کسي بھي حصے ميں تين بار  10 منٹ پيدل چلتے ہيں ان کے دل کي حالت اور خون کي گردش ميں بہتري آتي ہے اور وہ کئي بيماريوں سے محفوظ رہتے ہيں-

 پروفيسر Froboese کا کہنا ہے کہ صحت کي حفاظت کے لئے ضروري ہے کہ روزانہ دس ہزار قدم گن کے پيدل چلا جائے- اس مقصد کے لئے پيڈو ميٹر يا  قدم گننے والے آلےکو بھي استعمال ميں لايا جا سکتا ہے- تاہم پروفيسرکا يہ بھي کہنا ہے کہ اگر چہل قدمي کا مقصد وزن کم کرنا ہے تو اس کے لئے مزيد محنت ومشقت کرنا ضروري ہے کيونکہ آدھے گھنٹے تک پيدل چلنے سے صرف 200 کيلوريز ہي جل پاتي ہيں، جو جو وزن کم کرنے کے لئے بہت ہي کم ہيں-

Last modified on شنبه, 03 خرداد 1393 09:57
Login to post comments