×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ورزشوں سے موسم گرما میں فٹنس

بهمن 01, 1393 487

مو سم گرما میں جسم کی ہیئت کو درست رکھنے کے خیال کو قبل از وقت نہیںسمجھنا چاہیے ۔ ابھی سے یو میہ ورزش کا آغاز کر دیجیے ، 

تاکہ جسم ہلکا ہو جائے اور لٹکا ہوا گو شت کس جائے اور جسم کے تکلیف دہ ابھار ختم ہو جائیں ۔ موسم ِ گرما جسم کوڈھیلا کر تا ہے ۔ سرما میں اگر آپ نے اپنے جسم کو درست کر لیا تو اس پر گرمی کازیا دہ اثر نہیں ہو گا۔ گرمی کے مو سم میںانسان زیادہ ورزش بھی نہیں کر سکتا ۔ رانیں ، شکم ، شانے اور با زو ( پورا ہا تھ ) وہ اعضا ءہیں جو ڈ ھیلے ہو کر جسم کو بد نما اور بے ہنگم بنا دیتے ہیں ۔ پہلے شکم کی درستی سے آغاز کیجیے ۔ جب تک شکم اپنی جگہ پر نہ ہو قامت کی را ستی (سرو قامتی ) حاصل نہیں ہو سکتی ۔ قامت کی را ستی کا حسن کو دوبالا کرنے میں بڑا حصہ ہو تاہے ۔اس مقصد کے لیے شکم کے ڈھیلے عضلا ت کو منا سب ورزش سے کسنا ضروری ہوتاہے ۔ یہ بات زیادہ تر ورزش سے حاصل ہوتی ہے ۔ شکم کو اپنی جگہ پر قائم رکھنے کے لیے اس کے اندرونی پلپلے اعضا کی ورزش بھی ضروری ہو تی ہے ۔ شکم کے عضلا ت کو مستحکم کر کے ایک ایسی کا ٹھی بنائی جا سکتی ہے جس سے آپ میں خود اعتمادی اور وقار پیدا ہو سکتا ہے ۔ شکم کے رقبے کو درست و توانا رکھنے کے لیے مونڈھو ں پر کھڑے ہونے کی ورزش کی مشق روزانہ کی جانی چاہیے ۔ اس مقصد کے لیے یہ ورزش بہت مو ثر ہے ۔ پشت کے بل لیٹ جائیے اور اندراور باہر گہری گہری سانسیں لیجیے ۔ پھر آہستہ آہستہ دونو ں ٹانگیں اوپر اٹھائیے اور گھٹنے بالکل سیدھے رکھیے ۔ اپنے سرین اور کمر کو اٹھانے میں دونو ں ہاتھوں سے مدد لیجیے ، اور کہنیوں کو فرش پر ٹکا کر زور لگا ئیے ۔ ریڑھ کو سیدھا رکھ کر اور ٹانگیں بھی سیدھی کیے ہوئے جسم کو اوپر کی طر ف سیدھا کر نے کی کو شش کیجیے ۔ جب سرین اور ٹانگیں سیدھی کھڑی ہو جا ئیںتو اپنے دونو ں ہاتھو ں کو اور اوپر لائیے تا کہ ریڑھ کا ستون بھی سیدھا ہو جائے۔ جسم کو ایک منٹ تک اسی حالت میں رہنے دیجیے اور تدریجی مشق سے اس حالت میں چند منٹ تک قائم رہنے کی کوشش کیجئے ۔ پہلے کی وضع میں آنے کے لیے ہا تھوں جو جس طر ح اوپر کی طرف کھسکا یا تھا اسی طر ح نیچے کی طر ف سر کا تے چلے آئیے ۔ یہا ں تک کہ آپ کا جسم پھر فر ش سے لگ جائے۔ اوپر کی طر ف سیدھی پو زیشن سے جائے ٹانگو ں کو یک لخت زمین پر نہ گرائیے ۔ وہ عورتیں جن کو یہ ورزش دشوار معلوم ہو تی ہو اور مونڈھو ں پر کھڑی نہیں ہو سکتی ہو ں ، ان کو فرش پر لیٹ کر جسم کو پشت کے بل لیٹنا چاہیے ۔ ایسا کرتے وقت شانو ں کو سیدھا رکھیں اور ٹانگو ں اور دھڑ کو پشت کے بل اٹھائیں ، یہا ں تک کہ ٹانگو ں کو جسم سے اوپر اٹھا سکیں اور اس تمام حرکت میں ہاتھو ں سے کمرکو اوپر سے تھام کر ریڑھ کو سہا را دیتے رہنا چا ہیے ۔ شکم کو کسنے کے لیے ایک قدم اور آگے بڑھانا پڑے گا ۔ یہ یو گا کی ایک شکل ہے ۔ اس ورزش کو مونڈھوں پر کھڑے ہونے کی حالت میں شروع کیا جا تاہے اور ٹانگو ں کو حرکت دیکر سر سے اوپر لا کر با ہر کی طرف نکال دیا جاتاہے۔ اس وقت پیر حرکت میں نہ ہو ں ۔ گھٹنے سیدھے ہو ں اور پیر فر ش تک ٹک جا ئیں ، پھر ہا تھو ں کو اوپر سے لا کر انگوٹھو ں کو چھوا جائے۔ ٹانگوں کو فر ش تک لا نے کے لیے زور نہ لگایا جا ئے ۔ اگر آپ کی کمر سخت ہے اور کا فی نہیں مڑ سکتی تو اس کو صرف اتنا ہی موڑا جا ئے جتنی آسانی سے مڑ سکتی ہو۔ اس عمل کو روزانہ کرنے سے کمر میں لچک پیدا ہو تی چلی جائے گی ، یہا ں تک کہ پیر زمین سے قریب تر لائے جا سکیں گے ۔ اب آہستہ آہستہ پہلی پو زیشن پر آیا جا ئے اور جسم کو نیچے لا نے میں ہا تھو ں سے مدد لی جائے ۔کمر کو لچک دار رکھنے نیز شکم کے عضلا ت کو کسا ہوا رکھنے کے لیے دونو ں ورزشیں مجھ کو بہت پسند ہیں۔ جب اس ورزش سے پیر زمین سے چھونے لگیں تو تکان کو دور کرنے کے لیے یہ بہترین ورزش ہے اورمیں ایسا ہی کر تاہو ں ۔ جسم کے وسطی حصے کی اصلا ح شکم کے عضلا ت کو کسنے اور قوی کرنے کے لیے ایک اور ورزش ہے جس میں جسم کو کھینچنا پڑتا ہے ۔ زمین پر چِت لیٹ جا ئیے اور با زوؤں کو پہلوؤں سے ملا ہوارکھیے ۔ اب سیدھے گھٹنے کو جھکائیے اور اپنی ٹانگ کو سر پر لائیے۔ انگوٹھے اوپر کی طرف رخ کیے ہوئے ہو ں ۔ چند منٹ تک اسی حالت میں قائم رہیے ۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ سے پیر کو زمین تک لاتے ہوئے پیر کو فر ش پر پھیلا تے ہوئے لائیے ، یہا ں تک کہ ٹانگ سیدھی ہو جائے ۔ اسی کو دوسری ٹانگ پر دوہرائیے۔ یہ دوسری ورزش شکم کے ڈھیلے عضلا ت کے لیے بہت نفع بخش ہے ۔ چہرے کے بل فر ش پر لیٹ جائیے اور ہتھیلیو ں کو شانوں کے محا ذ میں کہنیو ں کی سطح پر زمین سے لگا دیجیے ۔ کہنیا ں ذرا باہر کو نکلی ہوئی ہو ں ، پھر اندر اور با ہر سانس لیتے ہوئے جسم کو اوپر اٹھائیے ، جسم کو اٹھاتے وقت سر، شانے اور شکم ایک سیدھ میں ہونے چاہیں ۔ پھر سانس کو باہر خارج کر کے جسم کو آہستہ سے فرش تک لے آئیے ۔ اس ورزش سے بڑھا ہو اشکم نرم ہو جاتاہے اور اندرونی و بیرونی عضلا ت کو تحریک ہو تی ہے۔ اس سے جسم کی ہیت میں مو زونیت آتی ہے لیکن شانوں کی ہڈیوں کے درمیان گو شت کا جو مدور لوتھڑا ہو ا ہوتاہے وہ جسم کو بدو ضعی پر قائم رکھتا ہے ۔ پہلی نگا ہ جسم کے چوکھٹے پر پڑتی ہے اورا گرجسم کے انداز و قامت میں نقص ہوتاہے تو دوسری خوبیاں ماند پڑسکتی ہیں ۔ جھکے ہوئے شانے تھکان اور اداسی کے مظہر ہو تے ہیں ۔ ضروری نہیں کہ ان کا تعلق عمر و سال سے ہو ۔ ایک 20 سالہ نوجوان بھی ادھیڑ عمروالوں کی سی خستہ و خرا ب حالت میں پایا جا سکتا ہے ، اگر اس کی چال ڈھال میں جوانو ں کا سا اندا ز نہ ہو ۔ذیل کی ورزشیں فاضل چر بی کو تحلیل کر تیں اور شانو ں کے رقبے کو درست کر تی ہیں :جسم کے خطو ط کو صحیح کرنے کے علا وہ یہ ورزشیں عضلا ت کو قوی بھی کرتی ہیں۔ فر ش پر جھک جائیں ، گھٹنے مڑے ہوئے ہو ں اور ہا تھ کے اگلے حصے اور ہتھیلیا ں سامنے فرش پر ٹکی ہو ئی ہو ں ۔ گھٹنوں کو ایک فٹ پیچھے ہٹا یا جائے اور گہری سانس لیکر اوپر کی طر ف اس طرح اٹھا یا جا ئے کہ پیر فرش پر ٹکے ہوئے ہو ں اور گھٹنے سیدھے ہو جائیں ۔ کہنیا ں فر ش پر رکھی ہو ئی ہو ں اور جسم کا سارا وزن ہاتھو ں اور پیر کی انگلیو ں پر ہو ۔ پھر سر کو آہستہ آہستہ اس قدر اوپر اٹھا یا جائے جس قدر اٹھ سکے ۔ اس کے بعد سانس نکالی جائے اور گھٹنو ں کو فر ش پر پھر ٹکا دیا جائے ۔ جسم کے ساتھ سر کو اوپر اٹھانے سے شانے کے رقبے کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ بدن کو کھینچنے اور پھیلا نے سے زائد گو شت چھٹتا ہے اور کمر کے اوپر مرکز کے نرم اور پلپلے عضلا ت مضبو ط ہو تے ہیں ۔ سینے کے رقبے کو تر چھی وضع سے تحریک ہوتی ہے۔ خمیدہ شانو ں کو خیر باد ذیل کی دوا اعلیٰ درجے کی ورزشیں خمید ہ شانو ں کو سیدھا کر تی ہیں اور اس کے ساتھ چھا تی کے رقبے میں عضلا ت کو قوی کر تی ہیں ۔ شانے کے رقبے کو کمک پہنچا کر آپ جسم کے خطوط کو صحیح او ر قد وقامت کی خو بی کو آسانی سے برقرار رکھ سکتی ہیں ۔ سیدھے کھڑے ہو جائیے اور با ئیں ہا تھ کی پشت ( ہتھیلیا ں باہر کی طرف اور کھلی ہوئی ہو ں ) کو پیچھے کی طرف لے جا کر دائیں شانے کی ہڈی کے کنا رے تک پہنچانے کی کو شش کریں ۔ پھر اسی طر ح دائیں ہاتھ کی پشت کو پیچھے کی طر ف لے جا کر بائیں شانے کی چپٹی ہڈی کے کنا رے کو چھونے کی کو شش کریں۔ بہت ممکن ہے کہ دونوں ہا تھو ں کی انگلیا ں ایک دوسرے کو چھو نہ سکیں ، لیکن آپ کی کو شش یہ ہی ہو نی چاہیے کہ بتدریج دونو ں ہا تھو ں کی انگلیا ں آپس میں مل سکیں، لیکن اس کو شش میں اتنا زور نہیں لگا نا چاہیے ۔ کہ تکلیف محسو س ہو نے لگے۔ اسی وضع پر دو تین منٹ رہیں ۔ اس دوسر ی ورزش میں آلتی پا لتی ما ر کر فر ش پر بیٹھا جا تا ہے ، ریڑھ کے ستون کو سیدھا کھڑا رکھا جا تاہے اور با زو پشت پر رکھے جاتے ہیں ۔ دونوں ہا تھو ں کی ہتھیلیوں کو ساتھ ساتھ کمر کے زیریں حصے پر رکھا جاتاہے اور آہستہ آہستہ جڑی ہوئی ہتھیلیوں کو اوپر کی طر ف کھسکا یا جا تا ہے اور اس کوشش میں شانو ں کے نیچے کی طرف ڈھلنے کے رجحان کو روکا جاتاہے ۔ جیسے جیسے مشق بڑھتی جائے اور کا م آسان ہو تا جائے اوپر کی طرف ہا تھو ں کو بڑھا تے جائیں ، لیکن اس عمل کو زور لگا نے کے بجائے پھر تی سے کیا جائے ۔ ان تمام ورزشو ں کی مشق سے قد و قامت اور جسم کے انداز کی اصلا ح ہو جاتی ہے ۔ جس سے ظاہری شبا ہت اور جسم کی خو ش نمائی میں اضا فہ ہوتاہے ۔ عمر کے لحا ظ سے صحت زیادہ بہتر رہتی ہے اور روح میں تازگی اور بلندی کا احساس ہو تاہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم کی ہیئت کو در ست رکھنے کے لیے عورتو ں کو مردو ں سے زیادہ جسم کا تحفظ کرنے اور اس کو ورزش سے صحت مند رکھنے کی ضرورت ہے ، مگر معاملہ اس کے برعکس ہے ۔

Last modified on چهارشنبه, 01 بهمن 1393 09:49
Login to post comments