×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

دمہ کے بارے ميں اہم باتيں جنہيں ياد رکھنا ضروري ہے

مهر 29, 1392 803

چاہے آپ کا بچہ بہتر لگ رہا ہو، پھر بھي اس کي سانس کي نالياں دمہ کے حملے کے بعد 6 سے 8 ہفتوں يا اس سے زيادہ عرصہ کے لئے سوجي

ہوئي ہو سکتي ہيں- آپ کے بچے کو کنٹرولر دوا کا استعمال جاري رکھنا چاہيئے-

آپ کو اس ايکشن پلان پر عمل کرنا چاہيئے جو آپ نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر بنايا ہو - ايکشن پلان ڈاکٹر کا ديا ہوا وہ تحريري پلان ہوتا ہے جو آپ اور آپ کے بچے کي رہنمائي کرتا ہے کہ دمے پر قابو پانے کيلئے روزانہ کيا کرنا ہے- اس پلان سے آپ کو يہ جاننے ميں بھي مدد ملتي ہے کہ بچے کا دمہ بگڑنے کي صورت ميں کيا کيا جانا چاہيئے-

 آپ دمہ سےمنسلک ايک اور مسئلے کو روکنے ميں مدد کر سکتے ہيں اگر آپ اپنے بچے کو ان چيزوں سے دور رکھيں جو اُسکے دمہ کو بگاڑنے موجب بنتي ہيں ( دمہ کو جاري کرنے والي چيزيں)-

 اگر بچہ 6 سال يا اس سے زيادہ عمر کا ہے تو ڈاکٹر سے اپنے بچے کے دمہ کے لئے "پھونک مارنے يعني بلوئنگ"ٹسٹ کا کہيں جسے" پلمونري فنکشن ٹسٹنگ " کہا جاتا ہے -يہ ٹسٹ دمہ کي تشخيص اور نگراني کے لئے کيا جاتا ہے-

 ہنگامي صورت حال ميں

 فوري طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کريں اگر:

 •   دمہ سے سکون پہنچانے والي دوا اپنا اثر نہيں کر رہي، يا اس کا اثر 4 گھنٹوں تک ہي رہتا ہے يا

 •   آپ کا بچہ 2 يا 3 دن کے بعد بھي بہتر محسوس نہيں کر رہا،يا

 •    آپ کے بچے کي حالت بگڑ رہي ہو

 قريبي ايمرجينسي ڈيپارٹمينٹ ميں جائيں اگر:

 •    آپکا بچہ دمہ کي علامات کے باعث کھانے، سونے، يا بات کرنے ميں دشواري محسوس کر رہا ہو، يا

 •    بچے کو سانس ليتے ہوئے جھٹکے لگ رہے ہوں، يا نگلتے ہوئےگلے اور پسليوں ميں درد ہو، يا

 •   دمہ سے سکون پہنچانے والي دوا اپنا اثر نہيں کر رہي

 اہم نکات

 •  دمہ کي عام علامتوں ميں سانس سے خرخراہٹ کي آوازيں نکلنا،کھانسي اور سانس لينے ميں دشواري ہے-

 •   جب آپکے بچے کا دمہ بگڑ جاتا ہے تو اُسکي سانس کي نالياں بہت تنگ ہو جاتي ہيں اور اُسے پھيپڑوں سے ہوا اندر باہر لے جانے ميں بہت مشکل پيش آتي ہے-

 •  اس بات کي اچھي طرح توثيق کرليں کہ آپ کا بچہ تمام ادويات ڈاکٹر کي ہدايات کے عين مطابق استعمال کر رہا ہے-

 •  اُن وجوہات کو تلاش کرنے کي کوشش کريں جن کي وجہ سے آپ کے بچے پر دمہ حملہ آور ہوتا ہے اور اپنے بچے کي ان سے دور رہنے ميں مدد کريں-

 •  اگر آپ ابتدائي تنبيہي علامات ميں سے کوئي ايک بھي محسو س کريں کہ آپ کے بچے کا دمہ بگڑ رہا ہے، تو فوري طور پر اس ايکشن پلان پر عمل کريں جو آپ نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر تشکيل ديا ہے-

 •   دمہ کي خطرناک ترين علامتوں ميں بات کرنے ميں دشواري،غير معمولي غنودگي،بيدار ہونے ميں دشواري، ہونٹوں يا جلد کي رنگت نيلي پڑ جانا يا بچے کے گردن يا سينے پر سے جلد اندر کي طرف کھنچنا شامل ہيں-

Last modified on پنج شنبه, 01 خرداد 1393 12:30
Login to post comments