×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

روزے کے جسماني اثرات

مهر 30, 1392 603

بےشک علم طب ميں، امساک اور خورد و نوش سے پرہيز کا معجزانہ کردار، مختلف قسم کي جسماني اور روحاني بيماريوں کے علاج ميں ثابت ہوچکا ہے- بہت سي بيماريوں کا

سبب شکم پروري اور مختلف قسم کي غذاۆں کا استعمال ہے-پيغمبر خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ)

"وَاعْلَمْ إنَّ الْمِعْدَةَ بَيْتُ الدّاءِ وَإنَّ الْحَمِيَّةَ هِىَ الدَّواءُ"- (1)؛

"معدہ ہر درد و بيماري کا گھر اور [کھانے مين زيادہ روي اور نامناسب غذاۆں سے] پرہيز ہر شفابخش دوا کي بنياد ہے"-

بہت سي نفسياتي بيماريوں، غلط افکار، بدگماني، گناہ، غيرمنطقي و غيرمعقول شناخت سرچشمہ پيٹ ہے اور روزہ کھانے پينے کو محدود کرکے ايک طرف سے ہاضمے اور نظام انہضام کو تقويت پہنچاتا ہے اور دوسري طرف سے انسان کے افکار کو قابو ميں لاکر انسان کو گناہ سے بچاتا اور آلودگيوں سے باز رکھتا ہے-

بالفاظ ديگر روزہ بدن ميں فاضل اشياء، ہضم نہ ہونے والے مواد کو جلاديتا ہے اور حقيقت ميں بدن کے تمام حصوں کو الٹ پلٹ کر جسم کو صاف کرديتا ہے اور روح کو تلاوت قرآن اور مختلف دعاۆں کے ذريعے تقويت پہنچاتا ہے- خلاصہ يہ کہ روزے کے ذريعے انسان کي جسماني اور نفسياتي سلامتي کي ضمانت فراہم ہوتي ہے اور اسي بنا پر پيغمبر خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ) نے فرمايا: "صوموا تصحّوا"- (2)؛ "روزہ رکھو صحتمند ہوجاۆ"- اگر روزہ مقررہ شرائط و ضوابط کے ساتھ رکھا جائے تو اس کے بہت اہم تربيتي، سماجي اور جسماني اثرات ہوسکتے ہيں- (3)

حوالہ جات:

1- بحارالانوار، ج 58، ص 307، )بيروت، مۆسسة الوفاء)-

2- بحارالانوار، ج 58، ص 255- کنزالعمال ـ علي المتقي بن حسام هندي (المتوفى سنه 975) ـ ج 8 ص 450-

3- برائے مطالعہ رحوع کريں:

 الف- اليكسى سوفورين، روزه، روش نوين، براى درمان بيمارى‏ها، ترجمه جعفر امامى-

 ب- سيد حسين موسوى لاهيجى، روزه، درمان بيمارى‏هاى روح و جسم،( انتشارات جامعه مدرسين حوزه علميه قم)-

 پ- عبدالكريم بى‏آزار شيرازى، رساله نوين فقهى پزشكى، ج 2،( دفتر نشر فرهنگ اسلامى)

 ت- سيد رضا پاك‏نژاد، اولين دانشگاه و آخرين پيامبر، ج 3( انتشارات كتابفروشى اسلاميه)

Last modified on شنبه, 27 ارديبهشت 1393 10:37
Login to post comments