نیویئر اسٹوکس ملینیم انعامی مسئلے کے حل پر اوپن اے آئی کو تنقید کا سامنا
science-and-technology

نیویئر اسٹوکس ملینیم انعامی مسئلے کے حل پر اوپن اے آئی کو تنقید کا سامنا

Editorial Team•Sep 10, 2026 · 5:53 AM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: ایک محقق جدید اے آئی لیب میں ریاضی کی مساوات کا جائزہ لے رہا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
مصنوعی ذہانت کے ذریعے ریاضی کے ملینیم انعامی مسئلے کے دعویٰ کردہ حل پر محققین سوال اٹھا رہے ہیں اور ممکنہ آئی پی او سے قبل کامیابی بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگا رہے ہیں

اوپن اے آئی کو اس اعلان کے بعد تنقید کا سامنا ہے کہ اس کے اندرونی مصنوعی ذہانت کے نظام نے ریاضی کے مشہور ملینیم انعامی سوالات میں شامل نیویئر اسٹوکس مسئلہ حل کر لیا ہے۔ کمپنی نے منگل کو بتایا کہ تقریباً دس ہزار اے آئی ایجنٹس نے کوئی اٹھاسی گھنٹے کام کر کے کمپیوٹر سے تصدیق شدہ ثبوت تیار کیا۔ اس کامیابی پر کلے میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے دس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا ہے، تاہم اوپن اے آئی نے کہا کہ وہ یہ رقم حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

اس اعلان نے سائنسی اور ٹیکنالوجی حلقوں کو تقسیم کر دیا ہے۔ بعض مبصرین نے اسے ریاضی کے لیے ایک پرجوش دن قرار دیا جبکہ دیگر نے سرقے کے شبہات ظاہر کیے اور سوال اٹھایا کہ کیا یہ نتیجہ واقعی اتنا اہم ہے جتنا کمپنی دعویٰ کر رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اعلان کا وقت ممکنہ اسٹاک مارکیٹ میں اندراج سے قبل اوپن اے آئی کی مالیت بڑھانے کی کوشش سے جڑا ہو سکتا ہے۔

اہم پیش رفت کا اعلان اور فوری تنقید

اوپن اے آئی نے بتایا کہ اس کے اندرونی اے آئی نظام نے نیویئر اسٹوکس مسئلہ حل کیا، جس کا تعلق مائعات اور گیسوں کی حرکت بیان کرنے والی مساواتوں سے ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا مخصوص حالات میں یہ ریاضی اچانک ٹوٹ سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اے آئی ایجنٹس نے لاکھوں پیغامات کا تبادلہ کیا اور ثبوت تیار کرنے سے قبل تقریباً ایک سو تیس ارب آؤٹ پٹ ٹوکنز پیدا کیے۔

کمپنی نے اس نتیجے کو اپنے اندرونی اے آئی نظاموں کی تیز رفتار ترقی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ تاہم ریاضی دانوں نے آزادانہ جانچ سے قبل مسئلہ حل ہونے کا اعلان کرنے کے خلاف احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

ملینیم انعام کا پس منظر

نیویئر اسٹوکس مسئلہ ان سات ملینیم انعامی مسائل میں شامل ہے جو کلے میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ نے سن دو ہزار میں قائم کیے تھے۔ ہر مسئلے کے درست حل پر دس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا ہے۔ یہ مسائل ریاضی کے انتہائی مشکل اور حل طلب سوالات میں شمار ہوتے ہیں اور اب تک ان میں سے صرف ایک کو سرکاری طور پر حل کیا جا چکا ہے۔

اوپن اے آئی نے تسلیم کیا کہ یہ منصوبہ اس خبر کے بعد شروع ہوا کہ بیرونی ریاضی دانوں نے متعلقہ مسائل پر پیش رفت کی ہے۔ کمپنی نے ان کے غیر مطبوعہ کام تک رسائی کی تردید کی لیکن کہا کہ وہ اس امکان کو مسترد نہیں کر سکتی کہ محققین کے اوپن اے آئی مصنوعات کے استعمال سے حاصل ہونے والے گمنام ڈیٹا نے اس کے ماڈلز کو بہتر بنانے میں مدد کی ہو۔

ماہرین کے ردعمل اور مخصوص الزامات

نیویارک یونیورسٹی کے ریاضی دان ٹرسٹن بک ماسٹر نے اوپن اے آئی پر الزام لگایا کہ اس نے یہ جاننے کے بعد ہی بڑے پیمانے پر وسائل اس مسئلے پر لگائے کہ وہ اور اینتھروپک کے محقق لیونٹ الپوگے متعلقہ طریقہ کار پر پیش رفت کر رہے ہیں۔ ڈیاگو کورڈوبا، جن کے کام نے اے آئی کے استعمال کردہ طریقہ کار کی بنیاد رکھنے میں مدد کی، نے کہا کہ ایک درست حل ایک بڑا حیرت انگیز واقعہ ہوگا۔

ٹیکنالوجی کے ممتاز مبصر مہدی، جن کے ایکس پر بڑی تعداد میں پیروکار ہیں، نے اس اعلان پر طویل تنقید کا آغاز کیا اور کمپنی پر الزام لگایا کہ وہ انسانی علم کے بنیادی طریقہ کار کو نجی ملکیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اوپن اے آئی نے مسئلے کا آسان ورژن حل کیا اور حقیقی مشینی استدلال کے بجائے زبردست کمپیوٹیشنل طاقت استعمال کی، اور یہ نتیجہ اسٹاک مارکیٹ میں اندراج سے قبل ایک مصنوعی اسپوتنک لمحہ پیدا کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

آگے کیا ہوگا

اوپن اے آئی کا موقف ہے کہ اس کا نتیجہ انعامی مسئلے کی سرکاری شرائط پر پورا اترتا ہے۔ ثبوت کی آزادانہ تصدیق ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور ریاضی دانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک بیرونی ماہرین اس کام کا جائزہ نہیں لیتے، اس کامیابی کو تصدیق شدہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ کمپنی اور وسیع تر تحقیقی برادری کی جانب سے مزید وضاحت کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!