×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

واقعہ عاشورہ کے بعد چالیسویں دن کا تاریخی لحاظ سے تجزیہ

مرداد 11, 1393 464

شہیدوں کے سردار حضرت امام حسین بن علی عیلہ السلام کی شہادت کے چالیسویں کی قدر و منزلت آنحضرت کے شیعوں کے نزدیک بہت

ہی خاص اہمیت کی حامل ہے ۔ بہت سے صاحب فکر اور شیعہ و سنی مورخین کے مطابق ، اس عظیم واقعے کی تاریخی بنیاد ، واقعہ عاشورہ کے چالیس دن گزرنے کے بعد اہل بیت کا کربلا میں داخل ہونا (سال 61 هجرى) اور شہداء کے سروں اور خاص طور پر حضرت امام سجاد علیہ السلام کے توسط سے حضرت امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کی ان  کے پیکر مقدس کے پاس تدفین کی خاص اہمیت ہے ۔ بہت سے شیعہ و سنی فقہ کے مشہور علماء و مورخین نے اس بات کی تائید کی ہے کہ جن میں سے بعض کی طرف ہم مختصر طور پر یہاں اشارہ کریں گے ۔
1۔ ابو مخنف ۔ لوط بن یحیى ۔ حضرت امام حسین (ع) کے ہم عصر  (1)
2۔ شیخ صدوق، (سال  وفات 381 ق )
" امام سجاد علیہ السلام اہل بیت (ع) اور شہداء کے پاک سروں کو لے کر دمشق سے باہر آئے اور مقدّس سروں کو کربلا میں دفن کیا ۔ " (2 )
3۔ اسفرائنى (سال وفات 406ق) مذھب شافعی کے ایک اعلی عالم
" کہتے ہیں کہ اہل بیت (ع) بیس صفر کو کربلا میں داخل ہوئے اور جابر کے ساتھ ملاقات کی ۔ "
4۔ علم الهدى سید مرتضى (سال وفات 436ق.) لکھتے ہیں کہ :
" درحقیقت سر مطہر امام حسین علیہ السلام کو کربلا میں ان کے پیکر مقدس کے پاس لایا گیا ۔" (3)
 5۔ ابو ریحان بیرونى، مشہور محقق اور ریاضی دان(سال وفات 440ق) نے اپنی معروف کتاب «الآثار الباقیة‏» میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
6۔ شیخ طوسى (سال وفات  460ق) حضرت امام حسین علیہ السلام  کے چالیسویں پر ان کی زیارت کی سنّت ہونے کی وجہ صرف کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور دوسرے شہداء کے سروں کی تدفین کی انجام دہی کو قرار دیتے ہیں ۔ (5)
اہل سنّت کے ایک معروف عالم دین سبط ابن الجوزى(سال وفات 654ق) یوں بیان کرتے ہیں : " مشہور روایات کے مطابق ، حضرت امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک کربلا میں واپس لایا گیا اور ان کے جسد مقدّس کے ساتھ دفن ہوا ۔" (6 )

Login to post comments