×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

ولادت امام (عج) اور شیعہ اور سنی محدثین کا اختلاف

مرداد 15, 1393 519

شیعہ اور سنی محدثین کے درمیان واحد اختلاف یہ ہے کہ اہل سنت امام (عج) کی ولادت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے

جس شخصیت کے آنے کی بشارت دی ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں اور مستقبل میں پیدا ہونگے۔ (1) جبکہ شیعیان آل رسول (ص) استدلال کے ذریعے بھی اور یقینی منقولہ دلائل کی بنا پر بھی، معتقد ہیں کہ "امام مہدی (عج) سنہ 255 ہجری میں امام حسن عسکری (ع) کی صلب سے، متولد ہوئے ہیں۔ اور دو غیبتوں (صغری اور کبری) کے مالک ہیں۔ (2)  
امام (عج) کی ولادت پر دلالت کرنے والی ایک دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
{من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة الجاهلیة}۔ (3)
"یعنی جو بھی اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مر جائے وہ جاہلیت و شرک کی موت مرا ہے"۔ اور اگر امام زمانہ پیدا نہ ہوئے ہوں تو امام حسن عسکری (ع) کی شہادت کے بعد رسول اللہ (ص) کا یہ ارشاد (معاذاللہ) بے معنی ہوگا۔
ادھر سنی مورخین کی قابل توجہ تعداد نے اپنی کتب میں حضرت امام زمانہ (عج) کی ولادت ثبت کی ہے اور اس کو ایک حقیقت قرار دیا ہے۔ ان مورخین کی تعداد 100 تک بتائی گئی ہے۔ (4)
اہل سنت نے امام مہدی (عج) کی ولادت اور حیات کی تصدیق کرنے کے بعد اس موضوع میں اختلاف کیا ہے کہ امام (عج) کس امام (ع) کی اولاد سے ہیں؟
حوالہ جات:
1۔ ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج 7، ص 94، و ج 10، ص 96۔
2۔ یہ بات شیعہ علماء منجملہ شیخ عباس قمی نے منتہی الآمال میں نیز شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے ینابیع المودہ ج 3، ص 249۔
3۔ یہ حدیث اٹھارہ متون میں ـ جو ایک دوسرے کے قریب ہیں ـ شیعہ اور سنی علماء سے نقل ہوئی ہے اور سنی علماء نے اس کو متواتر قرار دیا ہے اور اہل سنت کے 70 منابع سے نقل ہوئی ہے مثال کے طور پر: 1ـ مسند ابی داؤد م 204۔ 2ـ نقض العثمانیه اسکافی نے اپنی کتاب المناقب کے صفحہ 11 و 12 پر بحوالہ ابن ابی الحدید، ج 13، ص 242 نقل کی ہے۔ ـ 3۔ مسند احمد بن حنبل، م 241، ج 2، ص 83 و 154 و ص 111، از ابن عمر و ص 296 از ابوهریره۔
4۔ ابن حجر هیثمی، الصواعق المحرقه، ط 2، قاهره، 1358 ه ص 208، شبراوی الاتحاف بحب الاشراف، ط 2، قم ، منشورات الرضی ، 1363 ه ۔ ش۔ ص 179۔
بعض کا کہنا ہے کہ امام (عج) امام حسن مجتبی (ع) کی نسل سے ہیں (5) ابن حجر نے اس اس قول کی توجیہ میں کہا ہے: امام حسن مجتبی (ع) نے شفقت کی بنا پر خلافت کو ترک کیا اور معاویہ کے ساتھ مصالحت کرلی اور خداوند متعال نے امام زمانہ (عج) کو ان ہی کی نسل سے قرار دیا اور جو احادیث دلالت کرتی ہیں کہ امام مہدی (عج) امام حسین (ع) کی نسل سے ہیں، درست نہیں ہیں! اور ان کے اثبات کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (6)  
جواب یہ ہے کہ یہ قول بارہا رد کیا گیا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ راوی یا ناسخ (نسخہ نویس) نے غلطی کی ہو کیونکہ حسن اور حسین بہت قریبی ہیں اور صدر اول میں چونکہ حرف پر نقطہ گذاری نہیں ہوتی تھی اسی وجہ سے کلمات میں اس طرح کے اشتباہات ہوتے رہتے تھے۔
2۔ امام حسن (ع) کے ساتھ امام مہدی (عج) کی نسبت وہی ہے جو رسول اللہ (ص) کے ساتھ امام حسن (ع) کی تھی اور امام مہدی (عج) ماں کے توسط سے امام حسن (ع) سے بھی متصل ہیں کیونکہ امام سجاد (ع) کی زوجہ مطہرہ اور امام محمد باقر (ع) کی والدہ حضرت امام حسن مجتبی (ع) کی بیٹی سیدہ فاطمہ (س) تھیں اور اس لحاظ سے امام زمانہ (عج) امام مجتبی (ع) کی نسل سے بھی ہیں اور امام حسین (ع) کی نسل سے بھی چنانچہ ایک قول دوسرے سے متصادم نہیں ہے اس بات کی تائید میں اہل سنت اور اہل تشیع کے علماء نے متعدد روایات نقل کی ہیں۔ (7)
اور ظلم و جور کی بنیاد رکھنے والے معاویہ کے ساتھ امام حسن (ع) کی صلح کا واقعہ وجود امام زمانہ سے کوئی منطقی تعلق نہیں ہے اور امام زمانہ (عج) کی امامت پاداش اور انعام کا دوسرا نام نہیں ہے۔ اور ابن حجر کی روایت میں معاویہ کی تائید پائی جاتی ہے جس کے لئے امام حسن (ع) کے لئے انعام قرار دینا اس کے عقیدے کے مطابق، معقول نہیں ہے چنانچہ یہ روایت جعلی اور موضوعہ بھی ہوسکتی ہے جو ترمذی نے بھی اس کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کیونکہ اس طرح کی جعلی احادیث ان کتابوں میں بکثرت پائی جاتی ہیں جن کی وجہ مذہب اہل بیت (ع) سے دشمنی اور عداوت ہے۔
حوالہ جات:
5۔ ترمذی، سنن۔
6۔ صواعق المحرقه، وہی ماخذ۔
7۔ حافظ ابو نعیم احمد بن عبدالله مناقب المهدی۔
ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

Login to post comments