ایزار ایرواسپیس کا سپیکٹرم راکٹ مدار میں پہنچ گیا
science-and-technology

ایزار ایرواسپیس کا سپیکٹرم راکٹ مدار میں پہنچ گیا

Editorial Team•Sep 6, 2026 · 3:57 PM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نمائشی تصویر ہے: ناروے کے ساحلی خلائی اڈے سے راکٹ روانہ ہوتا ہوا، جو یورپ کی خودمختار خلائی رسائی کی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
جرمنی کا سپیکٹرم راکٹ ناروے سے پانچ سیٹلائٹس لے کر روانہ ہوا اور یورپ کی پہلی تجارتی خلائی پرواز مکمل کرلی

جرمنی میں تیار کردہ ایک راکٹ کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا ہے جسے یورپ کی پہلی تجارتی مداری پرواز قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ راکٹ پانچ چھوٹے سیٹلائٹس اور ایک دورانِ پرواز ٹیکنالوجی تجربہ لے کر ناروے کے آنڈویا خلائی مرکز سے روانہ ہوا۔ باویریا کی کمپنی ایزار ایرواسپیس کے تیار کردہ بغیر عملے کے سپیکٹرم راکٹ نے ہفتے کے روز پرواز بھری، جو کمپنی کی دوسری کوشش تھی۔ اس سے قبل اٹھارہ ماہ پہلے پہلی کوشش ناکامی پر ختم ہوئی تھی۔

یہ کامیاب پرواز یورپ کی خلاء تک آزادانہ رسائی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور جرمن چانسلر فریڈرش مرٹس نے اسے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔

اس پرواز کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ یورپ طویل عرصے سے غیر ملکی لانچ فراہم کرنے والوں پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی سلامتی کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایزار کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈینیئل میٹزلر نے صنعت کی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ لانچ کی صلاحیت اس وقت پوری صنعت کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ کامیابی چھوٹے اور درمیانے درجے کے سیٹلائٹ لانچ کی مسابقتی مارکیٹ میں یورپ کی پوزیشن مضبوط کرتی ہے، جہاں حکومتوں اور کمپنیوں دونوں کے لیے خودمختاری ایک حکمت عملی کی ترجیح بن چکی ہے۔

پرواز کے اہم سنگ میل

  • سپیکٹرم راکٹ ناروے کے آنڈویا خلائی مرکز سے مدار میں پہنچا، جس میں پانچ چھوٹے سیٹلائٹس اور ایک ٹیکنالوجی تجربہ شامل تھا۔
  • کمپنی کے مطابق یہ پرواز گاڑی کی اہلیت جانچنے کا مشن بھی تھی اور پے لوڈ لے جانے والی پہلی پرواز بھی۔
  • ایزار ایرواسپیس کے پاس مزید پانچ راکٹ تیاری کے مراحل میں ہیں اور کمپنی طویل مدتی ہدف کے طور پر سالانہ تقریباً چالیس لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
  • کمپنی مشرقی کینیڈا کے صوبے نووا اسکوشیا میں دوسرا لانچ مرکز تیار کر رہی ہے جو 2028 تک پروازوں کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

پس منظر اور سابقہ کوشش

یہ ایزار کی دوسری کوشش تھی۔ اس سے قبل اٹھارہ ماہ پہلے اسی مقام سے روانہ ہونے والا پہلا راکٹ پرواز کے فوراً بعد سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔ کمپنی نے اس کے بعد اپنی گاڑی اور کارروائیوں میں بہتری لا کر کامیابی سے مدار تک رسائی حاصل کی ہے۔

سپیکٹرم راکٹ چھوٹے اور درمیانے درجے کے پے لوڈز کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سیٹلائٹ لانچ کے شعبے میں عالمی حریفوں میں ایلون مسک کی اسپیس ایکس شامل ہے جو امریکہ سے لانچ کرتی ہے، اور فرانسیسی کمپنی ایریئن گروپ بھی ہے جو ایئربس اور سفران کا مشترکہ منصوبہ ہے اور جنوبی امریکہ کے فرانسیسی گیانا میں واقع خلائی مرکز استعمال کرتی ہے۔

سویڈن اپنے ایسرینج لانچ مرکز کے ساتھ اور برطانیہ اسکاٹ لینڈ کے شیٹ لینڈ جزائر میں واقع سیکسا وورڈ خلائی مرکز کے ساتھ یورپ کی خلائی خودمختاری کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جرمن چانسلر فریڈرش مرٹس نے مارچ میں ایزار کے لانچ مرکز کا دورہ کیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ کی قیادت والا عالمی نظام بدلنے کے ساتھ یورپ زیادہ خودمختاری کے لیے کوشاں ہے۔

سرکاری ردعمل اور مالی معاونت

ناروے کی وزیر برائے صنعت و تجارت سیسلی میرسیتھ نے کہا کہ یہ لانچ نارویجن اور یورپی سلامتی دونوں کو مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت کہ اب ہم آنڈویا سے سیٹلائٹ لانچ کر سکتے ہیں، ان ہنگامہ خیز حالات میں نارویجن اور یورپی سلامتی کو تقویت دیتی ہے جن میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔

یورپی یونین کے کمشنر برائے دفاع و خلاء آندریئس کوبیلیئس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یورپ کی خلاء تک آزادانہ رسائی کو بڑا فروغ ملا ہے۔

ایزار نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ اس نے یورپی خلائی ایجنسی سے تقریباً دو سو ملین یورو (232 ملین ڈالر) کی معاونت حاصل کی ہے جو نئے راکٹوں کی تیاری اور جانچ و لانچ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع میں مدد فراہم کرے گی۔ میٹزلر نے کہا کہ نجی ملکیت کی یہ کمپنی مالی طور پر مستحکم ہے اور ابتدائی عوامی پیشکش کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

آگے کا راستہ

ایزار ایرواسپیس اب بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں وسیع کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور اس کے پاس پانچ اضافی راکٹ پہلے ہی تیاری کے مراحل میں ہیں۔ کمپنی سالانہ تقریباً چالیس لانچ کرنے کا طویل مدتی ہدف رکھتی ہے اور نووا اسکوشیا کے مقام پر کام آگے بڑھا رہی ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ 2028 تک پروازوں کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

مدار میں پہنچائے گئے پانچ سیٹلائٹس کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلات کی سرکاری طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!