اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ چاند سے ٹکرا گیا، نیا گڑھا وجود میں آگیا
science-and-technology

اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ چاند سے ٹکرا گیا، نیا گڑھا وجود میں آگیا

Editorial Team•Aug 5, 2026 · 2:30 PM•5 min read
AI-generated representative image: ایک مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ تصوراتی تصویر جس میں فالکن 9 راکٹ کا بے قابو اوپری مرحلہ چاند کی سطح کے قریب آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
بے قابو چار ٹن وزنی راکٹ سیگمنٹ آئن سٹائن کریٹر کے قریب 5,400 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرایا، خلائی ملبے کا یہ پہلا چاند سے تصادم ہے

اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا چار ٹن وزنی بالائی مرحلہ بدھ کی صبح تقریباً 2:35 بجے مشرقی وقت (06:35 جی ایم ٹی) چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔ تاہم باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے کیونکہ سگنلز کو زمین تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔

یہ راکٹ سیگمنٹ جنوری میں چاند پر لینڈر بھیجنے والے مشن کے بعد سے خلا میں بے قابو ہو کر گردش کر رہا تھا۔ اس کے چاند کے مغربی کنارے پر آئن سٹائن کریٹر کے قریب تقریباً 5,400 میل فی گھنٹہ (8,690 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے ٹکرانے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔ اسپیس ایکس نے تصدیق کی ہے کہ یہ حادثہ غیر ارادی تھا۔

یہ واقعہ اگرچہ زمین کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں، تاہم اس نے انسانی ساختہ خلائی ملبے کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر تشویش کو پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق اس وقت زمین کے گرد 46,000 سے زائد خلائی ملبے کے ٹکڑے گردش کر رہے ہیں جن کا مجموعی وزن 17,000 ٹن ہے۔ چاند سے یہ غیر ارادی ٹکراؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے جسے ماہرین بچے ہوئے خلائی آلات کو ٹھکانے لگانے میں ایک طرح کی لاپروائی قرار دیتے ہیں۔

کیا ہوا

فالکن 9 جنوری میں فلوریڈا سے دو چاندی لینڈرز لے کر روانہ ہوا تھا۔ جہاں دوبارہ قابل استعمال نچلا بوسٹر کامیابی سے زمین پر واپس آ گیا، وہیں بالائی مرحلہ لینڈرز کو آگے بڑھانے کے لیے خلا میں ہی رہا۔ زمین کے قریب ہونے والے عام مشنز میں بالائی مرحلہ واپس گر کر فضا میں جل جاتا ہے یا سمندر میں جا گرتا ہے، لیکن اس مشن کو اضافی زور درکار تھا جس کے باعث دوسرا مرحلہ مدار میں ہی پھنس کر رہ گیا۔

بقیہ ایندھن خارج کرنے اور بے قابو ہو جانے کے بعد یہ راکٹ سیگمنٹ ہزاروں دیگر خلائی ملبے کے ٹکڑوں کے درمیان بھٹکتا رہا۔ ماہرین فلکیات نے رواں سال کے آغاز میں ہی یہ تعین کیا کہ اس کی مداری رفتار چاند پر ختم ہو گی۔ اسپیس ایکس میں ناسا کے سائنسی مشنز کی ڈائریکٹر جولیانا شیمین نے وضاحت کی کہ شمسی سرگرمیوں اور کشش ثقل کی قوتوں کے امتزاج نے بالآخر اسے چاند کی سطح سے ٹکرانے کی راہ پر ڈال دیا۔

چاند پر مصنوعی اشیا کے ٹکراؤ کی تاریخ

مصنوعی اشیا کا چاند سے ٹکراؤ نسبتاً نایاب ہے، البتہ اس کی نظیریں موجود ہیں۔ مارچ 2022 میں ایک چینی راکٹ کا سیگمنٹ چاندی مشن کے تجربے کے بعد چاند سے جا ٹکرایا تھا۔ ناسا نے بھی متعدد مواقع پر دانستہ طور پر آلات چاند کی سطح سے ٹکرائے ہیں: 2009 میں اس نے ایک راکٹ سیگمنٹ چاند سے ٹکرا کر خارج ہونے والے مادّے کے بادل کا مطالعہ کیا، جبکہ 1970 کی دہائی میں سیٹرن فائیو کے مراحل کو زلزلہ پیما اثرات کی پیمائش کے لیے دانستہ طور پر ٹکرایا گیا تھا۔

حالیہ برسوں میں نرم لینڈنگ کی متعدد کوششیں بھی حادثے کا شکار ہوئیں۔ روس کا نیوکلیئر توانائی سے چلنے والا لونا-25 مشن 2023 میں بے قابو ہو کر تباہ ہو گیا، البتہ خیال ہے کہ اس کا پلوٹونیم-238 توانائی کا ذریعہ چاند کی سطح پر محفوظ طریقے سے موجود ہے۔ بھارت کا چندریان-2 لینڈر اور اسرائیل کا بیرشیٹ لینڈر دونوں 2019 میں تباہ ہو گئے تھے۔ بیرشیٹ لینڈر میں خاص طور پر ٹارڈی گریڈز نامی خوردبینی جاندار موجود تھے جو شدید تابکاری اور سخت ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ممکنہ طور پر اب بھی چاند کی سطح پر موجود ہو سکتے ہیں۔

سرکاری بیانات اور سائنسی دلچسپی

ناسا کے ترجمان جمی رسل نے منگل کو تصدیق کی کہ اس واقعے سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ رسل نے کہا، "زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔" انہوں نے مزید بتایا کہ ناسا تربیتی مقاصد کے لیے بوسٹر کی نگرانی جاری رکھے گا اور بعد ازاں سائنسی مطالعے کے لیے ٹکراؤ کے مقام کا مشاہدہ کرے گا۔

فلکیاتی سافٹ ویئر کے معروف تخلیق کار بل گرے نے، جنہوں نے اپریل میں اس مرحلے کی مداری رفتار پر ایک رپورٹ شائع کی تھی، اس واقعے کو "غالباً معمولی" سائنسی دلچسپی کا حامل قرار دیا۔ گرے نے کہا، "اس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں، البتہ یہ اس بات کو ضرور اجاگر کرتا ہے کہ بچے ہوئے خلائی آلات کو ٹھکانے لگانے میں ایک خاص لاپروائی برتی جاتی ہے۔" شیمین نے اس ٹکراؤ کے مشاہدے کے حوالے سے جوش و خروش کا اظہار کیا، یہی جذبہ سائنسی طبقے کے بیشتر افراد میں بھی دیکھا گیا۔

آگے کیا ہو گا

ٹکراؤ کی تصدیق دوربینوں کے مشاہدات اور چاند سے سگنل ڈیٹا کی واپسی کے بعد متوقع ہے۔ یہ حادثہ زمین سے ننگی آنکھ سے دکھائی نہیں دیا، تاہم اندازہ تھا کہ اس سے چاند کی گرد کا ایک بادل اٹھے گا جو سورج کی روشنی سے منوّر ہو گا۔ ناسا اور اسپیس ایکس پہلے ہی مستقبل میں غیر ارادی چاندی ٹکراؤ کو روکنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ یہ اس امریکی خلائی ایجنسی کے لیے ایک ترجیح ہے جو اس دہائی کے آخر میں اپنے کئی ارب ڈالر کے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر مستقل اڈہ تعمیر کرنے اور خلانوردوں کے باقاعدہ مشن بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!