نیپال میں سیلابی ریلے نے 40 مکانات بہا دیے، امدادی کارروائیاں جاری
news

نیپال میں سیلابی ریلے نے 40 مکانات بہا دیے، امدادی کارروائیاں جاری

Editorial Team•Oct 11, 2026 · 6:22 PM•3 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: نیپال کے پہاڑی ضلع گورکھا میں سیلابی دریا اور دریا کے کنارے تباہ شدہ مکانات، جہاں سیلاب نے درجنوں گھر بہا دیے۔
Editorial Team
Editorial Team
ضلع گورکھا میں دریائے بودھی گنڈکی کے طغیانی سے چُمنوبری اور دھارچے میں تباہی، ہیلی کاپٹر اور سیکیورٹی فورسز ریسکیو میں مصروف

وسطی نیپال کے ضلع گورکھا میں دریائے بودھی گنڈکی میں اتوار کی صبح آنے والے سیلابی ریلے نے چُمنوبری اور دھارچے دیہی بلدیات میں تقریباً 40 مکانات بہا دیے اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ یہ اطلاع مقامی اخبار دی کھٹمنڈو پوسٹ نے دی ہے۔

سیلاب نے ایک پن بجلی منصوبے کے پُل اور بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کر دیا، آبادیاں زیرِ آب آ گئیں اور مزید مکانات خطرے میں پڑ گئے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ہیلی کاپٹروں، سیکیورٹی فورسز اور مقامی حکام پر مشتمل ہنگامی امدادی کارروائی شروع کر دی گئی۔

یہ حادثہ نیپال کے پہاڑی علاقوں میں دریا کے کنارے آباد بستیوں کی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے، جہاں زمین کھسکنے اور پانی کے اچانک بڑھنے سے تباہ کن سیلاب تیزی سے جنم لے سکتے ہیں۔ دریائی پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث بودھی گنڈکی کے کنارے آباد مکین بدستور فوری خطرے سے دوچار ہیں، جس کے پیش نظر جانی نقصان روکنے کے لیے انخلا اور پیشگی اطلاع کی کوششیں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

ہنگامی امدادی کارروائیاں جاری

وزیرِ داخلہ سُدان گرونگ نے تصدیق کی کہ سیلاب نے چُمنوبری-3 میں نیاکچھیٹ اور فلیم بازار کو ملانے والا پُل بہا دیا، جس سے دریا کے کنارے آباد بستیوں کے درمیان ایک اہم رابطہ منقطع ہو گیا۔

پانی کی سطح بڑھنے کے ساتھ ہی بچاؤ کارروائیوں، امدادی سامان کی تقسیم اور انخلا کے لیے ہیلی کاپٹر تعینات کیے گئے۔ نیپال پولیس، مسلح پولیس فورس اور مقامی حکام کو بھی بچاؤ اور امدادی کاموں کے لیے روانہ کیا گیا۔

حکام نے دریا کے کنارے آباد لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے لاؤڈ اسپیکرز کا استعمال کیا اور مزید سیلاب کے پیش نظر انہیں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

واقعے کا پس منظر

دریائے بودھی گنڈکی وسطی نیپال کے ضلع گورکھا سے گزرتا ہے، یہ علاقہ کھڑی ڈھلوانوں پر مشتمل ہے جو خاص طور پر شدید بارش یا اچانک ارضیاتی تبدیلیوں کے دوران زمین کھسکنے اور سیلابی ریلوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ چُمنوبری اور دھارچے دیہی بلدیات ضلع کے شمالی حصے میں واقع ہیں، جہاں بستیاں عموماً دریا کے کناروں کے قریب آباد ہیں۔

گورکھا کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر دھرمیندر کمار مشرا نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیوری باس کے اوپر زمین کھسکنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس نے ممکنہ طور پر دریا میں اچانک طغیانی پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔ تاہم واقعے کی مکمل وجہ تاحال زیرِ تفتیش ہے۔

سرکاری بیانات اور ابتدائی نتائج

گورکھا کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر دھرمیندر کمار مشرا نے کہا کہ تباہی کے بڑے پیمانے کے باوجود اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات سیوری باس کے اوپر زمین کھسکنے کو سیلاب کا ممکنہ محرک قرار دیتی ہیں۔

حکام نے اس بات پر زور دیا کہ نقصان کی مکمل حد اور واقعے کی حتمی وجہ کا تعین ابھی جاری ہے۔ مکانات، پُلوں اور پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی متاثرہ بلدیات پر نمایاں اقتصادی اور رسد کے حوالے سے اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

آگے کیا ہوگا

بچاؤ اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ہیلی کاپٹر اور سیکیورٹی اہلکار دریائی پانی کی بلند سطح کے باوجود انخلا کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دریا کے کنارے آباد مکینوں کو باخبر رکھنے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے انتباہات جاری کر رہے ہیں۔

حکام نے ابھی تک نقصان کا مکمل تخمینہ فراہم نہیں کیا، اور جانی نقصان، بے گھر افراد اور بنیادی ڈھانچے کے نقصانات سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!