اردن کا شام میں جوابی فضائی حملہ، درعا اور سویدا میں ہلاکتیں
news

اردن کا شام میں جوابی فضائی حملہ، درعا اور سویدا میں ہلاکتیں

Editorial Team•Oct 27, 2026 · 2:05 PM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے۔ جنوبی شام کے صحرائی علاقے میں اطلاع شدہ فضائی حملوں کے بعد فوجی طیارے پرواز کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
Editorial Team
Editorial Team
چرچ حملے کے بعد شام میں فضائی کارروائی، نصیب سرحدی گزرگاہ بند اور دونوں ممالک کے متضاد بیانات

اردن کی فضائیہ نے رات گئے جوابی حملے کرتے ہوئے جنوبی شام میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں اس نے "دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے" قرار دیا۔ یہ کارروائی گزشتہ ہفتے مملکت میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ پر ہونے والے مہلک حملے کے ملزمان سے منسلک مقامات کے خلاف کی گئی۔ اردن کی مسلح افواج نے بتایا کہ لڑاکا طیاروں نے جنوب مشرقی شام میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے، جس میں کئی کارندے ہلاک اور زخمی ہوئے اور متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

شام نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ درعا اور سویدا کے دیہی علاقوں میں ہونے والے حملوں میں تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے۔ اردن نے اپنے حملوں کے مقامات کی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری کیے۔

یہ حملے اردن اور شام کے درمیان سرحد پار کشیدگی میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں، جو اردن کی اقلیتی مسیحی برادری پر ایک غیر معمولی حملے میں نو افراد کی ہلاکت کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔ متضاد بیانات دونوں ہمسایوں کے درمیان رابطہ کاری کی نزاکت کو ظاہر کرتے ہیں اور سرحد پار فوجی کارروائیوں سے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کرتے ہیں۔

اس پیش رفت کے فوری معاشی اور انسانی نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں، کیونکہ شام نے نصیب سرحدی گزرگاہ بند کر دی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان مسافروں اور تجارت کا واحد راستہ ہے۔

حملوں کے بارے میں متضاد بیانات

  • اردن کی فوج نے کہا کہ یہ آپریشن دمشق کے ساتھ رابطہ کاری کے تحت کیا گیا اور اس میں جنوب مشرقی شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
  • شام کی وزارت خارجہ نے حملوں پر "مکمل تحفظات" کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ "شامی فریق کے ساتھ پیشگی رابطہ کاری یا اطلاع کے بغیر" کیے گئے۔
  • شام کی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے حملوں کو "غدارانہ حملہ" قرار دیا، جبکہ شامی حکام نے تین بچوں سمیت سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی۔
  • شام کے کسٹم حکام نے منگل کو حملوں کے فوراً بعد اردن کے ساتھ نصیب سرحدی گزرگاہ بند کر دی۔

چرچ حملے کا پس منظر

اردن نے کہا کہ یہ حملے 23 اکتوبر کو کرک گورنری میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ پر ہونے والے حملے کا جواب تھے جس میں ایک جنازے کے دوران نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ داعش (آئی ایس آئی ایس) نے چرچ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پیر کو اردن کی سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو بھائیوں اور ان کے بہنوئی کو گرفتار کیا، اردن کے ڈائریکٹر پبلک سیکیورٹی میجر جنرل عبیداللہ المعایطہ نے ملزمان کے نام حزاع زیدان محمد، مشعل زیدان محمد اور احمد سامی حسین بتائے۔

اس حملے کے بعد شاہ عبداللہ دوم نے سیکیورٹی فورسز کو "لوہے کی مٹھی" کے ساتھ جواب دینے کا حکم دیا۔ وزیر داخلہ مازن الفرایہ نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں، اور منگل تک "ان کے اور دیگر سیلز کے درمیان کسی قسم کے روابط کے کوئی اشارے نہیں ملے"۔

ہلاکتوں کی اطلاعات اور مقامات کی تفصیلات

شام کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ اس نے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں نکالیں۔ شمال مشرقی درعا صوبے کے لاجات علاقے میں الطف گاؤں میں ایک خیمے پر حملے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد، جن میں تین بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، ہلاک ہوئے جبکہ خاندان کے تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔ نصیب کے قریب الشایہ کھیتوں میں ایک حملے میں 80 سالہ ریاض کراد ہلاک ہوئے، جن کی لاش درعا نیشنل ہسپتال منتقل کی گئی۔

شمالی سویدا کے دیہی علاقے میں شہیب قصبے میں ایک گھر پر حملے میں 60 سالہ مطلق ابو الخیل ہلاک ہوئے، جن کی لاش نکالنے کے لیے امدادی ٹیمیں اب بھی ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔ مغربی درعا کے دیہی علاقے میں مزیریب میں ایک گھر پر حملے میں کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔ اردن نے شام کے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ مسلح جنگجوؤں کی بجائے شہری مارے گئے۔

آگے کیا ہوگا

شام کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ آپریشن کے حالات جاننے کے لیے اردن کے ساتھ رابطے میں ہے اور "شام کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ" کے ساتھ نتائج سے نمٹے گی۔ صورت حال اب بھی غیر یقینی ہے اور اطلاع دی گئی شہری ہلاکتوں پر اردن کی جانب سے فوری کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

اردن نے 2023 سے شام پر منشیات اور اسلحہ اسمگلروں کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد فضائی حملے کیے ہیں، جن میں بعض اوقات شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے جنوری 2024 میں خواتین اور بچوں کی ہلاکت کے بعد احتساب کا مطالبہ کیا تھا۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!