شام میں اسرائیلی چھاپے پر معذور نوجوان کی ہلاکت کے بعد ملک گیر احتجاج
news

شام میں اسرائیلی چھاپے پر معذور نوجوان کی ہلاکت کے بعد ملک گیر احتجاج

Editorial Team•Oct 25, 2026 · 7:05 PM•3 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نمائندہ تصویر ہے: جملہ گاؤں پر اسرائیلی کارروائی میں ایک معذور نوجوان کی ہلاکت کے بعد شام میں مظاہرین سڑکوں پر جمع۔
Editorial Team
Editorial Team
جملہ گاؤں میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد دمشق، درعا اور ادلب سمیت متعدد صوبوں میں قابض افواج کے خلاف مظاہرے

اسرائیلی فورسز کی جانب سے جملہ گاؤں میں فوجی کارروائی کے دوران ایک معذور نوجوان کی ہلاکت کے بعد شام بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ادلب، حمص، دمشق، درعا، قنیطرہ اور شامی ساحلی پٹی کے علاقوں میں مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں شرکا نے شامی سرزمین پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں بالخصوص ملک کے جنوبی حصے میں جاری کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔

یہ بے چینی شامی سرزمین پر اسرائیلی افواج کی موجودگی اور بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی کارروائیوں میں اضافے کے خلاف عوامی غم و غصے کی گہرائی کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ ہلاکت شہریوں کی حفاظت اور رہائشی علاقوں میں قابض افواج کی مسلسل تعیناتی سے جڑے وسیع تر شکایات کا مرکز بن گئی ہے۔

اہم پیش رفت

یہ مظاہرے جملہ گاؤں میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد شروع ہوئے، جس کے دوران قابض افواج نے مبینہ طور پر شہریوں کے گھروں کی تلاشی لی اور رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر نشانہ باز تعینات کیے۔ اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسز نے ایک معذور نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس کے بعد درعا میں مظاہرے شروع ہوئے اور تیزی سے شام کے دیگر حصوں تک پھیل گئے۔

مظاہروں میں نمایاں تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور یہ سرحد کے قریب کے علاقوں سے کہیں آگے تک پھیل گئے، جو اسرائیلی فوجی سرگرمیوں سے دور کئی خطوں تک پہنچ گئے۔ مظاہرین نے شامی سرزمین پر اسرائیلی فوجی مداخلت کی مذمت کی، خاص طور پر ملک کے جنوب میں جاری کارروائیوں پر توجہ مرکوز رکھی۔

پس منظر اور بڑھتی ہوئی کشیدگی

یہ مظاہرے شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کی عکاسی کرتے ہیں، جو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد مزید شدت اختیار کر چکی ہیں۔ سابقہ انتظامیہ کے خاتمے نے سلامتی کے منظرنامے کو تبدیل کر دیا اور اس کے بعد سے اسرائیلی افواج شامی سرزمین پر بار بار مداخلت کرتی رہی ہیں۔

اس ہلاکت نے اسرائیل کے اقدامات اور شامی سرزمین پر قابض افواج کی مسلسل موجودگی کے خلاف عوامی غم و غصے کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ اس پیمانے کے مظاہرے، جو سرحدی علاقے سے دور متعدد صوبوں تک پھیلے ہوئے ہیں، اس بات کا اشارہ ہیں کہ فوجی موجودگی کے خلاف مخالفت مقامی سرحدی برادریوں سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔

جملہ چھاپے کی تفصیلات

رپورٹوں کے مطابق، جملہ میں اسرائیلی مداخلت کے دوران قابض افواج نے شہریوں کے گھروں کی تلاشی لی اور رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر نشانہ باز تعینات کیے۔ اسی کارروائی کے دوران معذور نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا، جس کے فوراً بعد درعا میں مظاہرے شروع ہو گئے۔

ردعمل کی جغرافیائی وسعت قابل ذکر رہی، جہاں ادلب، حمص، دمشق، درعا، قنیطرہ اور شامی ساحلی پٹی کے علاقوں میں مظاہرے درج کیے گئے۔ مظاہرین نے اپنے اقدام کو شامی سرزمین پر اسرائیلی فوجی مداخلت کی براہ راست مذمت کے طور پر پیش کیا۔

موجودہ صورت حال

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، متعدد علاقوں میں مظاہرے بدستور جاری ہیں اور ہلاکت کے ساتھ ساتھ قابض افواج کی مسلسل موجودگی کے خلاف عوامی غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے کسی بھی ردعمل یا علاقے میں مزید فوجی نقل و حرکت کے حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!