اردن کے کرک میں چرچ پر فائرنگ سے آٹھ افراد ہلاک
news

اردن کے کرک میں چرچ پر فائرنگ سے آٹھ افراد ہلاک

Editorial Team•Oct 24, 2026 · 2:49 PM•5 min read
یہ اے آئی سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: اردن کے شہر کرک میں ایک گرجا گھر کے باہر سیکیورٹی فورسز علاقے کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔
Editorial Team
Editorial Team
حمود گاؤں میں مسیحی جنازے پر دہشت گردانہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائی

اردن کی سکیورٹی فورسز تین مسلح افراد کی تلاش میں ہیں جنہوں نے جمعے کے روز محافظہ کرک میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ پر فائرنگ کر کے آٹھ افراد کو ہلاک اور چالیس دیگر کو زخمی کر دیا۔ یہ اطلاع اردن کی وزارت صحت نے دی ہے۔ نقاب پوش حملہ آوروں نے حمود گاؤں میں ایک جنازے کی تقریب کے دوران حملہ کیا، جسے حکام مسیحی عبادت گاہ پر دہشت گردی کا ایک نایاب واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

اس حملے نے ایک ایسے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو اپنی مسلم اکثریت اور تقریباً تین لاکھ افراد پر مشتمل مسیحی اقلیت کے درمیان بین المذاہب ہم آہنگی پر فخر کرتا ہے۔ شاہ عبداللہ دوم نے ذمہ داروں کے لیے سخت ترین سزاؤں کا وعدہ کیا ہے اور دہشت گردانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے قومی سکیورٹی طریقہ کار پر نظر ثانی کا حکم دیا ہے، جو جدید اردن میں انتہائی غیر معمولی حملے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔

حملے کے دوران کیا ہوا

جمعے کی سہ پہر تین نقاب پوش مسلح افراد نے حمود گاؤں کے یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں جنازے کی تقریب کے دوران فائرنگ شروع کر دی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ تقریب شروع ہوتے ہی دھماکے کی آواز سنائی دی۔ دو حملہ آور ایک گاڑی میں آئے اور ان کے ساتھ ایک تیسرا شخص بھی شامل ہو گیا جس کے پاس نیم خودکار رائفل تھی۔ وہ چرچ میں داخل ہوئے اور کئی منٹ تک فائرنگ کرتے رہے۔

سرکاری خبر رساں چینل المملکہ نے اطلاع دی کہ سکیورٹی فورسز چرچ میں تعینات کر دی گئی ہیں اور گاڑی میں آنے والے دو مشتبہ افراد کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ المملکہ کی جانب سے نشر کی گئی سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج میں تین افراد چرچ کے باہر فائرنگ کرتے اور اس کے داخلی دروازے کی طرف بھاگتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ دیگر فوٹیج میں حملہ آور فرار ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کے ایک گروہ پر گولیاں چلاتے نظر آ رہے ہیں۔

کرک کی مسیحی برادری اور ماضی کے حملے

محافظہ کرک عمان سے تقریباً ایک سو بیس کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہاں اردن کی مسیحی اقلیت کے بڑی تعداد میں افراد آباد ہیں۔ گیارہ اعشاریہ پانچ ملین کی آبادی والے اس ملک میں مسیحیوں کی تعداد تقریباً تین لاکھ ہے۔ اس خطے میں مسیحی اور مسلمان نسلوں سے شانہ بشانہ رہتے آئے ہیں۔ کرسچن سائنس مانیٹر کے سینئر مشرق وسطیٰ نامہ نگار ٹیلر لک نے کہا کہ مقامی باشندے بین المذاہب یکجہتی اور بقائے باہمی پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس حملے کا مقصد برادری کو تقسیم کرنا تھا تو زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ برادری مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی۔

اردن میں ایسے حملے نایاب ہیں۔ سنہ دو ہزار سولہ میں داعش گروہ نے کرک میں کئی حملے کیے تھے، جن میں صلیبی جنگوں کے دور کے ایک قلعے پر مہلک محاصرہ بھی شامل تھا جس میں دس افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں ایک کینیڈین سیاح اور سات پولیس افسران شامل تھے۔ طویل محاصرے کے بعد اردن کی سکیورٹی فورسز نے چار حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

ہلاکتیں اور سرکاری ردعمل

اردن کی خبر رساں ایجنسی پیٹرا نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ فائرنگ میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں سات موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک خاتون نے کئی گھنٹے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان دے دی۔ چالیس زخمیوں میں سے ستائیس اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ کرک کے شہزادہ علی ملٹری اسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے جس کی سرجری کی گئی ہے۔

زندہ بچنے والے وکیل ناصر البرقان نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ایک حملہ آور تقریباً دو میٹر کے فاصلے پر کھڑا تھا، اس نے ان پر پستول تان کر فائر کیا۔ ان کے بیٹے کو، جو موقع پر موجود تھا، ٹانگ میں گولی لگی اور اسے اسپتال میں علاج فراہم کیا گیا۔ وزیر اعظم جعفر حسن نے اس حملے کو دہشت گردانہ نظریے اور اندھی انتہا پسندی کا نتیجہ قرار دیا، جبکہ وزیر داخلہ مازن الفرایہ نے کسی مخصوص گروہ کا نام لیے بغیر اسے انسانیت سے عاری انتہا پسندوں کے ایک گروہ کا کارنامہ قرار دیا۔

موجودہ صورتحال اور اگلے اقدامات

تینوں حملہ آوروں کی شناخت تاحال غیر مصدقہ ہے اور حکومتی بیانات میں انہیں نامعلوم حملہ آور کہا جا رہا ہے، جبکہ حملے کا محرک بھی واضح نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور سرکاری و عوامی عمارتوں پر پرچم سرنگوں کر دیے گئے ہیں۔

آذربائیجان، عراق، پولینڈ، فلسطین اور قطر سمیت متعدد ممالک نے اس حملے کی مذمت کی ہے، جبکہ اردن میں امریکی سفارت خانے اور قاہرہ میں جامعہ الازہر کے امام اکبر احمد الطیب نے بھی مذمت کی ہے۔ سکیورٹی فورسز مجرموں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!