بڑھتی ہوئی بدامنی اور سرکاری ردعمل
فرانس حالیہ برسوں کے بدترین فسادات کی لپیٹ میں ہے، جن کا آغاز گزشتہ ماہ اساتذہ کی قلت اور بوسیدہ اسکولوں سے ہوا اور پھر یہ مظاہرے عدم مساوات، بڑھتے ہوئے اخراجات اور عوامی خدمات میں کٹوتیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہو گئے۔ ہفتے کے آخر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرے پولیس سے جھڑپوں، آتش زنی اور لوٹ مار میں بدل گئے۔
نقصان شدید رہا: تقریباً چوبیس سو افراد گرفتار ہوئے، قریب ایک ہزار اہلکار زخمی ہوئے اور سینکڑوں کاروباری ادارے لوٹے گئے یا عمارتیں نذر آتش ہوئیں، جبکہ نقصان کا تخمینہ "کروڑوں یورو" لگایا گیا ہے۔
جوابی اقدام کے طور پر وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے نئے مظاہروں سے قبل کرفیو نافذ کر دیا ہے اور تین روز کے لیے لووغ اور شانزے لیزے سمیت پیرس کے اہم مقامات کے قریب اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ فرانس ہفتہ چوبیس اکتوبر کو پولیس کی مدد کے لیے ایک ہزار انسداد دہشت گردی دستے بھی تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ لیکورنو جمعرات کو فساد زدہ شہروں کے میئروں سے ملاقات کر کے روک تھام کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کریں گے۔






