روس نے سخالین میں جاپانی صحافی کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا
news

روس نے سخالین میں جاپانی صحافی کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا

Editorial Team•Oct 13, 2026 · 8:15 PM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: ماسکو کی ایک عدالت کا بیرونی منظر، جو جاسوسی کے الزام میں صحافی کی حراست کی خبر کی وضاحت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
ایف ایس بی کے مطابق ہوکائیڈو شمبن کے رپورٹر ایمائی یوکی پر جاپانی انٹیلی جنس کے لیے دفاعی معلومات اکٹھی کرنے کا الزام ہے

روسی حکام نے مشرق بعید کے جزیرے سخالین پر ایک جاپانی صحافی کو گرفتار کر کے اس پر جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے، وفاقی سلامتی سروس (ایف ایس بی) نے منگل کو اس کا اعلان کیا۔ روس کی وزارت خارجہ نے صحافی کی شناخت ایمائی یوکی کے نام سے کی ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے جاپانی انٹیلی جنس کے لیے روس کی دفاعی صلاحیتوں سے متعلق معلومات اکٹھی کیں۔

یوکی جاپان کے اخبار ہوکائیڈو شمبن کے لیے کام کرتے تھے اور انہیں یوزنو سخالینسک میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ روس چھوڑنے کی تیاری کر رہے تھے، بعد ازاں انہیں طیارے کے ذریعے ماسکو منتقل کیا گیا جہاں عدالت نے تقریباً دو ماہ کے لیے ان کی زیر حراست رہائش کی منظوری دی۔ ان الزامات پر ممکنہ سزا بیس سال تک قید ہے۔

یہ گرفتاری ماسکو اور ٹوکیو کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک نمایاں شدت کی علامت ہے، دونوں ممالک کریل جزائر پر کنٹرول کے معاملے پر طویل عرصے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ غیر ملکی صحافیوں کو درپیش بڑھتی ہوئی نگرانی کو بھی اجاگر کرتا ہے، جہاں روسی حکام نے سنہ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے متعدد غیر ملکیوں کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

یہ معاملہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جنہوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کبھی باقاعدہ امن معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔

گرفتاری اور حراست کی تفصیلات

ایف ایس بی کے مطابق صحافی کو سخالین جزیرے کے مرکزی شہر یوزنو سخالینسک میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ روس سے روانگی کی تیاری کر رہے تھے۔ بعد ازاں انہیں ایف ایس بی کے دو اہلکاروں کے ہمراہ طیارے کے ذریعے ماسکو منتقل کیا گیا، جہاں وہ پنجرے میں کھڑے ہو کر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

ماسکو کی عدالت نے تفتیش مکمل ہونے تک تقریباً دو ماہ کے لیے ان کی زیر حراست رہائش کی منظوری دی۔ روسی حکام نے کہا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس شخص نے جاپانی انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے روس کی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں سے متعلق معلومات اکٹھی کیں۔

علاقائی تنازع اور بڑھتی ہوئی کشیدگی

یہ گرفتاری روس اور جاپان کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران سامنے آئی ہے، جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اگست میں کریل جزائر کے دورے کے بعد پیدا ہوئی۔ یہ بحرالکاہل کا مجموعہ الجزائر ہے جو ماسکو کے زیر انتظام ہے اور دونوں ممالک اس پر دعویٰ رکھتے ہیں۔ سخالین کا علاقہ سخالین جزیرے اور کریل سلسلے کے چار جنوبی ترین جزائر پر مشتمل ہے، جنہیں جاپان شمالی علاقہ جات کہتا ہے۔

کریل جزائر پر حل طلب علاقائی تنازع ہی وہ بنیادی رکاوٹ ہے جو روس اور جاپان کو دوسری عالمی جنگ کے بعد باقاعدہ امن معاہدے پر دستخط کرنے سے روکے ہوئے ہے۔ یہ دیرینہ اختلاف کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو نازک حالت میں رکھے ہوئے ہے۔

ویڈیو فوٹیج اور سرکاری بیانات

روس کی خبر رساں ایجنسی ٹاس کی جانب سے شیئر کی گئی اور ایف ایس بی سے منسوب ایک ویڈیو میں نقاب پوش اہلکار ایک ہوٹل کے کمرے میں مشتبہ شخص کو ہتھکڑیاں لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اس کے بعد اسے تفتیشی کمرے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ فوٹیج میں بعد ازاں وہ شخص طیارے میں سوار ہوتا اور پھر ماسکو کی عدالت کے پنجرے میں نظر آتا ہے۔

جاپان کی خبر رساں ایجنسی کیوڈو نے اطلاع دی ہے کہ ماسکو میں ٹوکیو کے سفارت خانے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جاپانی حکومت صحافی کی حراست کی اطلاعات کی تصدیق کے لیے کام کر رہی ہے۔ جاپانی حکومت نے ابھی تک اس گرفتاری پر باقاعدہ عوامی بیان جاری نہیں کیا۔

آگے کیا ہوگا

یوکی اس وقت ماسکو میں زیر حراست ہیں جبکہ روسی حکام جاسوسی کے الزامات کی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جاپانی حکومت اب بھی ماسکو میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے ان کی حراست کے حالات کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے۔

اب تک مقدمے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی اور جن مخصوص معلومات کے حصول کا الزام ان پر لگایا گیا ہے، ان سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!