خطے بھر میں کشیدگی اور قیادت کے نقصانات
سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کا ردعمل محض ڈرانے دھمکانے سے بڑھ کر تباہی اور خاتمے کی پالیسی میں بدل گیا، جس کا آغاز حریف قوتوں کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے سے ہوا اور پھر ان کی قیادت تک پہنچ گیا۔ یہ جنگ غزہ سے آگے بڑھی، لبنان کو اپنی گرفت میں لے لیا اور بالآخر ایران سے براہ راست تصادم تک جا پہنچی۔
اس عرصے میں متعدد سینئر شخصیات ہلاک ہوئیں، جن میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ شامل ہیں۔ فروری 2026 میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ایران کے جوہری پروگرام پر وسیع تر تصادم سے جڑی امریکی اسرائیلی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔ محض ایک ہفتے بعد آٹھ مارچ 2026 کو ان کے صاحب زادے مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر منتخب ہوئے اور ایران نے اپنی عملی صلاحیت برقرار رکھی۔






