نیتن یاہو کو سات اکتوبر وارننگز پر ہتک عزت کا مقدمہ درپیش
news

نیتن یاہو کو سات اکتوبر وارننگز پر ہتک عزت کا مقدمہ درپیش

Editorial Team•Oct 17, 2026 · 7:05 PM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نمائندہ تصویر ہے۔ اسرائیل کے انتخابی مہم کے دوران سیاسی احتساب کی علامتی پریس کانفرنس کا منظر۔
Editorial Team
Editorial Team
سابق شن بیٹ سربراہ رونن بار کا الزام، سیکیورٹی الرٹس کے باوجود انٹیلی جنس حکام پر جھوٹا الزام

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو ان الزامات کا سامنا ہے کہ انہوں نے سات اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے قبل وارننگز کو نظر انداز کیا، اور اسرائیل کی بدترین سیکیورٹی ناکامیوں میں سے ایک پر الزام تراشی کی تلخ جنگ انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں عروج پر ہے۔

سابق شن بیٹ سربراہ رونن بار نے نیتن یاہو کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نے سیکیورٹی خطرات سے متعلق بار بار الرٹس ملنے کے باوجود انٹیلی جنس حکام پر جھوٹا الزام لگایا۔ اسرائیلی عوام ستائیس اکتوبر کو ووٹ ڈالیں گے۔

یہ تنازع اسرائیل کی تاریخ کے مہلک ترین دن کی جوابدہی کے مرکز میں ہے اور ووٹرز کے پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچنے سے چند روز قبل سیاسی منظرنامے کو نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حملے اور اس کے بعد غزہ جنگ دونوں سے نمٹنے کا نیتن یاہو کا انداز انتخابی مہم کا مرکزی مسئلہ بن چکا ہے۔

بار تقریباً دس لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دستاویزات کا ایک طویل سلسلہ وزیراعظم کے واقعات سے متعلق بیان کو جھوٹا ثابت کر دے گا۔

بڑھتے ہوئے الزامات

بار کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حملے سے پہلے کے مہینوں میں بڑھتے ہوئے خطرے سے نیتن یاہو کو آگاہ کیا تھا، جو وزیراعظم کے اس بیان کے براہ راست متصادم ہے کہ انہیں سات اکتوبر کی صبح قریب الوقوع خطرے سے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ نیتن یاہو نے جواب میں سابق انٹیلی جنس سربراہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنے میں ناکام رہے جن سے خونریزی روکی جا سکتی تھی۔

  • نیتن یاہو کے سابق ملٹری سیکرٹری ایوی گل کا دعویٰ ہے کہ حکام نے سات اکتوبر کی صبح کی گئی ایک فون کال کے ریکارڈ شدہ وقت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
  • وزیراعظم نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ انہیں مصری انٹیلی جنس اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کی جانب سے پیشگی وارننگز موصول ہوئی تھیں۔
  • سابق یرغمالی مذاکرات کار نیتزان الون نے عندیہ دیا ہے کہ سیاسی مصلحتوں نے ایسے معاہدے میں تاخیر کی جس سے قیدیوں کو پہلے وطن واپس لایا جا سکتا تھا۔

حملے کا پس منظر

سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے میں جنوبی اسرائیل میں تقریباً بارہ سو افراد ہلاک ہوئے جبکہ مزید دو سو اکاون افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اسرائیل کے بعد ازاں فوجی آپریشن میں مقامی صحت حکام کے مطابق چوہتر ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ سیکیورٹی ناکامی نیتن یاہو کے لیے ایک نمایاں سیاسی زخم بنی ہوئی ہے، جن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس اور فوجی کوتاہیوں کی حتمی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے حملے کو ممکن بنایا۔ یہ تنازع اب انتخابی مہم کے آخری مرحلے پر چھا جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔

سیاسی اثرات اور حریفوں کی تنقید

ان الزامات پر سیاسی حریفوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے جن میں سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ شامل ہیں۔ ان کے اعتراضات حملے سے قبل کی وارننگز اور اس کے بعد غزہ جنگ کے دوران وزیراعظم کے طرز عمل دونوں پر مرکوز ہیں۔

یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات سے نمٹنے کے طریقے پر اٹھنے والے سوالات نے اس تنازع میں ایک اور پرت کا اضافہ کر دیا ہے، جن میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ سیاسی مصلحتوں نے ایسے حل میں تاخیر کی ہو سکتی ہے جس سے قیدیوں کو جلد واپس لایا جا سکتا تھا۔ نیتن یاہو کو کیا معلوم تھا اور کب معلوم ہوا، اس بارے میں متضاد بیانیے ابھی تک حل طلب ہیں۔

آگے کیا ہوگا

بار کی جانب سے دائر کردہ ہتک عزت کا مقدمہ تاحال زیر التوا ہے اور عدالت کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ ستائیس اکتوبر کے انتخابات قریب آتے ہی سات اکتوبر کے حملے کی ذمہ داری سے متعلق حل طلب تنازع مہم کے آخری ایام کا مرکزی نکتہ رہنے کی توقع ہے۔

بار کے مطابق جو دستاویزات ان کے دعووں کی تائید کریں گی ان کی مزید سرکاری تصدیق ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!