شمالی اسرائیل میں دھماکے سے 20 افراد زخمی، لبنانی سرحد کے قریب واقعہ
news

شمالی اسرائیل میں دھماکے سے 20 افراد زخمی، لبنانی سرحد کے قریب واقعہ

Editorial Team•Oct 12, 2026 · 6:05 PM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نمائندہ تصویر ہے: لبنانی سرحد کے قریب شمالی اسرائیل کے گلیل علاقے میں دھماکے کے بعد امدادی کارکن دیہی علاقے کو گھیرے میں لے رہے ہیں۔
Editorial Team
Editorial Team
نیوت موردخائی کے قریب نہ پھٹنے والے جنگی مواد کے دھماکے میں مذہبی ہائی اسکول کے طلبہ اور عملہ زخمی، پولیس تحقیقات میں مصروف

شمالی اسرائیل میں لبنانی سرحد کے قریب نہ پھٹنے والے جنگی مواد کے دھماکے میں تقریباً 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکا پیر کے روز نیوت موردخائی کی آبادی کے قریب کبوتس منارا اور کبوتس یفتاح کے درمیان واقع ہوا۔

شمالی شہر معلوت ترشیحا کی بلدیہ کے مطابق زخمیوں میں ایک مذہبی ہائی اسکول کے طلبہ اور عملہ بھی شامل ہے جو سیر پر نکلے ہوئے تھے۔

یہ واقعہ بالائی گلیل میں رہنے والوں اور آنے والوں کو درپیش مسلسل خطرے کی نشاندہی کرتا ہے، یہ وہ علاقہ ہے جہاں اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان بار بار سرحد پار جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ کشیدگی بڑھنے کے بعد دسیوں ہزار اسرائیلی اس علاقے سے نقل مکانی کر چکے تھے اور جاری عدم استحکام کے باعث بہت سے لوگ اب تک واپس نہیں لوٹے۔

اس دھماکے پر اسرائیل کی سیاسی قیادت کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے آیا ہے جو شمالی سرحد پر سیکیورٹی واقعات کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔

زخمی اور ہنگامی امدادی کارروائیاں

اسرائیل کے میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق پیرامیڈیکس آٹھ زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں جن کی حالت سنگین اور تشویشناک ہے جبکہ متعدد دیگر زخمی معمولی زخموں کا شکار ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت انتہائی نازک بتائی گئی ہے۔

شمالی ضلع کے قریت شمونہ تھانے کے پولیس افسران نے علاقے کو محفوظ بنا کر گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ بم ناکارہ بنانے کے ماہرین دھماکے کے حالات اور ماخذ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ فوج نے بتایا کہ فوجی دستے اور ہیلی کاپٹر جائے وقوعہ پر روانہ کیے گئے ہیں۔

اس واقعے نے اسرائیل کے سیاسی حلقوں کو بھی متحرک کر دیا ہے، وزیراعظم نیتن یاہو علاقے کی جانب روانہ ہو گئے ہیں جبکہ قومی سلامتی کے وزیر بین گویر نے اپنی طے شدہ سیاسی مصروفیت منسوخ کر دی ہے۔

علاقائی کشیدگی کا پس منظر

لبنان کے ساتھ سرحد ایک فعال فوجی علاقہ ہے جہاں گزشتہ تین برسوں کے دوران ہزاروں گولہ بارود استعمال کیا جا چکا ہے۔ 2023 میں غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے بعد لبنان کی حزب اللہ نے راکٹ فائرنگ شروع کی تو ملک کے شمال میں رہنے والے دسیوں ہزار اسرائیلی علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

مارچ میں ایران کے خلاف جنگ کے بعد دشمنی کی تجدید کے نتیجے میں اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان پر قبضہ شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے علاقے میں سرحد پار وقفے وقفے سے راکٹ فائرنگ ہوتی رہی ہے جبکہ اسرائیلی افواج لبنان میں حزب اللہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

زیادہ تر رہائشی اپنی آبادیوں میں واپس نہیں لوٹے کیونکہ انہیں حکومت کی جانب سے تحفظ فراہم کیے جانے پر اعتماد نہیں تھا۔ اطلاعات کے مطابق بہت سے لوگوں نے اپنی آبادیوں پر راکٹ حملوں سے وسیع پیمانے پر نقصان دیکھا اور غیر مستحکم صورتحال کے پیش نظر واپسی کی ترغیب نہیں دی گئی۔

سرکاری بیانات اور تحقیقات

پولیس نے دھماکے کی وجہ نہ پھٹنے والا جنگی مواد قرار دیا ہے تاہم دھماکے کے اصل ماخذ کے بارے میں مخصوص معلومات محدود ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور بم ناکارہ بنانے کے ماہرین حالات کا تعین کرنے میں مصروف ہیں۔

علاقے میں نہ پھٹنے والے جنگی مواد کی موجودگی شمالی سرحد پر فوجی سرگرمیوں کی شدت کی عکاسی کرتی ہے جہاں حالیہ برسوں میں بڑی مقدار میں گولہ بارود تعینات کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ علاقے کے عام شہریوں کے لیے ایسے جنگی مواد سے لاحق باقی ماندہ خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ اقدامات

پولیس نے علاقے کو محفوظ بنا کر گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ دھماکے کے ماخذ کی تحقیقات جاری ہیں۔ بم ناکارہ بنانے کے ماہرین تاحال جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور حکام نے دھماکے کے مخصوص حالات کے بارے میں حتمی تعین ابھی جاری نہیں کیا۔

زخمیوں کی حالت اور تحقیقات سے متعلق مزید نتائج کے بارے میں معلومات کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!