اسرائیل نے 2023 سے دو ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا
news

اسرائیل نے 2023 سے دو ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا

Editorial Team•Oct 15, 2026 · 5:52 AM•4 min read
یہ ایک AI سے تیار کردہ نمائندہ تصویر ہے جو مغربی کنارے میں نابالغ بچوں کی حراست کی رپورٹس کی علامتی عکاسی کرتی ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
غزہ جنگ اور مغربی کنارے میں جاری کارروائیوں کے دوران نابالغوں کی حراست پر انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ میں سنگین خدشات کا اظہار

اسرائیل نے 2023 سے اب تک دو ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں غزہ میں جاری جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے دوران نابالغوں کی حراست کے پیمانے کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

اس ہفتے شائع ہونے والی اس رپورٹ کے نتائج اسرائیلی حکام کے زیر حراست نابالغوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کو نمایاں کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک، قانونی نمائندگی تک رسائی اور حراست کی شرائط کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

یہ رپورٹ اس لیے اہم ہے کہ بچوں کی حراست بین الاقوامی انسانی اور انسانی حقوق کے قوانین کے تحت بنیادی ذمہ داریوں سے جڑی ہوئی ہے، جو مسلح تنازعات کے دوران نابالغوں کو خصوصی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بیان کیا گیا پیمانہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بچے ایک ایسے حراستی نظام کا نمایاں حصہ بن چکے ہیں جسے حقوق کی تنظیمیں محدود نگرانی اور شفافیت کے ساتھ چلنے والا قرار دیتی ہیں۔

فلسطینی خاندانوں اور برادریوں کے لیے یہ حراستیں تنازعے کے وسیع تر انسانی نقصان میں اضافہ کر رہی ہیں، جس سے ہزاروں نوجوانوں کی تعلیم، خاندانی زندگی اور نفسیاتی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے اہم نتائج

رپورٹ میں درج کیا گیا ہے کہ 2023 سے اب تک اسرائیلی فورسز نے دو ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔ یہ اعداد و شمار غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم دونوں پر محیط ہیں، جہاں فوجی کارروائیاں اور گرفتاریاں شدت اختیار کر چکی ہیں۔

  • دستاویزات کے مطابق حراست میں لیے گئے بچوں میں 12 سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔
  • یہ حراستیں گھروں پر چھاپوں، چیک پوائنٹس اور وسیع تر فوجی کارروائیوں کے دوران عمل میں آئی ہیں۔
  • حقوق کی تنظیموں کے مطابق بہت سے نابالغوں کو اسرائیل کے اندر واقع مراکز میں منتقل کیا جاتا ہے، یہ ایسا طریقہ کار ہے جس پر بین الاقوامی ادارے بارہا تنقید کر چکے ہیں۔

بچوں کی حراست کا تاریخی پس منظر

فلسطینی نابالغوں کی حراست موجودہ جنگ سے پہلے کی ہے اور یہ طویل عرصے سے اسرائیل، فلسطینی حکام اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے درمیان تنازعے کا باعث رہی ہے۔ اسرائیلی فوجی قانون کے تحت، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر لاگو ہوتا ہے، بچوں کے خلاف 12 سال کی عمر سے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، جب کہ اسی علاقے میں اسرائیلی آباد کار بچے اسرائیلی سول قانون کے تابع ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے اور حقوق کی تنظیمیں برسوں سے ایسے واقعات کی دستاویز تیار کرتی رہی ہیں جن میں نابالغوں کو رات کے وقت گرفتار کیا جاتا ہے، والدین یا وکیل کی موجودگی کے بغیر تفتیش کی جاتی ہے اور قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ اسرائیل مسلسل یہ موقف برقرار رکھتا ہے کہ اس کے حراستی طریقہ کار قانون کے مطابق ہیں اور سلامتی کے لیے ضروری ہیں، جب کہ وہ منظم ناروا سلوک کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

دستاویزات اور سرکاری بیانات

یہ رپورٹ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے جمع کردہ شہادتوں، قانونی ریکارڈ اور نگرانی کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ اس میں رات کے وقت گرفتاریوں، جسمانی پابندیوں کے استعمال اور مناسب قانونی تحفظات کے بغیر طویل تفتیش کے نمونوں کی تفصیل دی گئی ہے۔

دستاویزات مرتب کرنے میں شامل تنظیموں نے حراستی مراکز تک آزادانہ رسائی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نابالغوں کے انصاف کے ایسے معیارات اپنائے جو بچے کے بہترین مفاد کو ترجیح دیں۔ اسرائیلی حکام نے رپورٹ میں بیان کیے گئے مخصوص اعداد و شمار پر تفصیلی عوامی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، اور صحافیوں کو انفرادی مقدمات کی کوئی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں کرائی گئی ہے۔

آگے کیا ہوگا

رپورٹ کے مصنفین بین الاقوامی اداروں بشمول اقوام متحدہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ زیر حراست نابالغوں کی رہائی اور حراستی شرائط کی آزادانہ نگرانی کے لیے دباؤ ڈالیں۔ وہ قانونی اصلاحات کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بچوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہ چلایا جائے۔

اشاعت کے وقت تک زیر حراست نابالغوں کی موجودہ تعداد غیر واضح ہے، اور رپورٹ میں اجاگر کی گئی حراستی پالیسیوں کے کسی بھی جائزے کے لیے کوئی سرکاری ٹائم ٹیبل اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!