ٹرمپ کا حوثیوں پر تیل کی قیمتیں بڑھانے کا الزام، انتخابات سے قبل
news

ٹرمپ کا حوثیوں پر تیل کی قیمتیں بڑھانے کا الزام، انتخابات سے قبل

Editorial Team•Oct 13, 2026 · 8:15 PM•4 min read
اے آئی سے تیار کردہ علامتی تصویر: مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی تنصیبات اور ریفائنری کمپلیکس، جو توانائی کی قیمتوں اور علاقائی کشیدگی کے خدشات کی علامت ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
صدر ٹرمپ کا دعویٰ کہ یمنی گروہ ایران کی ہدایت پر سعودی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے، انتخابات کے بعد فوجی کارروائی کا انتباہ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن میں حوثی باغی گروہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل توانائی کی قیمتیں بلند کرنے کی غرض سے سعودی عرب میں تنصیبات پر حملے تیز کر رہا ہے۔ منگل کو ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ گروہ "انتہائی برا" رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور اپنی اس دھمکی کا اعادہ کیا کہ نومبر کی رائے دہی کے بعد واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں فوجی حملوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔

یہ الزام ایک انتہائی حساس سیاسی موقع پر سامنے آیا ہے، جب امریکی ووٹر یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ صدر کی ری پبلکن پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور معاشی پریشانیاں انتخابی مہم کے مرکزی موضوعات بن چکی ہیں، اور ڈیموکریٹس ایران کے خلاف جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر ووٹروں کی ناراضی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔

اہم الزامات اور دھمکیاں

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حوثی "طویل عرصے تک خاموش" رہنے کے بعد دوبارہ سرگرم ہوئے ہیں، غالباً "ایران کے کہنے پر"۔ انہوں نے ایران کو "ایک ناکام قوم، جس کے پاس نہ بحریہ ہے نہ فضائیہ، دنیا کی بدترین معیشت اور 301 فیصد مہنگائی" قرار دیا اور حوثیوں پر الزام لگایا کہ وہ "جان بوجھ کر تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، غالباً امریکی انتخابات سے پہلے"۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کو "کبھی نہیں بھولیں گے"، جو انتخابات کے بعد امریکی فوجی کارروائی کی تجدید کے امکان کا اشارہ ہے۔ انہوں نے لکھا: "کسی کو انہیں سمجھانا چاہیے کہ میں انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا، میں تو پہلے ہی زبردست اکثریت سے جیت چکا ہوں، لیکن میں انتخابات کے بعد بھی موجود رہوں گا، اور میں کبھی نہیں بھولوں گا!"

ایران کے خلاف جنگ اور سیاسی مفادات

فروری میں ٹرمپ کے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور امریکہ میں معاشی پریشانیوں کے حوالے سے خدشات بڑھے ہیں۔ وسط مدتی انتخابات کو بڑے پیمانے پر ٹرمپ کی دوسری مدت کے بارے میں رائے شماری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور ڈیموکریٹس کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں، جس سے وہ صدر کے قانون سازی کے ایجنڈے کو ان کی باقی مدت کے لیے روک سکیں گے۔

حوثی تحریک نے یمن کے طویل تنازعے کے دوران اس سے قبل بھی سعودی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، اور اس سال کے آغاز میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے واشنگٹن، تہران اور علاقائی عناصر کے درمیان کشیدگی بلند رہی ہے۔

جنگ کے بارے میں عوامی رائے

سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ امریکی عوام میں شدید غیر مقبول ہے۔ اے پی اور این او آر سی کے ایک حالیہ سروے میں پایا گیا کہ تقریباً 70 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ یہ جنگ لڑنے کے قابل نہیں تھی، جو انتخابات سے قبل صدر کی پارٹی کے لیے اس تنازعے کے سیاسی خطرے کو واضح کرتی ہے۔

ٹرمپ کے منگل کے ریمارکس ان کے ٹرتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے سامنے آئے، جس میں انہوں نے حوثیوں کے اقدامات کو توانائی کی قیمتوں کے ذریعے سیاسی ماحول پر اثر انداز ہونے کی ایک مربوط کوشش قرار دیا۔

آگے کیا ہوگا

اب تک حوثیوں کو نشانہ بنانے والی نئی یا وسیع تر امریکی فوجی کارروائیوں کے بارے میں کوئی سرکاری تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔ ٹرمپ کے بیانات سے عندیہ ملتا ہے کہ کوئی بھی اہم فوجی اضافہ نومبر کے انتخابات کے بعد ہوگا، تاہم کوئی مخصوص منصوبہ یا ٹائم لائن ابھی تک اعلان نہیں کی گئی۔ وسط مدتی انتخابات کا نتیجہ آنے والے مہینوں میں انتظامیہ کے اس تنازعے کے بارے میں رویے کو متعین کرنے کی توقع ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!