سفارتی پیش قدمی اور میدان جنگ میں لڑائی
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے حالیہ علاقائی کشیدگی اور تناؤ کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، جس کی تصدیق ایرانی وزارت خارجہ نے بھی کی۔ ان مذاکرات کے بعد عراقچی نے فوجی حل اپنانے کے خلاف خبردار کیا اور سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تہران کی مدد کی پیشکش کی۔
پیر کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ثالثی کے لیے تہران کی آمادگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ دو اسلامی ممالک کے درمیان دشمنی اور جنگ جاری رہے، اور تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔
دریں اثنا یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے جب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی افواج نے چار اکتوبر کو حوثیوں کی حالیہ علاقائی پیش قدمی، بشمول دارالحکومت صنعا، کو واپس لینے کے لیے آپریشن فجر یمن کا اعلان کیا۔ ریاض کی حمایت یافتہ سرکاری افواج نے بین الاقوامی جہاز رانی کے اہم راستے آبنائے باب المندب کے قریب پیش قدمی کی اطلاع دی ہے، تاہم میدان جنگ کے متضاد دعووں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔






