ریاض ایئرپورٹ پر حوثی میزائل حملے میں تین افراد ہلاک
news

ریاض ایئرپورٹ پر حوثی میزائل حملے میں تین افراد ہلاک

Editorial Team•Oct 9, 2026 · 1:24 PM•4 min read
اے آئی سے تیار کردہ علامتی تصویر: ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مبینہ میزائل حملوں کے دوران ٹرمینل کے قریب دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
سعودی عرب نے شاہ خالد ایئرپورٹ پر یمنی حوثیوں کے میزائل حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے پروازیں معطل کر دیں

سعودی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ اور ایک سعودی طیارے پر میزائل حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے جن میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری یمن کی حوثی افواج نے قبول کی ہے جو جمعرات کی شام کیے گئے۔

ریاض کی شہری ہوا بازی اتھارٹی جی اے سی اے نے جمعہ کی صبح جاری کردہ بیان میں کہا کہ ایئرپورٹ پر کارروائیاں بحال کر دی گئی ہیں۔

یہ حملے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان نئے سرے سے شروع ہونے والی کشیدگی میں ایک نمایاں اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں لڑائی براہ راست مملکت کے دارالحکومت اور اس کے اہم ترین بین الاقوامی دروازے تک پہنچ گئی ہے۔ اس خلل کے باعث تقریباً دو درجن ایئرلائنز نے ریاض کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دی ہیں، جس سے علاقائی اور بین الاقوامی فضائی سفر متاثر ہوا ہے۔

حملوں اور ہلاکتوں کی تصدیق

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کی شام شاہ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر دو کروز میزائل داغے۔ حوثی افواج نے ابھا ایئرپورٹ اور شاہ خالد فضائی اڈے پر بھی بیلسٹک میزائل حملے کیے۔

سریع نے ان حملوں کو "عین نشانے پر اور براہ راست" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نتیجے میں دونوں ایئرپورٹس پر فضائی ٹریفک میں خلل پیدا ہوا اور تنصیبات اور فضائی اڈے کو نقصان پہنچا۔ تاہم سعودی حکومت نے ان حملوں کو تسلیم نہیں کیا۔ یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی فوجی اتحاد کے سربراہ ترکی المالکی نے دعویٰ کیا کہ ریاض پہنچنے سے قبل دو میزائلوں کو مار گرایا گیا جبکہ ایک میزائل شاہ خالد فضائی اڈے تک پہنچنے سے پہلے تباہ کر دیا گیا۔

جمعرات کو ریاض آنے اور جانے والی تقریباً چالیس فیصد پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ ایئر انڈیا اور لفتھانزا نے اعلان کیا کہ وہ اگلے ہفتے تک سعودی دارالحکومت کے لیے پروازیں نہیں چلائیں گی۔

تنازعے کا پس منظر

سعودی عرب سنہ 2015 سے حوثیوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، تاہم سنہ 2022 میں جنگ بندی کے باعث لڑائی رک گئی تھی۔ جولائی میں اس وقت دوبارہ لڑائی شروع ہوئی جب سعودی حمایت یافتہ افواج نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے پر حملہ کیا تاکہ حوثی وفد کو لے کر آنے والے ایرانی طیارے کو اترنے سے روکا جا سکے۔

اس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی اہداف پر حملے شروع کیے اور سعودی جنگی طیاروں نے یمن پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے دوبارہ شروع کر دیے۔ ریاض کے ایئرپورٹ پر موجودہ حملے اس نئی کشیدگی کے مملکت کے دارالحکومت کے علاقے تک پھیلنے کی عکاسی کرتے ہیں۔

بیانات اور ویڈیو شواہد

جمعرات کے روز قبل ازیں حوثی افواج نے شاہ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے بارے میں سریع نے کہا کہ "اس نے اپنے ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا اور ایئرپورٹ کی کارروائیوں میں خلل پیدا کیا۔" حوثیوں کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب سے دھوئیں کا گہرا بادل اٹھتا دکھائی دیا، جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج سے عندیہ ملا کہ میزائل سعودیہ ایئرلائن کے کھڑے طیارے پر براہ راست جا گرا۔

پہلے حملے کے بعد سریع نے ایک بیان جاری کیا جسے انہوں نے "تمام عالمی ایئرلائنز کے لیے آخری انتباہ" قرار دیا اور انہیں سعودی فضائی حدود سے دور رہنے کا مشورہ دیا، جسے انہوں نے "ہماری فوجی کارروائیوں کا میدان" قرار دیا۔

موجودہ صورتحال اور اگلے اقدامات

جی اے سی اے کے جمعہ کے بیان کے مطابق ریاض میں ایئرپورٹ کی کارروائیاں بحال ہو چکی ہیں، تاہم فضائی سفر پر وسیع تر اثرات بدستور جاری ہیں کیونکہ ایئرلائنز خدمات معطل کر رہی ہیں۔ سعودی حکومت نے حملوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور ہلاکتوں اور نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات محدود ہیں۔ صورتحال کے ارتقا کے ساتھ مزید معلومات کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!