حوثیوں کا ریاض کے قریب سعودی آرامکو تنصیبات پر جوابی حملوں کا دعویٰ
news

حوثیوں کا ریاض کے قریب سعودی آرامکو تنصیبات پر جوابی حملوں کا دعویٰ

Editorial Team•Oct 4, 2026 · 4:27 PM•6 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: سعودی عرب میں تیل و گیس کی تنصیبات، حوثیوں کے دعوے کردہ حملوں کی اطلاعات کے تناظر میں۔
Editorial Team
Editorial Team
یمن کی حوثی تحریک نے صنعا پر حملوں کے جواب میں سعودی تیل تنصیبات پر میزائل اور ڈرون داغنے کا اعلان کیا

یمن کی حوثی تحریک نے ہفتے کی شب اور اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے ریاض کے قریب اور خریص کے علاقے میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، اور ان حملوں کو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول دارالحکومت صنعا اور دیگر صوبوں پر سعودی حملوں کا جواب قرار دیا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ حملوں کے نتیجے میں سعودی دارالحکومت کے قریب ایک تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔

سعودی قیادت والے اتحاد نے ریاض کے قریب حملے کے دعوے کو متنازع قرار دیا، جب کہ آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوز اور سیٹلائٹ تصاویر میں مبینہ طور پر اس مقام سے دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سعودی آرامکو نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا اس کی کوئی تنصیب نشانہ بنی ہے یا نہیں۔

یہ اطلاع شدہ جھڑپیں 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں اور ریاض کے درمیان تقریباً چار سال کے نسبتاً سکون کے بعد ایک شدید کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ نئی لڑائی یمن کے انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے اور عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے، جہاں برینٹ خام تیل کئی ہفتوں سے ایک سو ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے۔

یہ تنازعہ وسیع تر علاقائی کشیدگی سے بھی جا ملا ہے، جس سے باب المندب آبنائے اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے متاثر ہو رہے ہیں، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً بیس فیصد سپلائی گزرتی ہے۔

اہم پیش رفت

  • حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ نے ریاض کے قریب سعودی آرامکو کی ایک تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جس سے آگ لگی، اور خریص کے علاقے میں آرامکو کی غیر متعین تنصیبات کو بھی ہدف بنایا گیا۔
  • سریع نے بتایا کہ یہ حملے گزشتہ چھتیس گھنٹوں کے دوران صنعا اور شمال مغربی صعدہ گورنریٹ پر کم از کم ایک سو دس سعودی فضائی اور میزائل حملوں کا جواب تھے، جہاں حوثیوں کا مضبوط گڑھ ہے۔
  • سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثیوں کے دعوے کو گروپ کے نقصانات کے پیمانے سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا، اور کہا کہ یہ نقصانات انہیں خیالی فتوحات کی تلاش پر مجبور کر رہے ہیں۔
  • یمن کی سعودی حمایت یافتہ افواج نے اپنے حملوں کی تصدیق کی لیکن کہا کہ انہوں نے حوثیوں کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اور دعویٰ کیا کہ چوبیس گھنٹوں میں سات سو جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے۔
  • یمن نے اتوار کو حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقے واپس لینے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا، اور صدارتی لیڈرشپ کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے کہا کہ حکومت تیاری کے مرحلے سے عملی اقدام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

پس منظر اور حالیہ کشیدگی

حوثیوں نے 2014 میں صنعا پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد اگلے سال یمنی حکومت کی حمایت میں سعودی قیادت والی مداخلت شروع ہوئی۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تقریباً چار سال نسبتاً سکون رہا۔

جولائی میں اس وقت کشیدگی پھر بھڑک اٹھی جب حکومتی افواج نے حوثی وفد کو لے جانے والے ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنے کے لیے صنعا ایئرپورٹ پر حملہ کیا۔ حوثیوں نے اس کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا، کشیدگی میں کمی کا دور ختم ہونے کا اعلان کیا، اور مملکت کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ اگست کے وسط تک وہ سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج پر مربوط میزائل اور ڈرون حملے کر رہے تھے، جس کے جواب میں متعدد صوبوں میں جوابی کارروائیاں شروع ہوئیں۔

گزشتہ ماہ لڑائی مزید شدت اختیار کر گئی جب حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں سعودی آرامکو کی تنصیبات اور مشرق-مغرب پائپ لائن شامل ہیں۔ اس کے بعد سے گروپ نے بڑے علاقائی فوائد حاصل کیے ہیں، یمن کا بحیرہ احمر کا ساحل اور اسٹریٹجک باب المندب آبنائے پر قبضہ کر لیا ہے، اور اب یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

اسٹریٹجک اور انسانی اثرات

رائٹرز نے جمعے کو حکام اور سفارت کاروں کے حوالے سے اطلاع دی کہ سعودی عرب حوثیوں کے فوائد کو پسپا کرنے کے لیے ایک جارحانہ کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض سعودی فضائی حملوں کی مدد سے ایک لاکھ سے زائد یمنی حکومتی فوجیوں کو متحرک کر سکتا ہے، جب کہ مغربی اتحادی انٹیلی جنس اور مادی مدد فراہم کریں گے لیکن لڑائی میں شامل نہیں ہوں گے۔ مبینہ منصوبوں میں باب المندب کے ساحل کی واپسی سے لے کر حوثیوں کے زیرِ قبضہ صوبوں میں وسیع تر کثیر محاذی حملہ شامل ہے۔

تعز پر قبضہ، جو حوثیوں کے زیرِ قبضہ شمال، حکومت کے زیرِ کنٹرول جنوب اور بحیرہ احمر کے ساحل کے درمیان ایک اہم سنگم ہے، یمنی حکومت کی نشست عدن کی جانب جنوب کا براہ راست راستہ کھول دے گا۔

نئی لڑائی نے یمن کے پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ دیا ہے، اور اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک نے جمعے کو خبردار کیا کہ آبادی کے تین چوتھائی حصے کو اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ حوثیوں کی سعودی تیل کی برآمدات کی ناکہ بندی اور ٹینکروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں کو دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس سے توانائی کی منڈیاں متزلزل ہو گئی ہیں۔ برینٹ خام تیل جمعے کو تقریباً ایک سو دو ڈالر پر بند ہوا۔

موجودہ صورتحال اور اگلے اقدامات

سعودی آرامکو نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا اس کی کوئی تنصیب نشانہ بنی ہے، اور سعودی قیادت والے اتحاد نے ریاض کے قریب حملے کے حوثی دعوے کو متنازع قرار دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ایک سعودی حملے میں صنعا کا ایک اسپتال نقصان پہنچا ہے، تاہم سریع نے مخصوص اہداف یا ہلاکتوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یمن کی جانب سے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقے واپس لینے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے اعلان اور سعودی عرب کی مبینہ طور پر بڑی جارحانہ کارروائی کی تیاری کے پیش نظر مزید کشیدگی کا امکان ہے۔ دونوں اطراف سے نقصانات اور ہلاکتوں کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!