سعودی اتحاد نے ریاض اور خمیس مشیط پر داغے گئے حوثیوں کے تین میزائل ناکام بنائے
news

سعودی اتحاد نے ریاض اور خمیس مشیط پر داغے گئے حوثیوں کے تین میزائل ناکام بنائے

Editorial Team•Oct 8, 2026 · 6:56 PM•4 min read
یہ ایک AI سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: ریاض کے افق پر میزائل روکنے کی چمک اور دھوئیں کا نشان، جو سعودی شہروں پر حوثی میزائل حملوں کی علامت ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
یمن میں جاری لڑائی کے دوران حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے ناکام، ریاض میں ملبہ گرنے سے نقصان اور پروازیں معطل

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے لڑنے والے سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ جمعرات کو حوثیوں کی طرف سے سعودی شہروں کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ دو میزائل دارالحکومت ریاض اور ایک یمنی سرحد کے قریب واقع خمیس مشیط کی جانب روانہ کیے گئے تھے۔

یہ حملے سعودی سرزمین پر حوثیوں کے حملوں میں تیزی سے اضافے کی عکاسی کرتے ہیں، جو سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں پر حملوں کے چند روز بعد سامنے آئے ہیں جن میں کم از کم تین شہری ہلاک اور 36 زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں نے بین الاقوامی فضائی سفر کو متاثر کیا ہے اور ہوابازی سے متعلق انتباہات جاری کرائے ہیں، جبکہ یمن کے اندر زمینی لڑائی کی شدت نے حالیہ ہفتوں میں دو لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔

میزائلوں کی ناکامی اور شہریوں پر اثرات

سعودی عرب کے شہری دفاع کے ادارے نے بتایا کہ ناکام بنائے گئے میزائل کا گرتا ہوا ملبہ ریاض میں ایک کنڈرگارٹن اور طبی کلینک کے کمپلیکس پر گرا جس سے مادی نقصان ہوا۔ ادارے نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس واقعے میں کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ایران سے منسلک اس گروپ نے جمعرات کی سہ پہر ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا اور دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جس سے نقصان ہوا اور فضائی آمد و رفت میں خلل پیدا ہوا۔ عینی شاہدین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہوں نے ریاض میں متعدد دھماکے سنے جن میں سے ایک ہوائی اڈے پر ہوا جس سے پروازیں روک دی گئیں۔ ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

حالیہ حملے اور فضائی حدود سے متعلق انتباہات

حوثیوں نے حالیہ دنوں میں ہوابازی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی فضائی حدود سے گریز کریں اور کہا ہے کہ مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے علاوہ وہاں کام کرنے والا کوئی بھی طیارہ نشانہ ہے۔ تازہ اطلاعات کے بعد ایئر انڈیا نے کم از کم ہفتے کے آخر تک ریاض آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کر دیں جبکہ جرمنی کی لفتھانزا گروپ نے 16 اکتوبر تک ریاض کی پروازیں معطل کر دیں۔

سعودی ہوائی اڈوں پر یہ حوثیوں کے پہلے حملے نہیں تھے۔ منگل اور بدھ کو حوثیوں کی جانب سے دعویٰ کیے گئے دو الگ الگ حملوں میں ابھا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا جن میں سعودی جنرل اتھارٹی برائے شہری ہوابازی کے مطابق کم از کم تین شہری ہلاک اور 36 زخمی ہوئے تھے۔ 18 ستمبر کو اتحادی افواج نے ریاض کے ہوائی اڈے کی جانب داغے گئے ایک مشتبہ حوثی میزائل کو روکا تھا اور ایک روز بعد شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایندھن ذخیرہ کرنے کے علاقے کے قریب دھماکے اور سیاہ دھوئیں کے بادل کی اطلاع ملی تھی۔

سرکاری ردعمل اور زمینی لڑائی

قطر کی وزارت خارجہ نے دونوں ہوائی اڈوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مملکت کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی سلامتی اور شہریوں اور فضائی نیویگیشن کی حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔

یمن کے اندر حوثیوں کے زیر کنٹرول بحیرہ احمر کی بندرگاہی شہر الحدیدہ میں ہوائی اڈے کے قریب دھماکوں کی اطلاع ملی ہے تاہم اس کی وجہ اور اثرات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ تعز گورنری کے الشمائیتین، المعافر اور جنوبی اور مغربی دیہی علاقوں میں حکومت نواز افواج اور حوثیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ حکومت نواز افواج نے حوثیوں کے خلاف دو ہزار سے زائد کارروائیوں کی اطلاع دی ہے اور ایک خطرناک شدت اختیار کرنے والی صورت حال کے لیے تیاریاں کر رہی ہیں۔

انسانی نقصان اور اگلے اقدامات

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق حالیہ ہفتوں میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد دو لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ ادارے نے اس بحران کو تشویشناک قرار دیا ہے اور بتایا کہ بے گھر ہونے والوں کی تعداد ستمبر کے وسط میں درج 76 ہزار سے بڑھ کر اس سطح تک پہنچ گئی ہے۔

حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ ناکام بنائے گئے میزائلوں سے کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں اور الحدیدہ میں ہونے والے دھماکوں کی وجہ بھی زیر تفتیش ہے۔ سلامتی کی صورت حال اور پروازوں کی معطلی سے متعلق مزید معلومات کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!