بڑی کشیدگی اور جارحانہ کارروائی
لڑائی کا آغاز جولائی میں اس وقت ہوا جب یمنی حکومتی فورسز نے صنعا ہوائی اڈے کے رن وے پر حملہ کر کے حوثی وفد کو لے جانے والے ایرانی طیارے کو اترنے سے روک دیا۔ یہ وفد ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے واپس آ رہا تھا، جو فروری کے آخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ حوثیوں نے ہوائی اڈے پر حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا اور کشیدگی میں کمی کے دور کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔
ستمبر میں تنازع مزید بڑھ گیا جب حوثیوں نے برسوں میں اپنی سب سے بڑی علاقائی پیش قدمی کی۔ اس گروہ نے موچا اور بحیرہ احمر کے ساحل اور باب المندب کے گرد اہم مقامات پر قبضہ کر لیا، اور جنوبی بندرگاہی شہر عدن کی جانب جانے والا ایک اہم رسد کا راستہ کاٹ کر تعز کا مؤثر طریقے سے محاصرہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے پیر کو بتایا کہ سو لڑاکا طیارے آپریشن ڈان آف یمن میں حصہ لے رہے ہیں اور حکومتی فورسز کو فضائی تحفظ فراہم کر رہے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ حوثیوں کے 324 اعلیٰ قدر کے اہداف تباہ کیے گئے ہیں۔ حوثیوں نے جواب میں سعودی شہروں، ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔






