سعودی فضائی ٹریفک میں زبردست کمی، یمن کی ایئرلائنز کو تنبیہ
news

سعودی فضائی ٹریفک میں زبردست کمی، یمن کی ایئرلائنز کو تنبیہ

Editorial Team•Oct 11, 2026 · 6:22 PM•3 min read
اے آئی سے تیار کردہ علامتی تصویر: خالی ہوائی اڈے کا رن وے اور تہہ، جو سعودی فضائی حدود میں شہری پروازوں کی معطلی کی عکاسی کرتی ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
یمنی فضائی ناکہ بندی کے دوسرے ہفتے میں سعودی ہوائی اڈے خالی، ریاض کی مبینہ چینی ثالثی کی کوشش

سعودی عرب بھر میں شہری فضائی ٹریفک میں شدید کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ یمن کی جوابی فضائی ناکہ بندی اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس سے قبل ہفتہ کی رات شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھاری حملہ کیا گیا تھا جس کے باعث مبینہ طور پر یہ سہولت ایک بار پھر بند کرنے پر مجبور ہوئی۔

فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی فضائی حدود کا بیشتر حصہ خالی ہے، جبکہ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق عرب ذرائع ابلاغ کے حوالے سے مملکت کے 29 شہری ہوائی اڈوں میں سے صرف ایک یا دو ہی فعال رہ گئے ہیں۔ مبینہ فضائی حدود کی بندش کی حد اور انفرادی ہوائی اڈوں کی حیثیت کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

یہ خلل سعودی عرب کے خلاف یمن کی حکمت عملی میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے جس سے اب شہری ہوابازی براہ راست متاثر ہوئی ہے۔ ایئرلائنز، ہوابازی کے عملے اور مسافروں کو دی گئی تنبیہ علاقائی سفر اور حفاظت پر اثرات رکھتی ہے، جبکہ چین سے مبینہ سفارتی رابطہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق بڑھتے ہوئے عسکری تصادم سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

اہم پیش رفت

یمن کی مسلح افواج نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مکہ اور مدینہ کی خدمت کرنے والے ہوائی اڈوں کے علاوہ سعودی ہوائی اڈے اور فضائی حدود کو حملے کے قابل آپریشنل علاقے تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تنبیہ ہفتہ کی رات سعودی شہر دمام میں ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے مبینہ یمنی میزائل حملے کے بعد سامنے آئی ہے، جبکہ نیویارک ٹائمز نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بڑے حملے کی اطلاع دی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ سعودی عرب نے ریاض اور صنعاء کے درمیان ثالثی کے لیے چین سے رجوع کیا ہے، جس سے بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ کے درمیان ممکنہ سفارتی راستہ کھل سکتا ہے۔

پس منظر اور شدت

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے اتوار کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے ایئرلائنز، ہوابازی کے ماہرین، ہوائی اڈوں کے ملازمین اور مسافروں پر زور دیا کہ وہ اس تنبیہ کو سنجیدگی سے لیں اور مخصوص ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال سے گریز کریں۔ سریع نے کہا کہ کسی بھی "ناکام انٹرسیپشن" کی ذمہ داری سعودی حکومت پر عائد ہوگی۔

یمن کی مسلح افواج نے اپنے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ "ہوائی اڈے کے بدلے ہوائی اڈہ، ناکہ بندی کے بدلے ناکہ بندی اور شدت کے بدلے شدت" کی قائم شدہ مساوات کو اپنے مقاصد کے حصول تک برقرار رکھیں گے۔

مبینہ ثالثی کی کوششیں

یمنی نیوز ویب سائٹ البوابہ الاخباریہ الیمنیہ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ ریاض نے باضابطہ طور پر بیجنگ سے یمن کے ساتھ جنگ بندی میں ثالثی کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے چین کو آگاہ کیا کہ وہ فضائی حملوں سمیت عسکری کارروائیوں کے خاتمے پر مشتمل جنگ بندی پر رضامند ہونے کے لیے تیار ہے۔

تاہم صنعاء حکام نے مبینہ طور پر اپنا موجودہ موقف برقرار رکھا ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی کے اعلان سے قبل ریاض امن کے نقشہ راہ کے تحت اپنے سابقہ وعدے پورے کرے۔

موجودہ صورتحال اور اگلے اقدامات

تصادم بدستور جاری ہے، انفرادی سعودی ہوائی اڈوں کی آپریشنل حیثیت غیر مصدقہ ہے اور کوئی باضابطہ جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ فضائی حدود کی بندش کی حد اور مبینہ ثالثی کی کوششوں میں پیش رفت سے متعلق مزید معلومات کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!