بڑھتے ہوئے خطرات اور سفارتی عملے میں کمی
کلیٹن نے یادداشت میں لکھا کہ انٹیلی جنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے بیرون ملک امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں "نمایاں اضافہ" کیا ہے اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر ممالک میں مہلک سازشیں "آخری مراحل" تک پہنچ چکی ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ حالیہ ہفتوں میں سفیروں سمیت امریکی حکام کو لاحق خطرات کا جائزہ لیا گیا اور ایران نے یورپ میں ممکنہ اہداف کی فہرست تیار کر رکھی ہے۔ بعض انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ایرانی کارندے پہلے ہی امریکہ کے اندر سرگرم ہیں۔
واشنگٹن نے یادداشت پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایک امریکی اہلکار نے اس کی صداقت کی تصدیق کی۔ ایک دوسرے اہلکار نے امریکہ کے اندر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران اپنے تمام عزائم پر عمل درآمد کی اہلیت نہیں رکھتا۔
بدھ کے روز محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں اپنے سفارت خانے سے غیر ضروری عملہ واپس بلانے کا اعلان کیا، جس کی وجہ سعودی تنصیبات پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملے بتائے گئے۔ سی این این کے مطابق متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور لبنان میں بھی مشنز کے عملے کی تعداد خاموشی سے کم کی گئی ہے۔






