ایران اور 11 ممالک کا جوہری تنصیبات پر حملوں کی عالمی ممانعت کا مطالبہ
news

ایران اور 11 ممالک کا جوہری تنصیبات پر حملوں کی عالمی ممانعت کا مطالبہ

Editorial Team•Oct 25, 2026 · 7:05 PM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال، جہاں آئی اے ای اے کے زیرِ نگرانی جوہری تنصیبات کے تحفظ سے متعلق مشترکہ بیان پیش کیا گیا۔
Editorial Team
Editorial Team
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آئی اے ای اے کے تحفظات کے تحت پرامن جوہری تنصیبات پر حملوں کی مخالفت کا مشترکہ مطالبہ

ایران اور 11 دیگر ممالک نے مشترکہ طور پر عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای اے) کے تحفظات کے تحت آنے والی جوہری تنصیبات پر ہر قسم کے حملوں یا حملے کی دھمکیوں کی عالمی سطح پر ممانعت کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ 23 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی پہلی کمیٹی میں پیش کیے گئے ایک مشترکہ بیان کے ذریعے سامنے آیا۔

بیان میں تمام ریاستوں کے بلا امتیاز پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی ترقی کے ناقابل تنسیخ حق کی توثیق کی گئی، جبکہ رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے کسی بھی حملے کے خلاف واضح اور غیر مبہم مخالفت کا اظہار کریں۔

یہ اقدام خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس نے ان ریاستوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے جو تاریخی طور پر جوہری عدم پھیلاؤ اور پرامن استعمال کے معاملات پر ہم آہنگ رہی ہیں، جن میں چین اور روس شامل ہیں۔ یہ مشترکہ موقف ان خدشات کو تقویت دیتا ہے کہ تحفظ یافتہ جوہری تنصیبات پر حملے عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو کمزور کر سکتے ہیں اور ممکنہ تابکار اخراج کے ذریعے شہری آبادیوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

دستخط کنندگان اور بنیادی مطالبات

بیان پر دستخط کرنے والے 12 ممالک یہ ہیں: جمہوریہ بیلاروس، برکینا فاسو، عوامی جمہوریہ چین، جمہوریہ کیوبا، ریاست اریٹیریا، اسلامی جمہوریہ ایران، جمہوریہ نکاراگوا، جمہوریہ نائجر، اسلامی جمہوریہ پاکستان، روسی فیڈریشن، جمہوریہ تاجکستان اور جمہوریہ زمبابوے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت میں حملے یا حملے کی دھمکی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اس میں تمام رکن ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کے تحفظاتی نظام کی سالمیت اور ساکھ کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہوں۔

تاریخی اور قانونی پس منظر

مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1981 کی قرارداد 487 کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں جوہری تنصیبات کے خلاف فوجی حملے کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ اس میں آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس کے متعلقہ فیصلوں اور قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں GC(53)/DEC/13، GC(XXIX)/RES/443، GC(XXIX)/RES/444 اور GC(XXXIV)/RES/533 شامل ہیں۔

ان دستاویزات کو بین الاقوامی برادری کے اس دیرینہ موقف کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو آئی اے ای اے کے تحفظات کے تحت پرامن مقاصد کے لیے مختص جوہری تنصیبات پر حملوں یا حملے کی دھمکیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ دستخط کنندگان نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ایسے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور آئی اے ای اے کے دستور کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے اغراض و مقاصد سے بھی گہری مطابقت نہیں رکھتے۔

حفاظت اور سلامتی کے خدشات

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملوں کے جوہری حفاظت اور جوہری سلامتی کے لیے سنگین مضمرات ہوتے ہیں، اور یہ آئی اے ای اے کے تحفظاتی نظام اور وسیع تر عالمی عدم پھیلاؤ کے ڈھانچے کی سالمیت، موثریت اور ساکھ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔

دستخط کنندگان نے واضح کیا ہے کہ ایسے حملے جوہری توانائی کے پرامن استعمال اور بین الاقوامی تعاون پر منفی اثر ڈالیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں تابکار اخراج ہو سکتا ہے جس کے متاثرہ ریاست کے اندر اور باہر سنگین نتائج مرتب ہوں گے، جن میں شہری آبادیوں پر شدید اثرات اور ماحولیات کو طویل مدتی نقصان شامل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تحفظ یافتہ جوہری تنصیبات پر حملوں کے سامنے خاموشی قائم شدہ بین الاقوامی اصولوں کو کمزور کرتی ہے، بین الاقوامی قانونی نظام پر اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور ایسے حملوں کو معمول بننے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔

آگے کیا ہوگا

مشترکہ بیان باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی کو پیش کر دیا گیا ہے۔ اس میں تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جوہری حفاظت اور سلامتی کو مضبوط کریں اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال اور بین الاقوامی تعاون کا تحفظ کریں۔ آیا مزید ریاستیں اس موقف کی باقاعدہ توثیق کریں گی، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!