روس اور یوکرین میں توانائی جنگ بندی پر اتفاق، ٹرمپ کا اعلان
business

روس اور یوکرین میں توانائی جنگ بندی پر اتفاق، ٹرمپ کا اعلان

Editorial Team•Oct 11, 2026 · 6:22 PM•5 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: ایک آئل ریفائنری کمپلیکس، جو روس اور یوکرین کے درمیان توانائی جنگ بندی کے اعلان کے موضوع کی عکاسی کرتی ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
ٹرمپ اور پوٹن کی گفتگو کے بعد روسی ڈیزل پابندیوں میں نرمی، یوکرین انتخابات اور ریفائنری حملوں پر کشیدگی برقرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ روس اور یوکرین نے فوری توانائی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جس کا مقصد ان کے بقول عالمی ایندھن کے بحران میں کمی لانا ہے۔ یہ اعلان روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو کے چند روز بعد سامنے آیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے روسی ڈیزل کی برآمدات میں توسیع کے خاکے پر اتفاق کیا تھا۔

یوکرینی رہنما ولادیمیر زیلنسکی نے بعد میں تصدیق کی کہ کیف اس اقدام کی حمایت کرتا ہے، اور کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے اعلان پر نیٹو کے سربراہ مارک روٹے، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب سے بات چیت کی ہے۔

یہ معاہدہ عالمی توانائی منڈیوں اور صارفین کے لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا ہے، جس کا اثر امریکی گھرانوں پر بھی پڑا ہے۔ اس جنگ بندی کا مقصد ڈیزل کی فراہمی کو مستحکم کرنا ہے، ایسے وقت میں جب واشنگٹن نے روسی ایندھن پر پابندیاں عارضی طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان سیاسی اختلاف کو بھی مزید نمایاں کرتی ہے، جہاں ٹرمپ یوکرین میں نئی قیادت کی ضرورت کا عندیہ دے رہے ہیں جب کہ زیلنسکی انتخابات کے انعقاد کے لیے وسیع تر جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اہم اعلانات

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ "روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں فوری طور پر توانائی جنگ بندی نافذ العمل ہے"، اور مزید کہا کہ "دونوں فریقین نے اتفاق کیا ہے" اور ماسکو اور کیف پر زور دیا کہ وہ اسے "نہ توڑیں"۔

  • جمعے کو ٹرمپ اور پوٹن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس کے فوراً بعد امریکی محکمہ خزانہ نے روسی ڈیزل پر پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا، جس کے تحت یہ ایندھن 7 اپریل 2027 تک امریکہ میں فروخت، ترسیل اور درآمد کیا جا سکے گا۔
  • ٹرمپ کے مطابق ماسکو نے فوری طور پر تین لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا، جس کے بعد نومبر میں مزید پانچ لاکھ میٹرک ٹن اور اس کے فوراً بعد دس لاکھ میٹرک ٹن فراہم کیا جائے گا۔
  • روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے ان اعداد و شمار کی تصدیق کی اور کہا کہ ماسکو ڈیزل کی برآمدی پابندیاں مقررہ وقت سے پہلے "فوری طور پر" اٹھانا شروع کر دے گا۔

تنازعے کا پس منظر

یہ توانائی جنگ بندی یوکرین کی جانب سے روس کے اندر اہداف پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کی مہینوں پر محیط شدت کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں تیل کی ریفائنریوں سمیت شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ محاذ پر مسلسل مشکلات کا سامنا رہا۔ زیلنسکی نے حال ہی میں خاص طور پر روسی ریفائنریوں پر حملے تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ماسکو نے ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور یوکرین کی فوج سے متعلقہ تنصیبات، جن میں ڈرون اور میزائل گودام شامل ہیں، پر حملے تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جب کہ یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ وہ کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔ روس زیلنسکی کو غیر قانونی بھی قرار دیتا ہے، کیونکہ ان کی صدارتی مدت دو سال سے زائد عرصہ قبل ختم ہو چکی ہے اور انہوں نے مارشل لا کا حوالہ دیتے ہوئے نئے انتخابات نہیں کرائے۔

سیاسی کشیدگی اور انتخابات کے مطالبات

ٹرمپ نے عالمی ایندھن کے بحران کو بڑھانے کا ذمہ دار یوکرین اور ذاتی طور پر زیلنسکی کو ٹھہرایا ہے، اور کہا کہ روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں نے ایندھن کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ ایکسیوس کی ہفتے کو دی گئی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے یہ معاہدہ ماسکو کے ساتھ اس وقت کیا جب زیلنسکی نے روسی تیل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی واشنگٹن کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔

ہفتے کو ٹرمپ نے ایک بار پھر زیلنسکی پر "دنیا کے لیے مسائل پیدا کرنے" اور امریکی درخواستوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا، اور کہا کہ اب "یوکرین کے لیے نیا صدر لانے کا وقت آ گیا ہے"۔ زیلنسکی نے جواب میں ووٹنگ کے انعقاد کے لیے دو ماہ کی مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اور اتوار کو اے بی سی کو بتایا: "اگر صدر ٹرمپ واقعی انتخابات کے دوران کچھ تبدیلیاں چاہتے ہیں تو براہ کرم پوٹن سے کہیں کہ ہمیں دو مہینے، ساٹھ دن کا وقفہ دیں۔ مکمل جنگ بندی، ساٹھ دن، اور ہم انتخابات کا اہتمام کریں گے۔"

آگے کیا ہوگا

توانائی جنگ بندی اب نافذ العمل ہے اور دونوں فریقین نے عوامی طور پر حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ماسکو نے تصدیق کی ہے کہ وہ ڈیزل کی برآمدی پابندیاں فوری طور پر اٹھانا شروع کر دے گا، جب کہ آنے والے مہینوں میں مرحلہ وار فراہمی میں اضافے کا منصوبہ ہے۔ تاہم وسیع تر سوالات ابھی حل طلب ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ کیا ایک وسیع تر جنگ بندی پر بات چیت ہوگی اور کیا یوکرین زیلنسکی کے تجویز کردہ انتخابات کی جانب بڑھے گا۔ مزید مذاکرات کے لیے کسی ٹائم لائن کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!