پابندیوں کی مہم میں شدت
گزشتہ ہفتے امریکہ نے ایران کی معیشت کے پانچ شعبوں یعنی ہوابازی، ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کو نشانہ بناتے ہوئے پابندیوں کی ایک نئی لہر عائد کی۔ ان اقدامات میں 60 مخصوص افراد اور بحری جہازوں پر بھی پابندیاں شامل تھیں۔ اتوار کو بیسینٹ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ ممکنہ طور پر ہر ہفتے نئی پابندیاں جاری کرے گا۔
بیسینٹ نے کہا کہ اگلا قدم کسی ادارے کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر الگ کرنا ہو سکتا ہے۔ یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن نے جمعے کے روز مصر کے بینک مصر کی متحدہ عرب امارات میں موجود شاخوں پر ایران سے مبینہ مالی تعلقات کے الزام میں پابندیاں عائد کیں۔ "آپ کو ہر ہفتے اس طرح کے بہت سے اقدامات نظر آئیں گے،" بیسینٹ نے کہا۔ "ہم بینکوں سے آغاز کر رہے ہیں اور بینکوں کو بتا رہے ہیں کہ ایرانی رقم رکھنا اور حکومت کی مدد کرنا قابل قبول نہیں ہے۔"






