امریکی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح کے قریب، ایران مذاکرات پر ٹرمپ کا دعویٰ
business

امریکی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح کے قریب، ایران مذاکرات پر ٹرمپ کا دعویٰ

Editorial Team•Aug 4, 2026 · 6:00 AM•4 min read
AI-generated representative image. امریکی اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ بلندیوں کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ ایران مذاکرات پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
Editorial Team
Editorial Team
وال اسٹریٹ میں تیزی اور تیل کی قیمتوں میں کمی، واشنگٹن اور تہران کے بیانات میں امریکہ-اسرائیل ایران جنگ کے تناظر میں مذاکرات پر تضاد

امریکی اسٹاک مارکیٹوں نے پیر کے روز ریکارڈ سطحوں کی جانب زبردست چھلانگ لگائی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، حالانکہ تہران نے واشنگٹن سے کسی بھی براہِ راست بات چیت کی عوامی سطح پر تردید کر دی۔ اس تیزی نے ایس اینڈ پی 500 کو اپنی اب تک کی بلند ترین اختتامی سطح کے انتہائی قریب پہنچا دیا، جبکہ تیل کی قیمتیں تقریباً 5 فیصد گرنے کے بعد منگل کی صبح ایشیائی تجارت میں معمولی بحال ہوئیں۔

مارکیٹ کی یہ نقل و حرکت امریکہ-اسرائیل ایران جنگ میں کشیدگی میں کمی کے کسی بھی اشارے پر سرمایہ کاروں کی شدید حساسیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان کہ وہ تہران کو نئے فوجی حملوں سے قبل معاہدے تک پہنچنے کے لیے "ہر ممکن آخری موقع" دینا چاہتے ہیں، محتاط امید کا پیغام لے کر آیا ہے، تاہم دونوں دارالحکومتوں سے آنے والے متضاد بیانات کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کی نزاکت کو واضح کرتے ہیں۔

مارکیٹ کی اہم ترین نقل و حرکت

ایس اینڈ پی 500 پیر کو 1.5 فیصد چڑھا اور 2 جون کو قائم کردہ 7,620.90 کی اپنی اختتامی ریکارڈ سطح سے معمولی نیچے بند ہوا۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مرکوز نیسڈیک کمپوزٹ 2.1 فیصد اچھل کر اپنی 27,093.90 کی بلند ترین سطح سے 4.3 فیصد نیچے رہا، یہ ریکارڈ بھی 2 جون کو ہی قائم ہوا تھا۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 1.3 فیصد بڑھ کر 53,178.41 کی نئی ریکارڈ بلندی پر پہنچ گیا۔

"میگنیفیشنٹ سیون" میں شامل بیشتر ٹیکنالوجی کمپنیوں نے خاطر خواہ اضافہ درج کیا۔ میٹا پلیٹ فارمز 6 فیصد اضافے کے ساتھ سب سے آگے رہا، جبکہ مائیکروسافٹ، ایمیزون اور الفابیٹ میں 4.4 سے 4.9 فیصد کے درمیان اضافہ ہوا۔ این ویڈیا 2.9 فیصد اور ٹیسلا 3.5 فیصد چڑھی۔ ایپل اس گروپ کی واحد کمپنی تھی جس نے کوئی نمایاں اضافہ درج نہیں کیا۔ کاروبار کے بعد کی تجارت میں بھی تیزی برقرار رہی اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز 0.2 فیصد سے زائد بڑھ گئے۔

سفارتی بے یقینی

مارکیٹ کی یہ تیزی واشنگٹن اور تہران سے آنے والے شدید متضاد بیانات کے پس منظر میں سامنے آئی۔ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور وہ تہران کو نئے حملوں کا سامنا کرنے سے قبل معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے "ہر ممکن آخری موقع" دینا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بیان اس اعلان کے ایک دن بعد آیا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ خلیجی رہنماؤں سے بات چیت کے بعد انہوں نے "دوسری عالمی جنگ کے بعد کا سب سے بڑا حملہ" ملتوی کر دیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو قبل ازیں ایک نیوز کانفرنس میں ٹرمپ کے بیان کی براہِ راست تردید کرتے ہوئے کہا کہ تہران واشنگٹن سے کسی قسم کی بات چیت میں مصروف نہیں ہے اور نہ ہی امریکی حکام سے کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ ہے۔ بقائی نے تصدیق کی کہ ایرانی حکام آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، اور مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مسائل کو "اگلے مراحل" میں حل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

تیل اور ایشیائی مارکیٹوں پر اثرات

برینٹ کروڈ، جو تیل کا بنیادی بین الاقوامی معیار ہے، پیر کو تقریباً 5 فیصد گرا اور منگل کو ایشیائی مارکیٹوں کے کھلنے کے ساتھ ہی اس میں جزوی بحالی دیکھی گئی۔ برینٹ فیوچرز 04:00 جی ایم ٹی تک تقریباً 85 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہے تھے، جو پیر کی بندش کے مقابلے میں 1.3 فیصد سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ایشیائی حصص منگل کو ابتدائی صبح کے منافع کے بعد منفی دائرے میں آ گئے۔ جنوبی کوریا کا کوسپی 1 فیصد گرا، جاپان کا نکی 225 میں 0.7 فیصد کی کمی ہوئی، اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.5 فیصد نیچے آ گیا۔ سم کارپ میں انویسٹمنٹ ڈیسیژن ریسرچ کی منیجنگ ڈائریکٹر میلیسا براؤن نے امریکی تیزی کی شدت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ "نسبتاً منفی جذبات کے پس منظر میں اور اس کی حمایت کرنے والی کسی حقیقی بنیادی وجہ کے بغیر" واقع ہوئی ہے۔

آگے کیا ہے

صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کیونکہ مارکیٹیں ٹرمپ کی سفارتی پیش قدمی کو تہران کی براہِ راست بات چیت سے انکار کے بیانات کے مقابلے میں جانچ رہی ہیں۔ دونوں حکومتوں کے بیانات کے درمیان یہ خلا سرمایہ کاروں کو اس بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دے رہا کہ آیا مذاکرات عملی شکل اختیار کریں گے۔ برینٹ کروڈ 85 ڈالر فی بیرل کے قریب مستحکم ہونے اور امریکی فیوچرز کے کاروبار کے بعد کی تجارت میں اضافے کو برقرار رکھنے کے ساتھ، مارکیٹیں سفارتی محاذ پر ٹھوس پیش رفت کے انتظار میں محتاط امید کا اندازہ لگاتی دکھائی دے رہی ہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!