فوری برآمدی پابندیاں اور اداروں کی بلیک لسٹنگ
چین کی وزارت تجارت نے اعلان کیا کہ امریکا کو ڈرون، ان کے اہم پرزوں اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی تمام ترسیلات اب "سخت انفرادی جانچ پڑتال" سے مشروط ہوں گی اور یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔ وزارت نے ان پابندیوں کے جواز کے طور پر "قومی سلامتی کے تحفظ اور عدم پھیلاؤ سے متعلق چین کے بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل" کی ضرورت کا حوالہ دیا۔
اس کے ساتھ ہی چھ امریکی اداروں کو چین کی جوابی کارروائیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا، جس کے تحت چینی کمپنیوں اور افراد کے لیے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزارت نے ان کے طرز عمل کو "انتہائی قابل مذمت" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے چین کے سنکیانگ اویغور خود مختار علاقے سے متعلق امریکی پابندیوں میں معاونت کی۔
ساتویں کمپنی، کمپلائنس ٹیسٹنگ ایل ایل سی، کو علیحدہ طور پر بلیک لسٹ کیا گیا کیونکہ اس نے امریکی وفاقی مواصلاتی کمیشن (ایف سی سی) کی جانب سے ایسے اقدامات متعارف کرانے میں مدد فراہم کی جن کے بارے میں بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ "چین کی خود مختاری کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔"





