فیفا کی اسپین پر 20 ہزار ڈالر جرمانہ اور اسٹیڈیم بندش کی سزا
sports

فیفا کی اسپین پر 20 ہزار ڈالر جرمانہ اور اسٹیڈیم بندش کی سزا

Editorial Team•Oct 16, 2026 · 6:46 PM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے۔ ایک خالی فٹبال اسٹیڈیم جس میں نشستوں کا ایک حصہ ڈھانپا گیا ہے، جو جزوی اسٹیڈیم بندش کی پابندی کو ظاہر کرتا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
اسلام مخالف نعروں پر فیفا کی ہسپانوی فٹبال فیڈریشن کے خلاف سخت کارروائی، ورلڈ کپ وارم اپ میچ میں امتیازی سلوک پر پابندیاں عائد

فیفا نے ہسپانوی فٹبال فیڈریشن (آر ایف ای ایف) پر 20 ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے اسپین کے اگلے دوستانہ میچ کے لیے اسٹیڈیم کی جزوی بندش کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب مارچ میں مصر کے خلاف ورلڈ کپ وارم اپ میچ کے دوران تماشائیوں نے دو مرتبہ اسلام مخالف نعرے لگائے تھے۔

یہ واقعہ بارسلونا کے قریب واقع آر سی ڈی ای اسٹیڈیم میں پیش آیا جو لا لیگا کلب ایسپانیول کا ہوم گراؤنڈ ہے۔ میچ بغیر کسی گول کے برابر رہا تھا۔ اسپین کے کچھ شائقین نے "جو نہیں کودتا وہ مسلمان ہے" کے نعرے لگائے جس کے بعد عالمی فٹبال کی انتظامیہ نے تادیبی کارروائی کا آغاز کیا۔

یہ پابندیاں بین الاقوامی فٹبال میں امتیازی رویوں سے نمٹنے کے حوالے سے فیفا کی جانب سے ایک اہم قدم کی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ فیفا نے آر ایف ای ایف کے اس دفاع کو مسترد کر دیا کہ لفظ "مسلمان" فطری طور پر توہین آمیز نہیں ہے۔

اس فیصلے سے فیفا کا یہ موقف مزید مستحکم ہوا ہے کہ کوئی بھی لفظ سیاق و سباق کے اعتبار سے امتیازی ہو سکتا ہے چاہے اس میں کوئی صریح گالی استعمال نہ ہوئی ہو۔ اس سے فیڈریشنوں کو شائقین کے رویے کے حوالے سے ان کی ذمہ داری کا واضح پیغام بھی ملتا ہے۔

فیفا کی پابندیاں اور فوری ردعمل

فیفا کی تادیبی کمیٹی نے آر ایف ای ایف پر 20 ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا اور اسپین کے اگلے دوستانہ میچ میں دستیاب نشستوں میں سے کم از کم 15 فیصد بند کرنے کا حکم دیا۔

مارچ کے اس میچ کے دوران یہ نعرہ دو الگ الگ مواقع پر سنا گیا۔ دوسری مرتبہ سنے جانے کے بعد اسٹیڈیم کے اعلان کنندہ نے انتباہ جاری کیا اور اسکور بورڈ پر امتیازی رویے کے خلاف پیغام دکھایا گیا۔

اسپین کے ونگر لامین یامال، جو خود مسلمان ہیں، نے اس وقت ان نعروں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بے ادبی اور ناقابل برداشت قرار دیا تھا اور ذمہ دار افراد کو "جاہل اور نسل پرست" کہا تھا۔

تحقیقات اور تادیبی کارروائی

واقعے کے اگلے ہی روز ہسپانوی پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا جبکہ فیفا نے بعد ازاں آر ایف ای ایف کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی۔

اپنے دفاع میں آر ایف ای ایف نے موقف اختیار کیا کہ لفظ "مسلمان" نہ تو توہین آمیز ہے اور نہ ہی تحقیر پر مبنی، اور یہ کہ شائقین کے رویے کا جائزہ فیفا کے آرٹیکل 17 کے تحت لیا جانا چاہیے جو سیاسی، نظریاتی، مذہبی یا ناگوار پیغامات سے متعلق ہے، نہ کہ آرٹیکل 15 کے تحت جو امتیازی سلوک اور نسل پرستانہ بدسلوکی سے متعلق ہے۔

یہ میچ خود ورلڈ کپ سے قبل ایک وارم اپ فکسچر تھا جس کی وجہ سے امتیازی نعروں کا وقت فٹبال حکام کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث بنا۔

فیفا کمیٹی کا فیصلہ

فیفا کی تادیبی کمیٹی نے آر ایف ای ایف کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 15 کے تحت کسی صریح گالی کے استعمال کی شرط نہیں ہے اور کوئی بھی لفظ جب سیاق و سباق میں "توہین، طنز یا کمتری کے نشان" کے طور پر استعمال ہو تو وہ امتیازی قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ فیصلہ اس اصول کو قائم کرتا ہے کہ نعروں کا مقصد اور اثر اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ استعمال ہونے والے مخصوص الفاظ، اور یہ اصول مستقبل میں بین الاقوامی فٹبال میں امتیازی رویوں کے معاملات کی جانچ کے طریقے کو متاثر کر سکتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

ان پابندیوں کے تحت اسپین کو اپنے اگلے دوستانہ میچ میں کم از کم 15 فیصد نشستیں بند کرنا ہوں گی۔

وائس آف اردو نے اس فیصلے پر تبصرے کے لیے آر ایف ای ایف سے رابطہ کیا ہے۔ ابھی تک ہسپانوی فیڈریشن کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب موصول ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!