اسپین نے 2026 ورلڈ کپ جیت لیا، ایمباپے کو گولڈن بوٹ
sports

اسپین نے 2026 ورلڈ کپ جیت لیا، ایمباپے کو گولڈن بوٹ

Editorial TeamJul 20, 2026 · 10:08 AM5 min read
اتوار کو نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں متبادل کھلاڑی فیران ٹوریس نے 106 ویں منٹ میں گول کر کے ارجنٹائن کو ایکسٹرا ٹائم میں 1-0 سے فتح دلانے کے بعد سپین نے 2026 کا ورلڈ کپ جیت لیا۔
Editorial Team
Editorial Team
ارجنٹائن فائنل میں اضافی وقت میں ہارا، روڈری اور اونائی سیمون سمیت بڑے انفرادی اعزازات

اسپین نے اتوار کو نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں ارجنٹائن کو اضافی وقت میں 0-1 سے ہرا کر 2026 فیفا ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔ میچ کا واحد گول متبادل فیران تورس نے 106ویں منٹ میں کیا، جس کے بعد اسپین نے 80 ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں برتری برقرار رکھتے ہوئے ٹرافی جیت لی۔

ٹائٹل کے ساتھ ساتھ انفرادی اعزازات میں بھی اسپین نمایاں رہا، جبکہ فرانس کے فارورڈ کیلیان ایمباپے ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر رہے اور انہوں نے دوسرا گولڈن بوٹ حاصل کیا۔

یہ فائنل ایک ایسے ٹورنامنٹ کا اختتام تھا جس میں اسپین نے سب سے بڑا اعزاز جیتنے کے ساتھ مختلف اختتامی ایوارڈز بھی سمیٹے، جس سے دفاع، مڈفیلڈ اور نوجوان کھلاڑیوں میں ان کی گہرائی نمایاں ہوئی۔ دوسری طرف اعزازات کی تقسیم نے یہ بھی ظاہر کیا کہ مقابلہ سخت رہا، اور فائنل تک نہ پہنچنے کے باوجود ایمباپے کی گول اسکورنگ خاص طور پر نمایاں رہی۔

کئی ایوارڈز کا فیصلہ ٹورنامنٹ کی قابل پیمائش کارکردگی پر ہوا، جن میں گول، اسسٹ، کلین شیٹس اور مجموعی شمولیت شامل ہیں، جو اس بات کی جھلک دیتے ہیں کہ مقابلے پر سب سے مسلسل اثر کن کھلاڑیوں نے ڈالا۔

2026 ورلڈ کپ کے بڑے ایوارڈز

  • ورلڈ کپ چیمپئن: اسپین، جس نے نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں فائنل میں ارجنٹائن کو شکست دی۔
  • گولڈن بوٹ (زیادہ گول): کیلیان ایمباپے (فرانس)، 10 گول اور 4 اسسٹ، لیونل میسی (ارجنٹائن) کے 8 گول اور 4 اسسٹ سے آگے۔
  • گولڈن بال (بہترین کھلاڑی): روڈری (اسپین)۔ میسی کو سلور بال اور ایمباپے کو برونز بال ملا۔
  • گولڈن گلوو (بہترین گول کیپر): اونائی سیمون (اسپین)، 7 کلین شیٹس کے ساتھ۔
  • بہترین نوجوان کھلاڑی: پاؤ کوبارسی (اسپین)۔
  • فیفا فیئر پلے ایوارڈ: نیدرلینڈز، پورے ٹورنامنٹ میں 3 پیلے کارڈز کے ساتھ۔

فائنل کا فیصلہ کیسے ہوا

اسپین نے ارجنٹائن کے خلاف اضافی وقت میں 0-1 کی فتح کے ساتھ ٹرافی اٹھائی، جہاں بنچ سے آنے والے تورس نے اضافی وقت کے دوسرے حصے کے اختتام کے قریب فیصلہ کن گول کیا۔ میچ کے بعد تورس نے کہا: “یہ گول 47 ملین لوگوں نے کیا، یہ نہ میرا تھا اور نہ ہی 26 کھلاڑیوں میں سے کسی ایک کا۔ یہ ہونا ہی تھا، یہ فاتحانہ گول بننا مقدر تھا۔”

فیفا فیئر پلے ایوارڈ نیدرلینڈز کو ملا، حالانکہ ٹیم ٹورنامنٹ سے جلد باہر ہو گئی تھی۔ راؤنڈ آف 32 میں مراکش نے نیدرلینڈز کو پنالٹیز پر 2-3 سے شکست دی، جبکہ نیدرلینڈز گروپ ایف میں فیورٹس کے طور پر میدان میں اترا تھا۔

2026 کا ٹورنامنٹ مردوں کے ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلا ایڈیشن تھا جس میں 48 ٹیمیں شریک ہوئیں۔ اس کی میزبانی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو نے مشترکہ طور پر کی، جس سے سفر کے تقاضے بڑھے اور 32 ٹیموں کے دور کے مقابلے میں مقابلے کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی۔

اسپین کی ورلڈ کپ میں پہلی بڑی کامیابی 2010 میں آئی تھی، جو یورو 2008 کے ٹائٹل کے بعد حاصل ہوئی۔ اس کے بعد قومی ٹیم ایک طویل تعمیر نو کے مرحلے سے گزری اور اب دوبارہ عروج پر پہنچی ہے۔

اعزازات کے پس منظر میں کارکردگی کے پیمانے

27 سالہ ایمباپے ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی رہے اور انہیں اپنے کیریئر میں ورلڈ کپ کے مجموعی طور پر 22 گولوں کا کریڈٹ دیا گیا، جسے فراہم کردہ مواد میں تاریخ میں سب سے زیادہ قرار دیا گیا۔ گولڈن بوٹ کا فیصلہ اس کے بعد طے ہوا جب انہوں نے انگلینڈ کے خلاف فرانس کے تیسری پوزیشن کے میچ میں دو گول کیے، تاہم یہ میچ انگلینڈ نے 4-6 سے جیتا۔

روڈری نے اسپین کے آٹھ میچوں میں کوئی گول یا اسسٹ کیے بغیر بھی گولڈن بال جیتا۔ ایوارڈ کی وجہ بتاتے ہوئے ان کے مکمل پاسز، طے کردہ فاصلے اور مجموعی شمولیت کے ٹورنامنٹ میں سرفہرست اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا۔ اونائی سیمون کی 7 کلین شیٹس کو ایک ٹورنامنٹ میں نیا ریکارڈ بتایا گیا، جبکہ ورلڈ کپ کیریئر میں ان کی 9 کلین شیٹس انہیں 10 کے ریکارڈ سے ایک قدم دور رکھتی ہیں، یہ ریکارڈ فیبیئن بارتھیز اور پیٹر شلٹن کے پاس مشترکہ طور پر ہے۔

فائنل سے قبل دیے گئے تبصروں میں سابق کھلاڑی ٹوبن ہیتھ نے کوبارسی کو نوجوان کھلاڑیوں میں “سب سے حیران کن نام” قرار دیا، اور اسپین کے دفاع میں ان کے کھیلے گئے منٹس اور مؤثر کردار کو اجاگر کیا۔

فیفا کے ٹورنامنٹ اختتامی جائزے کے مطابق فائنل 19 جولائی 2026 کو ایسٹ رتھرفورڈ میں نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، اور اسپین کو اضافی وقت میں 0-1 کی فتح کے بعد چیمپئن قرار دیا گیا۔

فیفا کی ٹاپ اسکورر رپورٹ میں ایمباپے کو 2026 کا ایڈیڈاس گولڈن بوٹ فاتح بتایا گیا، اور “دوسرا” سے مراد ان کے کیریئر میں گولڈن بوٹ کی مجموعی تعداد ہے، نہ کہ کسی ٹورنامنٹ میں رنر اپ رہنا۔

اب آگے کیا ہوگا

اسپین ٹورنامنٹ سے عالمی چیمپئن کی حیثیت سے رخصت ہوا، اور متعدد انفرادی اعزازات نے مختلف پوزیشنز پر اس کی برتری کو مزید واضح کیا۔ فرانس کے ایمباپے گولڈن بوٹ کے ساتھ روانہ ہوئے، جبکہ ارجنٹائن کے لیونل میسی کو سلور بال دیا گیا۔

فیفا کے ایوارڈز کے ساتھ 2026 ورلڈ کپ کا یہ مرحلہ مکمل ہو گیا، اور فراہم کردہ مواد میں ٹورنامنٹ اعزازات سے متعلق مزید کسی سرکاری فیصلے کا اشارہ نہیں دیا گیا۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!