اعزازات کے پس منظر میں کارکردگی کے پیمانے
27 سالہ ایمباپے ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی رہے اور انہیں اپنے کیریئر میں ورلڈ کپ کے مجموعی طور پر 22 گولوں کا کریڈٹ دیا گیا، جسے فراہم کردہ مواد میں تاریخ میں سب سے زیادہ قرار دیا گیا۔ گولڈن بوٹ کا فیصلہ اس کے بعد طے ہوا جب انہوں نے انگلینڈ کے خلاف فرانس کے تیسری پوزیشن کے میچ میں دو گول کیے، تاہم یہ میچ انگلینڈ نے 4-6 سے جیتا۔
روڈری نے اسپین کے آٹھ میچوں میں کوئی گول یا اسسٹ کیے بغیر بھی گولڈن بال جیتا۔ ایوارڈ کی وجہ بتاتے ہوئے ان کے مکمل پاسز، طے کردہ فاصلے اور مجموعی شمولیت کے ٹورنامنٹ میں سرفہرست اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا۔ اونائی سیمون کی 7 کلین شیٹس کو ایک ٹورنامنٹ میں نیا ریکارڈ بتایا گیا، جبکہ ورلڈ کپ کیریئر میں ان کی 9 کلین شیٹس انہیں 10 کے ریکارڈ سے ایک قدم دور رکھتی ہیں، یہ ریکارڈ فیبیئن بارتھیز اور پیٹر شلٹن کے پاس مشترکہ طور پر ہے۔
فائنل سے قبل دیے گئے تبصروں میں سابق کھلاڑی ٹوبن ہیتھ نے کوبارسی کو نوجوان کھلاڑیوں میں “سب سے حیران کن نام” قرار دیا، اور اسپین کے دفاع میں ان کے کھیلے گئے منٹس اور مؤثر کردار کو اجاگر کیا۔
فیفا کے ٹورنامنٹ اختتامی جائزے کے مطابق فائنل 19 جولائی 2026 کو ایسٹ رتھرفورڈ میں نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، اور اسپین کو اضافی وقت میں 0-1 کی فتح کے بعد چیمپئن قرار دیا گیا۔
فیفا کی ٹاپ اسکورر رپورٹ میں ایمباپے کو 2026 کا ایڈیڈاس گولڈن بوٹ فاتح بتایا گیا، اور “دوسرا” سے مراد ان کے کیریئر میں گولڈن بوٹ کی مجموعی تعداد ہے، نہ کہ کسی ٹورنامنٹ میں رنر اپ رہنا۔