اہواز حملہ: بچوں کے کینسر اسپتال کے قریب امریکی کارروائی
news

اہواز حملہ: بچوں کے کینسر اسپتال کے قریب امریکی کارروائی

Editorial TeamJul 16, 2026 · 9:34 PM5 min read
یہ اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر ہے، جس میں اہواز میں قریبی حملے کی اطلاعات کے بعد اسپتال سے مریضوں کے انخلا کا منظر دکھایا گیا ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
ایران کے الزام پر کیموتھراپی مریضوں کی منتقلی، خوزستان میں تناؤ

ایران نے جمعرات کو امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے اہواز میں بچوں کے کینسر اسپتال کے قریب “وحشیانہ” حملہ کیا، جس کے نتیجے میں شاہد بقائی اسپیشلائزڈ ہسپتال سے کیموتھراپی کروانے والے 211 مریضوں کو نکال کر دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واقعے کو “بزدلانہ جنگی جرم” قرار دیا۔

مرکز کے ایک ڈاکٹر کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید اور اتنا قریب تھا کہ عملے کو ابتدا میں یہی گمان ہوا کہ ہسپتال ہی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان الزامات کے بعد خطے میں یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ تنازع پھیل کر موجودہ محاذوں سے آگے نکل سکتا ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ واقعے نے لڑائی کے دوران شہریوں اور طبی مراکز کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی تیز کر دیے ہیں، اور ایران نے اسے خطے میں دیگر مقامات پر صحت کے مراکز پر ہونے والے حملوں سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔

امریکہ نے ہسپتال کے قریب مبینہ حملے پر تاحال کوئی عوامی ردِعمل نہیں دیا۔

اہواز اور وسیع تر تنازع کی اہم پیش رفت

  • اسماعیل بقائی کے مطابق اہواز میں شاہد بقائی اسپیشلائزڈ ہسپتال سے کیموتھراپی کے 211 مریضوں کو اس وقت منتقل کیا گیا جب قریب میں امریکی حملہ ہوا۔
  • ہسپتال کے منتظم ڈاکٹر مجید بوآذر نے کہا کہ حملوں کے باعث مریضوں کو جگہ چھوڑنا پڑی۔
  • عملے کے ایک رکن نے بتایا کہ انخلا کے دوران آکسیجن اور وینٹی لیٹر پر موجود مریض بھی شامل تھے، جبکہ کئی افراد بچوں کو اٹھائے ہوئے، کچھ مریض آئی وی لائن کے ساتھ اور بعض وہیل چیئرز پر منتقل کیے گئے۔
  • ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ہسپتال کے ڈائریکٹر رضا بازار نے کہا کہ اہواز پر حملوں کے بعد ہسپتال عارضی طور پر خدمات سے باہر ہو گیا۔
  • واشنگٹن نے جمعرات کو ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا، جبکہ تہران نے کہا کہ اس نے اردن اور کویت میں امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا۔

کشیدگی میں اضافے کا پس منظر اور علاقائی انتباہات

تنازع تقریباً پانچ ماہ قبل شروع ہوا تھا اور حالیہ حملوں نے اس اندیشے کو گہرا کر دیا ہے کہ لڑائی موجودہ میدانوں سے باہر بھی پھیل سکتی ہے۔ خلیجی ممالک کے رہنما وسیع تر کشیدگی اور خطے میں شہری ڈھانچے کو ممکنہ نقصان کے خدشات کے باعث الرٹ ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران مذاکرات کی طرف واپس نہ آیا تو وہ آئندہ ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ جواباً وہ پڑوسی خلیجی ممالک میں شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت شہری ڈھانچے پر دانستہ حملے غیر قانونی ہیں اور کئی صورتوں میں جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

ایرانی حکام نے ماضی کے بعض واقعات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ الجزیرہ کے لیے تہران سے رپورٹ کرنے والے رسول سردار کے مطابق اہواز کے ہسپتال کے قریب حملے نے جنگ کے پہلے دن جنوبی ایران میں میناب کے پرائمری اسکول کی بمباری کی یاد تازہ کر دی، جس میں ان کے بقول کم از کم 168 بچے ہلاک ہوئے تھے۔

اہواز، صوبہ خوزستان کا دارالحکومت، عراق اور شمالی خلیج کے قریب واقع ہے اور ایران کی تیل، پیٹروکیمیکل اور صنعتی تنصیبات کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ توانائی کی اہم گزرگاہوں سے قربت اور وقفے وقفے سے بے چینی کی تاریخ، جس میں خوزستان کی عرب اقلیت سے متعلق تناؤ بھی شامل ہے، اس علاقے کو تہران کی دیرینہ سکیورٹی ترجیحات میں شامل رکھتی ہے۔

ایرانی حکام کے بیانات اور پیش کردہ دعوے

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہسپتال کے قریب حملے سے وہاں داخل بچوں میں “شدید کرب اور اضطراب” پیدا ہوا اور ہنگامی انخلا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس واقعے کا موازنہ غزہ میں طبی مراکز کے خلاف اسرائیلی اقدامات سے کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کے معاملے میں ممالک کے لیے معیار یکساں نہیں رکھا جاتا، جسے انہوں نے عالمی جنوب اور عالمی شمال کے درمیان “دوہرے معیار” سے تعبیر کیا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی جمعرات کو ٹیلیگرام پر اسی نوعیت کا الزام دہراتے ہوئے واشنگٹن پر “جنگی جرائم” کا الزام لگایا اور شہری انفرااسٹرکچر پر حملوں کو “اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔

دوسری جانب تہران پر بھی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب نے بحرین، اردن اور کویت میں ایران کے حملوں کو “غدارانہ” کہا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے صرف امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا، تاہم بعض شواہد کے مطابق خلیجی ممالک میں ایرانی حملوں سے شہری انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اہواز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز نے بتایا کہ “بقائی 2 ہسپتال” کے قریب دھماکے ہوئے، اور اسے خون اور کینسر کے امراض کا خصوصی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر اسے عارضی طور پر خدمات سے باہر کر دیا گیا۔ ایرانی میڈیا کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا کہ قریبی دھماکوں کے بعد مریضوں کو دیگر مراکز منتقل کیا گیا، جبکہ بعض کوریج کے مطابق نہ تو کوئی ہلاکت ہوئی اور نہ ہی ہسپتال کے یونٹ کو مادی نقصان پہنچا۔

موجودہ صورتحال اور آگے کیا ہو سکتا ہے

رپورٹنگ میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق اہواز کے ہسپتال کے قریب حملے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کی جا رہی ہے، تاہم واشنگٹن نے اس الزام پر تاحال عوامی طور پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ ادھر ڈیموکریٹ سینیٹرز ٹرمپ انتظامیہ پر زور دے رہے ہیں کہ میناب اسکول کے واقعے کی تحقیقات کے نتائج آئندہ ہفتے کے اندر جاری کیے جائیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ میناب حملے کی ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے، اور اسے یا تو “شرمناک انٹیلی جنس ناکامی” یا “لاپرواہ اور اندھا دھند حملہ” قرار دیا۔ اہواز کے واقعے پر مزید سرکاری معلومات کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!