جہاز رانی کو بڑھتا خطرہ اور خطے میں پھیلاؤ کے خدشات
تازہ بمباری آبنائے ہرمز کے گرد حملوں اور جوابی دعوؤں کے سلسلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ پیر کو آبنائے ہرمز میں یونان کی ملکیت والے دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات آئیں، جبکہ برطانیہ کی یو کے میرٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب بندرگاہی شہر لیما کے نزدیک ایک اور ٹینکر پر حملہ ہوا، جس کے بعد عملے نے جہاز چھوڑ دیا۔
منگل کی صبح آئی آر جی سی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں "غیر محفوظ جنوبی راستے" سے گزرنے کی کوشش کرنے والے مزید دو تیل بردار جہاز دھماکوں اور "بڑی آگ" کی زد میں آئے، اور اس صورتحال کو تنازع کے دوران سمندری عدم تحفظ میں اضافے سے جوڑا۔
یہ محاذ آرائی یمن کی الگ کشیدگی سے بھی جڑتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایران نواز حوثی تحریک نے سعودی عرب کے خلاف ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان نے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ یمن کا تنازع، جو چار برس سے نسبتاً خاموش تھا، دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی کا مرکز رہی ہے کیونکہ یہ خلیج فارس کو کھلے سمندر سے ملانے والا تنگ راستہ ہے، اور یہاں رکاوٹیں عالمی توانائی منڈیوں میں تیزی سے اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ تازہ کشیدگی نے دیگر "چوک پوائنٹس" تک پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں، جن میں بحیرۂ احمر کے جنوبی دہانے پر باب المندب کے قریب جہاز رانی کے راستوں کو لاحق خطرات شامل ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جولائی 2026 کی موجودہ لڑائی اس وقت دوبارہ بھڑکی جب پہلے بیان کی گئی عبوری جنگ بندی ٹوٹ گئی، جس کے بعد امریکی فضائی مہم مسلسل جاری رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کئی راتوں تک حملوں کا تسلسل اس بات کی علامت ہے کہ مقصد ایک وقتی سزا دینے کے بجائے ایرانی صلاحیتوں کو مرحلہ وار کمزور کرنا ہے۔