ایران پر امریکی حملوں کی دسویں رات، خلیج میں ردعمل
news

ایران پر امریکی حملوں کی دسویں رات، خلیج میں ردعمل

Editorial TeamJul 21, 2026 · 5:53 AM6 min read
AI سے تیار کردہ نمائندہ تصویر - امریکہ نے پیر کو ایران پر مسلسل 10ویں رات حملوں کا آغاز کیا
Editorial Team
Editorial Team
سنٹکام کی کارروائی آبنائے ہرمز اور ٹینکر سکیورٹی سے جڑی؛ پاسدارانِ انقلاب کے کویت و بحرین میں اہداف کا دعویٰ

امریکا نے پیر کو ایران پر حملوں کی مسلسل دسویں رات مکمل کی، جبکہ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سیرک، بندر عباس، جزیرہ قشم، شیراز اور اصفہان میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ امریکی سنٹرل کمانڈ (سنٹ کام) نے کہا کہ کارروائی کا مقصد ان ایرانی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اور یہ حملے مشرقی وقت کے مطابق رات 9 بجے (0100 جی ایم ٹی) تک مکمل کر لیے گئے۔

اس پھیلتے ہوئے تبادلۂ حملہ نے خطے کی سلامتی اور بحری نقل و حمل کے خطرات بڑھا دیے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے گرد، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کلیدی راستہ ہے۔ اسی دوران واشنگٹن میں امریکی فوجی ہلاکتوں کے بعد سیاسی دباؤ میں اضافہ اور کانگریس میں امریکی فوجی کارروائی کے دائرہ کار اور مدت پر نئی بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔

عسکری حملے اور جوابی کارروائی کے دعوے

  • سنٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی فوجی کمانڈ سینٹروں، سمندری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ مقامات، اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔
  • اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا کہ اس نے کویت میں جوابی حملے کیے اور متعدد مقامات پر امریکی ہیمارس میزائل نظام، ریڈار، سیٹلائٹ ریسیور، ایک ٹیلی کمیونی کیشن سینٹر اور ایم کیو-9 ڈرون ہینگرز کو ہدف بنایا۔
  • آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے بحرین میں ایک ریڈار اور امریکی فضائی دفاعی نظام تباہ کر دیا۔
  • امریکی حملوں سے کچھ دیر قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکی فوجی اہلکاروں پر ایرانی حملوں کا جواب "کئی گنا" دیا جائے گا، اور دہرایا کہ تجارتی جہازوں پر مزید حملوں کی صورت میں ردعمل زیادہ سخت ہوگا۔

جہاز رانی کو بڑھتا خطرہ اور خطے میں پھیلاؤ کے خدشات

تازہ بمباری آبنائے ہرمز کے گرد حملوں اور جوابی دعوؤں کے سلسلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ پیر کو آبنائے ہرمز میں یونان کی ملکیت والے دو تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات آئیں، جبکہ برطانیہ کی یو کے میرٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب بندرگاہی شہر لیما کے نزدیک ایک اور ٹینکر پر حملہ ہوا، جس کے بعد عملے نے جہاز چھوڑ دیا۔

منگل کی صبح آئی آر جی سی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں "غیر محفوظ جنوبی راستے" سے گزرنے کی کوشش کرنے والے مزید دو تیل بردار جہاز دھماکوں اور "بڑی آگ" کی زد میں آئے، اور اس صورتحال کو تنازع کے دوران سمندری عدم تحفظ میں اضافے سے جوڑا۔

یہ محاذ آرائی یمن کی الگ کشیدگی سے بھی جڑتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایران نواز حوثی تحریک نے سعودی عرب کے خلاف ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان نے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ یمن کا تنازع، جو چار برس سے نسبتاً خاموش تھا، دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی کا مرکز رہی ہے کیونکہ یہ خلیج فارس کو کھلے سمندر سے ملانے والا تنگ راستہ ہے، اور یہاں رکاوٹیں عالمی توانائی منڈیوں میں تیزی سے اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ تازہ کشیدگی نے دیگر "چوک پوائنٹس" تک پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں، جن میں بحیرۂ احمر کے جنوبی دہانے پر باب المندب کے قریب جہاز رانی کے راستوں کو لاحق خطرات شامل ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جولائی 2026 کی موجودہ لڑائی اس وقت دوبارہ بھڑکی جب پہلے بیان کی گئی عبوری جنگ بندی ٹوٹ گئی، جس کے بعد امریکی فضائی مہم مسلسل جاری رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کئی راتوں تک حملوں کا تسلسل اس بات کی علامت ہے کہ مقصد ایک وقتی سزا دینے کے بجائے ایرانی صلاحیتوں کو مرحلہ وار کمزور کرنا ہے۔

سرکاری بیانات اور واشنگٹن میں سیاسی دباؤ

ٹرمپ کی وارننگ حالیہ دنوں میں رپورٹ ہونے والے امریکی جانی نقصانات کے بعد سامنے آئی۔ جمعے کو اردن میں ایک فوجی مقام پر ایرانی میزائل لگنے سے دو امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتہ بتایا گیا، جبکہ شمالی عراق میں ایک اور امریکی سروس ممبر کے مارے جانے کی اطلاع دی گئی۔

امریکی داخلی سیاست میں سینیٹ کے ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما چک شومر نے تنازع ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ڈیموکریٹس ریپبلکنز کو فوجی کارروائیاں روکنے پر ووٹ دینے پر مجبور کریں گے۔ شومر نے ایکس پر لکھا، "ٹرمپ ایران میں اپنی جنگ جتنی دیر بڑھاتا ہے، اتنی دیر ہمارے سروس ممبران خطرے میں رہتے ہیں"، اور کہا کہ سینیٹ ڈیموکریٹس "اس جنگ کو ختم کرنے اور فوج کو گھر واپس لانے" کے لیے ایک اور ووٹ کی کوشش کریں گے۔

وائٹ ہاؤس نے الجزیرہ کو بتایا کہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ٹرمپ کوئی اور فیصلہ نہ کریں، جبکہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی بات چیت جاری ہے۔

سنٹ کام نے رات بہ رات ہونے والی کارروائیوں کو آبنائے ہرمز کے گرد خطرات سے جڑے نظاموں کے خلاف قرار دیا ہے، جن میں میزائل اور ڈرون ڈھانچہ، ساحلی نگرانی، فضائی دفاع، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور لاجسٹکس نوڈز شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کی بڑی رپورٹس میں اس مہم کو جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے اور ہرمز سے سمندری ٹریفک دوبارہ کھلوانے کی کوشش کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری بیانیے میں جواب کو خلیج فارس کے پار میزائل اور ڈرون کارروائی قرار دیا گیا ہے، اور بعض رپورٹنگ میں بحرین اور کویت جیسے خلیجی ممالک میں امریکا کے ہم آہنگ اداروں سے منسوب تنصیبات کے حوالے سے دھمکیوں یا حملوں کے دعوے بھی شامل ہیں۔ تنازع کی نگرانی کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جاری لڑائی کے دوران ایسے سرحد پار دعوؤں کے اثرات اور نقصانات کی فوری طور پر تصدیق مشکل ہو سکتی ہے۔

آگے کن باتوں پر نظر رہے گی

ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں جاری ہیں اور سنٹ کام کے مطابق مہم کی توجہ ایران کی اس صلاحیت کو کم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دوسری جانب آئی آر جی سی کا موقف ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں میں امریکا سے منسلک اثاثوں پر حملوں کے ذریعے جواب دے رہا ہے اور ٹینکروں سے متعلق مزید دعوے بھی سامنے لائے ہیں۔

ایران، کویت اور بحرین میں رپورٹ ہونے والی کارروائیوں سے متعلق نقصانات اور جانی نقصان کی تفصیلات دستیاب بیانات میں فراہم نہیں کی گئیں، اور صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، جبکہ واشنگٹن کے مطابق عسکری کارروائی اور سفارتی رابطے ساتھ ساتھ جاری ہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!