آبنائے ہرمز میں جہاز پر مبینہ حملہ، امریکا کی ایران پر تیسری کارروائی
news

آبنائے ہرمز میں جہاز پر مبینہ حملہ، امریکا کی ایران پر تیسری کارروائی

Editorial TeamJul 12, 2026 · 6:49 AM5 min read
اے آئی سے تیار کردہ نمائندہ تصویر: آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر جہاز کی نگرانی، جہاں حملوں کی اطلاعات اور علاقائی کشیدگی کے بعد سکیورٹی سخت ہے۔
Editorial Team
Editorial Team
سینٹکام کے دعوے کے مطابق 140 کے قریب اہداف پر حملے؛ پاسدارانِ انقلاب کی جہاز رانی بند رکھنے کی دھمکی

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکا نے ہفتے کی شام (مقامی وقت) ایران کے خلاف اسی ہفتے حملوں کی تیسری لہر شروع کی۔ سینٹکام نے اسے آبنائے ہرمز میں قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز جی ایف ایس گلیکسی پر ایران کی اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے مبینہ “کھلے” حملے کے جواب میں کارروائی قرار دیا۔ امریکی کمانڈ کے مطابق جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی جبکہ عملے کا ایک رکن لاپتا ہے۔

اس تازہ جھڑپ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو فوری خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ آبنائے ایک اسٹریٹجک گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی سمندری راستے سے ہونے والی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا تقریباً چوتھائی حصہ گزرتا ہے۔ صورتِ حال امریکا اور ایران کے درمیان 17 جون کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بھی مزید دباؤ ڈال رہی ہے، جس کا مقصد دیرپا جنگ بندی کے لیے گنجائش پیدا کرنا اور امن مذاکرات کے لیے وقت حاصل کرنا تھا۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایران کا امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کا منصوبہ بھی زیرِ بحث رہا ہے۔

اہم پیش رفت

  • سینٹکام کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں تقریباً 140 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل اور ڈرون سے متعلق ٹھکانے، اسلحہ گودام اور ریڈار تنصیبات شامل ہیں۔

  • امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے حملے شروع ہونے کے بعد ایکس پر لکھا: “ایران نے غلط فیصلہ کیا۔ اب اسے اس کی قیمت چکانی ہوگی۔”

  • ایران کے ریاستی وابستہ نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے جنوبی ایران میں حملوں کی اطلاع دی، جن میں چابہار، بوشہر اور سیریک کی بندرگاہیں شامل ہیں۔ پریس ٹی وی کے مطابق ان مقامات کو ہفتے کے آغاز میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ تہران کے اوپر فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔

  • ایران نے جواب میں خلیجی ممالک کی جانب میزائل داغے، جبکہ قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین میں فضائی حملے کے الرٹ جاری ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

  • آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پر ایک کمانڈ سینٹر اور ایسے ہینگرز “تباہ” کر دیے ہیں جہاں امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرون موجود تھے، اور یہ کہ اس نے عمان میں بندرگاہِ دقم پر امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے معاونت اور ایندھن بھرنے کی سہولت کو بھی نشانہ بنایا۔

  • پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی فورسز نے کویت میں امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، ایک اسلحہ گودام اور ایک ریڈار سائٹ، جبکہ بحرین میں ایک ریڈار سائٹ پر ڈرون حملے کیے۔

  • امریکی حملوں سے کچھ دیر پہلے آئی آر جی سی بحریہ نے کہا کہ جب تک امریکا خطے میں اپنی “غیر قانونی مداخلتیں” ختم نہیں کرتا آبنائے ہرمز تمام جہاز رانی کے لیے بند رہے گی، اور خبردار کیا کہ “کسی بھی مزید جارحیت” کی صورت میں وہ امریکی اڈّوں پر حملہ کرے گی۔

پس منظر اور سیاق

تازہ حملے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں سمندری سلامتی سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں کیے گئے ہیں۔ ہفتے کے آغاز میں تین جہازوں کو پروجیکٹائل لگنے کی اطلاعات تھیں، جس کے بعد امریکا، سعودی عرب اور قطر نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ٹینکروں کو نشانہ بنانا بند کرے۔

ہفتے کے روز جاری اپنے بیان میں آئی آر جی سی نے پہلے پیش آنے والے “واقعات” کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا اور واشنگٹن پر الزام لگایا کہ اس نے عمانی ساحل کے قریب ایک شپنگ لین کو “غیر قانونی طور پر نامزد” کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اسی راستے کو استعمال کرتے ہوئے آبنائے میں جہازوں کی رہنمائی کرتا رہا ہے۔ خطے میں وسیع تر تناؤ کے پس منظر کے لیے اسرائیلی حملوں پر عالمی ردعمل بھی اہم حوالہ سمجھا جا رہا ہے۔

تفصیلات اور شواہد

سینٹکام نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکی حملوں کی نئی لہر جی ایف ایس گلیکسی پر مبینہ حملے کے بعد شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم میں آگ لگی۔ سینٹکام کے مطابق عملے کا ایک رکن تاحال لاپتا ہے۔

امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا: “امریکا بھاری قیمت عائد کر رہا ہے اور ایران کی اس صلاحیت کو مسلسل کمزور بنا رہا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے سے آزادانہ طور پر گزرنے والے شہری ملاحوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کر سکے۔”

موجودہ صورتِ حال اور آئندہ کے اقدامات

ہفتے کی شام (مقامی وقت) تک امریکا کا کہنا تھا کہ اس نے حملوں کا ایک نیا سلسلہ انجام دیا ہے اور اسے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق مبینہ واقعے سے جوڑا ہے۔ دوسری طرف ایران نے سرکاری میڈیا کے ذریعے نشر ہونے والے آئی آر جی سی کے بیانات میں کہا کہ وہ آبنائے ہرمز بند رکھے گا اور خبردار کیا کہ مزید کارروائی کی صورت میں امریکی اڈّوں پر اضافی حملے کیے جائیں گے۔

فراہم کردہ مواد میں کسی آزاد ذریعے سے اس بات کی تصدیق موجود نہیں کہ دونوں میں سے کسی فریق کے دعووں کے مطابق حملوں اور میزائل و ڈرون کارروائیوں سے کس نوعیت کا نقصان ہوا۔ جی ایف ایس گلیکسی کے لاپتا عملے کے رکن اور اس بات سے متعلق بھی مزید اپ ڈیٹس کا انتظار ہے کہ آیا آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بحال ہو سکے گی یا نہیں۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!