اہم پیش رفت
سینٹکام کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں تقریباً 140 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل اور ڈرون سے متعلق ٹھکانے، اسلحہ گودام اور ریڈار تنصیبات شامل ہیں۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے حملے شروع ہونے کے بعد ایکس پر لکھا: “ایران نے غلط فیصلہ کیا۔ اب اسے اس کی قیمت چکانی ہوگی۔”
ایران کے ریاستی وابستہ نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے جنوبی ایران میں حملوں کی اطلاع دی، جن میں چابہار، بوشہر اور سیریک کی بندرگاہیں شامل ہیں۔ پریس ٹی وی کے مطابق ان مقامات کو ہفتے کے آغاز میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ تہران کے اوپر فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔
ایران نے جواب میں خلیجی ممالک کی جانب میزائل داغے، جبکہ قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین میں فضائی حملے کے الرٹ جاری ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پر ایک کمانڈ سینٹر اور ایسے ہینگرز “تباہ” کر دیے ہیں جہاں امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرون موجود تھے، اور یہ کہ اس نے عمان میں بندرگاہِ دقم پر امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے معاونت اور ایندھن بھرنے کی سہولت کو بھی نشانہ بنایا۔
پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی فورسز نے کویت میں امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، ایک اسلحہ گودام اور ایک ریڈار سائٹ، جبکہ بحرین میں ایک ریڈار سائٹ پر ڈرون حملے کیے۔
امریکی حملوں سے کچھ دیر پہلے آئی آر جی سی بحریہ نے کہا کہ جب تک امریکا خطے میں اپنی “غیر قانونی مداخلتیں” ختم نہیں کرتا آبنائے ہرمز تمام جہاز رانی کے لیے بند رہے گی، اور خبردار کیا کہ “کسی بھی مزید جارحیت” کی صورت میں وہ امریکی اڈّوں پر حملہ کرے گی۔






